بلوچستان میں نواب زہری کے قافلے میں بم دھماکہ

امجد عزیز بھٹی
پاکستانی سرحد سے ملحقہ ایرانی علاقے میں منگل کے روز آنے والے شدید ترین زلزلے نے بلوچستان کے شہر ماشکیل میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی جس کے نتیجے میں 41 افراد جاں بحق، 150 سے زائد زخمی اور ہزاروں بے گھر ہو گئے جبکہ سینکڑوں مکانات بھی منہدم ہو گئے 7.8 رچٹر سکیل سے زائد شدت کا یہ زلزلہ خطے کے کئی ممالک تک محسوس کیا گیا جن میں ایران کے علاوہ پاکستان، افغانستان، بھارت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امامات کے ممالک شامل ہیں تاہم جانی و مالی نقصان صرف ایران اور پاکستان خاص طور پر بلوچستان میں ہوا۔ ماشکیل شہر پاک ایران سرحد سے ملحقہ علاقہ ہے جو بلوچستان کا انتہائی پسماندہ حصہ شمار ہوتا ہے جہاں بنیادی سہولیات ناپید اور مواصلات کا نظام تک موجود نہیں ہے تاہم پاک فوج اور لیوی کے جوانوں نے اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی امداد کے لئے فوری امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں لیکن دور دراز علاقہ ہونے اور سہولیات کے فقدان کے باعث عام شہری اپنے بھائیوں کی براہ راست امداد سے محروم رہے۔ نگران صوبائی حکومت نے بھی ان امدادی سرگرمیوں میں برابر شریک ہے علاقے میں زلزلے کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔ زلزلے سے کچے مکانات زمین بوس ہو گئے ہیں۔ لوگ کھلے آسمان تلے پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ بلوچستان میں ہونے والے نقصانات کا فوری اندازہ تو لگانا فی الحال مشکل ہے تاہم ایک اندازے کے مطابق اس زلزلے سے جانی و مالی نقصانات زیادہ ہیں۔
زلزلے سے کچھ دیر قبل بلوچستان کے علاقے خضدار میں (ن) لیگ کے صوبائی صدر چیف آف جھالروان نواب ثناءاللہ زہری کے قافلے کو سڑک کے قریب نصب ریمورٹ کنٹرول بم سے ن شانہ بنایا گیا۔ اس بم دھماکے میں اُن کے بھائی میر مہراللہ زہری، بیٹا میر سکندر زہری، بھتیجا میر زیب زہری اور ایک محافظ جاں بحق جبکہ 12 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ اس کے فوراً بعد ان کے ایک اور بھتیجے میر دووا خان زہری کے قافلے کو بھی منگچر کے قریب بم دھماکے سے اڑانے کی کوشش کی گئی لیکن خوش قسمتی سے وہ اس حملے میں محفوظ رہے۔ ان واقعات کی ذمہ داری ایک مسلم بلوچ کالعدم تنظیم نے قبول کی ہے جو بلوچستان میں آئندہ انتخابات کے انعقاد کے خلاف مزاحمت کا اعلان کر چکی ہے۔ اس اندوہناک واقعے کے اثبات صوبہ بھر میں انتہائی شدت کے ساتھ محسوس کئے گئے اور پارلیمانی سیاست پر یقین رکھنے والی قوتوں کی جانب سے اس واقعے کی شدید مذمت بھی جاری ہے تاہم اس واقعہ نے بلوچستان میں آئندہ عام انتخابات کے بارے میں موجودہ نگران سیٹ اپ اور دیگر ذمہ داروں کی کارکردگی کے بارے میں کئی سوالیہ نشان پیدا کر دیئے ہیں۔ واضح رہے کہ بلوچستان میں کئی ہفتے گزرنے کے باوجود تادم تحریر نگران صوبائی کابینہ تشکیل نہیں دی جاسکی اور نگران وزیراعلیٰ اور گورنر ہی صوبے کے تمام معاملات چلا رہے ہیں۔ مذکورہ واقع نے بلوچستان میں انتخابات کے پُرامن انعقاد کے بارے میں موجودہ حکمرانوں کے اُن حالیہ دعو¶ں کی بھی نفی کردی جن میں انہوں نے کہا تھا کہ انتخابی مرحلہ پُرامن طور پر طے پا جائے گا اور اس واقع کے باعث (ن) لیگ انتخاب مخالف قوتوں کی جانب سے پہلی کارروائی کا شکار بنی ہے۔
آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے بلوچستان میں صورتحال بدستور خدشات کا شکار ہے۔ انتخابات کا انعقاد شروع ہی سے ایک چیلنج تصور کیا جا رہا ہے۔ پارلیمانی سیاست کے مخالفین اور بلوچ نیشنل فرنٹ (بی این ایف) کی جانب سے صوبہ بھر میں 5 مئی سے 11 مئی تک پہیہ جام اور شٹرڈا¶ن کا اعلان کیا گیا ہے تاہم نگران وزیراعلیٰ نواب غوث بخش باروزئی کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل کے ساتھ ساتھ صوبے کے حالات میں بہتری آئے گی اور پولنگ کا دن پُرامن ہوگا، لوگ رائے شماری میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کو یقین دلایا ہے کہ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی اور سب کو یکساں مواقع فراہم کئے جائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ ان کے لندن میں بیٹھے بلوچ رہنما¶ں سے رابطے ہیں۔ بلاشبہ وزیراعلیٰ کے اس دعوے کی ٹھوس وجوہات بھی موجود ہیں جبکہ نگران وزیراعلیٰ نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) اور اس کے سربراہ سردار اختر مینگل الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کریں گے۔ واضح رہے کہ بی این پی کے صدر کی جانب سے تادمِ تحریر ایسے بیانات کا سلسلہ جاری ہے جن میں انتخابی عمل پر تحفظات کا اظہار اور دیگر آپشنز پر غور کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ اس دوران اس جماعت نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے متعدد حلقوں پراپنے امیدواروں کا اعلان بھی کردیا ہے اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ کیلئے کمیٹی بھی تشکیل دیدی ہے۔ پی پی پی اب اپنی سیاسی بقاءکی جنگ تک آ پہنچی ہے۔ قومی سطح پر (ن) لیگ واحد جماعت ہے جس کو یہاں کے قوم پرستوں کی حمایت حاصل ہے اور وہ صوبے میں اپنا اہم کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نظر آرہی ہے۔ یوں تو (ن) لیگ نے قومی اسمبلی کے ایک کے علاوہ دیگر تمام حلقوںمیں اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا اعلان کر دیا ہے لیکن ان تمام حلقوں میں امیدواروں کی نامزدگی اُن کی شخصیت یا قبائلی و علاقائی اہمیت کی بنیاد پر کی گئی ہے ۔ پیرا شوٹ کے ذریعے پارٹی میں آنے والوں کو محض چند دنوں کے اندر جس طرح پذیرائی ملی اس نے ثابت کر دیا ہے کہ اس جماعت کے لئے طویل اور مخلصانہ جدوجہد کرنے کی بجائے وقت آنے پر مفاد حاصل کرنا زیادہ سود مند ہے۔
صوبے میں دیگر سیاسی جماعتوں خاص طور پر جمعیت علماءاسلام (ف)، نیشنل پارٹی اور جے یو آئی نظریاتی نے اپنی سیاسی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ امیدواروں نے پارٹی کارکنوں سے رابطوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ نواب اکبر بگٹی شہید کے پوتے نواب عالی بگٹی نے بھی پیر کے روز ڈیرہ بگٹی میں موجود امن لشکر کے خلاف ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ ڈیرہ بگٹی واپس جانے کے حوالے سے حکومت نے مثبت جواب دیا ہے اور وہ عدالت میں معاملہ طے ہو جانے کے بعد واپسی کے بارے میں دیکھیں گے۔