بچوں میں فاسٹ فوڈ کا بڑھتا ہوا رجحان

مریم فیاض ۔۔۔
بچوں کی اکثریت پھل اور سبزیاں  کھانا پسند نہیں کرتی وٹا منز سے بھر پورتازہ پھل اور سبزیاں بچوں کی جسمانی وذہنی نشو نما میں  اضافے کا باعث  بنتی ہیں۔ آج کل کے بچے ان تازہ اور خالص غذائوں  سے دور کیوں بھاگتے ہیں؟ اس لئے کہ جگہ جگہ فاسٹ فورڈ کی دُکانیں ہیں یہ  کھانے میں لذیز تو ہوتا ہے لیکن اس کی تیاری خفظان صحت کے اصو لوں کے مطابق نہیں ہوتی، سبزیوں کی بجائے فاسٹ فوڈ نے قبضہ جما لیا ہے  اور بچے پھل سبزیوں کی بجائے اسکو ترجیح دیتے ہیں  ملک بھر میں 50 فیصد سے زیادہ بچے فاسٹ فوڈ کا استعمال کر کے غذائیت کی کمی کا شکار ہو رہے ہیں بعض مائیں  اپنی آسانی کے لئے کھانے کے علاوہ بچوں کو لنچ میں فاسٹ فوڈ دینے کا سہارا لیتی ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق  پاکستان کے بچوں میں غذائیت  کی کمی کی شرح   39 فیصد ہے بچوں کا عمر کے لحاظ سے  وزن کم ہے  ماہرین کے مطابق ہفتے میں 3 روز فاسٹ فوڈ استعمال کرنے سے  دمہ ‘ قبض جیسے امراض  کے 27 فیصد خطرات ہوتے   ہیں۔ ہیلتھ سکالرز کے مطابق فاسٹ فوڈ کھانے سے بچوں  میں دمہ‘ قبض‘ خارش اور آنکھوں میں مسلسل پانی آنے کے خطرات میں بے حد اضافہ ہو سکتا ہے۔ فاسٹ فوڈ میں موجود چکنائی جسم کے مدافعتی نظام  کو متاثر کرتی ہے۔ پھلوں اور سبزیوں کی کثرت سے استعمال سے اس مرض کے خلاف مدافعت  بڑھائی جا سکتی ہے۔ ہیلتھ سکالرز کا مزید کہنا ہے کہ پھلوں کے کثرت سے استعمال سے ایسے امراض میں 11سے 14 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔ 
نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور نے ایک  سکول کے بچوں میں جائزہ  کے بعد بتایا کہ 7 فیصد بچے  آنتوں اور دیگر بیماریوں میں مبتلا تھے اور واضح طور پر ان کی مائیں ان بچوں کی مختلف غذائیں دیتی  تھیں جوبیماریوںکا شکار  نہ تھے۔ ان کے جائزہ کے مطابق پھل سبزیاں کھانے والے بچوں کے مقابلے فاسٹ فوڈ کھانے والے بچے 8 سے  زیادہ بیماریوں میں مبتلا تھے۔ اور جو بچے  پھل سبزیاں پسند کرتے تھے وہ بیماریوں سے محفوظ تھے۔  ان بیماریوں سے بچنے کے لئے  اپنی غذائی عادت میں ضرور تبدیلی‘  لائیں تاکہ   بچوں کوان بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔