مکافاتِ عمل

سعیدہ انور گل۔ لاہور ۔۔۔
  یاالٰہی سارا ملک پانی میں ڈوبا ہواہے اور ہم پینے کیلئے چند قطروں کو ترس رہے ہیں ہم پر رحم فرما۔فرجاد نے جلدی سے کیمپ سے باہر نکل کر آس پاس نظر دوڑائی یہاں تو ہر کوئی مصیبت کا مارا تھا کس سے فریاد کرتا کس کو بتاتا کہ وہ جو کل تک شاہانہ زندگی گزار رہا تھا آج پینے کیلئے پانی کو ترس رہا ہے ۔آخرکار کافی کوشش کے بعد اسے ایک عورت سے تھوڑا سا پانی ملا اس کا اپنا گلا سوکھ گیا تھا لیکن وہ تو خود کو فنا کرکے اپنے گھر والوں کی پیاس بجھانا  چاہتا تھا جونہی گھر میں داخل ہوا دیکھا کہ بوڑھی ماں چارپائی پر اوندھی پڑی ہے بیماری نے اسے ادھ موا کردیا تھا اس دوران اس کی بیٹی مسلسل پانی کیلئے پکارتی رہی  اس کے منہ میں چند قطرے پانی کے ٹپکائے لیکن جونہی ماں پر نظر پڑی اور اللہ کا حکم جانتے ہوئے پہلے والدہ کو پانی کا گلاس تھمایا اس نے دو گھونٹ بھی گلے سے نیچے نہ اتارے ہوں گے کہ پانی کا گلاس ہاتھ سے چھوٹا اوراس نے نظریں اُٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا بیوی جو بڑی دیر سے خاموش بیٹھی تھی آگے بڑھ کر تسلی دینے لگی اور کہا یہ تو سب اس کے مقدر میں لکھا تھا پھر اپنی ماں کی طرف دیکھا جو خوف سے یوں کنگ ہو گئی اس نے بڑی مشکل سے اپنی والدہ کو حوصلہ دیا اور بھاگ کر اپنی بیٹی کے پاس پہنچا جس کا پیاس سے برا حال ہو رہا تھا۔
فرجاد کو اپنے بیتے دنوں کی یاد آنے لگی وہ دو بہن بھائی تھے فرجاد اور کلثوم ان کے والد ایک سرکاری ادارے میں ملازم تھے جن سے گزر بسر بڑی مشکل سے ہوتی،اس کے باوجود وہ اپنے بچوں شہر کے اعلیٰ سکول میں بھیج رہے تھے فرجاد اپنے ہم عمر بچوں کو دیکھ کر اکثر ان جیسی چیزوں کی فرمائش کرتااس کی والدہ بڑے پیار سے اسے سمجھاتی کہ بیٹا انسان کو چاہیے کہ وہ ہر چیز محنت سے حاصل کرے کیونکہ بغیر محنت کے حاصل کی ہوئی چیز کی قدر نہیں ہوتی۔وقت گزرنے کے ساتھ فرجاد کو معلوم ہوا کہ اس کے والدین اتنی قیمتی چیزیں خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔ 
اس نے گریجوایشن کے بعد تعلیم کو خیرباد کہہ دیا فرجاد کو یوں محسوس ہوتا کہ جیسے سال مہینے میں تبدیل ہو گئے ہیں اس کے والد کے انتقال اور پھر کلثوم کی شادی نے گھر کی رونق کم کردی تھی اس کی والدہ نے یہ دیکھتے ہوئے فرجاد کی شادی ایک اچھے گھرانے میں کردی تھی ، گھر کی ضرورتوں کے ساتھ فرجاد کی تلخی بھی بڑھتی گئی اس نے روپیہ حاصل کرنے کیلئے ہرطریقہ استعمال کیا۔دوسری طرف کلثوم کے گھریلو حالات نہایت خراب تھے  اس کے باوجود وہ کبھی بھی بھائی سے مالی مددکیلئے نہ گئی  نہ ہی بھائی کے دل میں بہن کیلئے ہمدردی کے آثار پیدا ہوئے۔ 
اچانک کلثوم کا شوہر آصف ایک حادثے میں شدید زخمی ہو گیا ڈاکٹروں نے بتایا کہ اسکے علاج پردولاکھ خرچہ آئے گا،مجبوری نے بہن کو بھائی کے گھر کا سوالی بنا دیا  کلثوم نے پیسے مانگے تو فرجاد نے اپنے ہی مسائل بیان کرنا شروع کردیئے کلثوم اچھی طرح جانتی تھی کہ بھائی کے پاس پیسوں کی کمی نہیںاس لیے اس نے باپ کے گھر میں حصے کا مطالبہ کردیا گویا فرجاد یہی چاہتا تھا اس نے کہا اباجان والا مکان تو کب کا بک چکا ہے اس وقت جہاں تم کھڑی ہو یہ میری اپنی کمائی کا ہے اور اس میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ،کلثوم روتی ہوئی واپس چلی گئی ۔کچھ دن بعد پتہ چلا کہ فرجاد کی اکلوتی بیٹی کو کینسر ہے لیکن اس بات سے بھی اس میں کوئی نرمی نہ آئی وقت اپنی رفتار سے گزر رہا تھا اچانک سیلاب نے سارے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اسی سیلاب کے غضب میں فرجاد بھی آگیا تھا وہ شخص جو اپنی بہن کو دو لاکھ دینے سے انکاری تھا آج اپنی کروڑوں کی جائیداد اپنی آنکھوں سے ڈوبتے دیکھ رہا تھا  آج وہ جان چکا تھا کہ بغیر محنت اور بددیانتی سے حاصل کی گئی چیز جیسے آتی ہے ویسے ہی چلی جاتی لیکن ایسی باتوں کو جاننے کیلئے ہمیشہ ہی وقت لگتا ہے۔