انتخابی عمل سبوتاز کرنے کیلئے دہشت گردی

 ایم ریاض
 تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے عوامی نیشنل پارٹی ،پاکستان پیپلزپارٹی اورمتحدہ قومی موومنٹ کو عام انتخابات سے قبل حملوں کانشانہ بنانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اے این پی اورپی پی پی خیبرپختونخواکی دوبڑی سیاسی جماعتیں ہیں جوگزشتہ پانچ سال تک مرکزکے ساتھ ساتھ صوبہ خیبرپختونخوامیں بھی برسراقتداررہیں۔ اے این پی نے تحریک طالبان کی ہمیشہ کھل کر مخالفت کی ہے اور اس دوران صوبہ کے طول وعرض میں اس پرحملوں کے دوران 750سے زائدرہنماءاورارکان مارے جا چکے ہیں۔ جن میں سینئرصوبائی وزیربشیراحمدبلورسمیت متعددارکان اسمبلی بھی شامل ہیں۔ یہ انہی دھمکیوں کا نتیجہ تھا کہ انتخابات کے دوران تجزیہ نگار اس صورتحال کوسنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ کیونکہ تحریک طالبان صوبہ خیبرپختونخوااوراس سے ملحقہ قبائلی علاقوں مضبوط نیٹ ورک رکھتی ہے۔ طالبان کی جانب سے سب سے پہلے بنوں میں سابق ایم پی اے حلقہ پی کے 72کے امیدوارعدنان خان وزیرکوریمورٹ کنٹرول بم دھماکہ کانشانہ بنایاگیا،جواس حلقہ سے آزادامیدوارکی حیثیت سے انتخاب لڑرہے ہیں۔ ان کاقصوریہ تھاکہ گزشتہ حکومت میں وہ اے این پی کی حمایت کررہے تھے۔ اس حملہ میں عدعنان وزیرزخمی ہوئے جبکہ ان کے دوساتھی جاں بحق ہوگئے۔ اس کے بعدصوابی ،سوات ،چارسدہ اورپشاورمیںاے این پی کے امیدواروں اوررہنماﺅں کوبم حملو ں کانشانہ بنایاگیا۔جن میں ضلع صوابی سے سابق ایم پی اے حاجی رحمان اللہ ،چارسدہ میں سابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی کے پولیٹیکل سیکرٹری وامیدوارصوبائی اسمبلی سیدمعصوم شاہ اورپشاورمیں سابق صوبائی وزیرارباب جان پر بھی حملہ ہوا لیکن یہ تینوں اہم رہنماءان حملوں میں محفوظ رہے۔ اس دوران پشاورمیں پیپلزپارٹی کے ضلعی صدروقومی اسمبلی کے امیدوارذوالفقارافغانی اورضلع پشاورکے جنرل سیکرٹری صوبائی اسمبلی کے امیدواراکبرخان کے گھروں پردھماکے کئے گئے تاہم ان میں کوئی نقصان نہیں ہوا۔تحریک طالبان کی جانب سے اے این پی کونشانہ بنانے کے اعلان اورصوبہ کے طول وعرض میں اے این پی کے رہنماﺅں پربم حملوں کے واقعات کے بعد اے این پی کے رہنماﺅں نے اپنی انتخابی سرگرمیاں خاصی محدودکرلی ہیں۔عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدراسفندیارولی خان نے اس صورتحال پرشدیداحتجاج کرتے ہوے چیف الیکشن کمشنرفخرالدین جی ابراہیم کوایک خط ارسال کردیاہے جس کی کاپیاں صدرپاکستان،نگران وزیراعظم ،چیف جسٹس سپریم کورٹ اورچاروں صوبوں کے نگران وزرائے اعلیٰ کوبھی ارسال کی گئی ہیں اسفندیارولی خان نے اپنے اس خط میں چیف الیکشن کمشنرکی توجہ اے این پی کے قائدین اورامیدواروںکوملنے والی دھمکیوں اورحملوں کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہاہے کہ اے این پی کولاحق سنگین خطرات کے باوجودالیکشن کمیشن کی ہدایت پر ان کی پارٹی قیادت اورامیدواروںکودی جانے والی تھوڑی بہت سکیورٹی بھی واپس لے لی گئی ہے۔ ایک طرف نگران وزیراعظم نگران حکومت کو سیاسی قائدین اورامیدواروںکوسکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کروا رہے ہیںجبکہ دوسری طرف صوبہ خیبرپختونخواکی نگران حکومت اے این پی کے قائدین اورامیدواروںسے سکیورٹی مکمل طورپرواپس لے رہی ہے۔ اس صورتحال نے اے این پی کیلئے پہلے سے درپیش سیاسی چیلنجز کے ساتھ ووٹروںتک رسائی اورانتخابی مہم چلانا نا ممکن بنادیاہے۔ موجودہ صورتحال اے این پی کے سیاسی مخالفین کو ناجائز فائدہ پہنچا رہی ہے ان امتیازی اقدامات سے ا ے این پی کوکیاپیغام دیاجارہاہے؟اس کا اندازہ بخوبی کیا جا سکتا ہے۔ماضی میںاے این پی کو قید،صعوبتوںاور جلاوطنی کے ذریعہ عوام سے دوررکھاگیااورآج اسے غیرریاستی عناصر(نان سٹیٹ ایکٹرز) کے ذریعے ملک میںکھلے عام دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ کیایہ محض جبرکی ایک تبدیل شدہ شکل ہے؟ اے این پی کے قائد کا مو¿قف ہے کہ سیاسی جماعتیں تو دہشت گردوںکی محض سیاسی اندازمیں مزاحمت کرسکتی ہیںیہ ریاست کافرض ہے کہ وہ دہشت گردی کی لعنت کوکچلے ملک میںآزاداورمنصفانہ انتخابات کے انعقادکیلئے ضروری ہے کہ الیکشن کمشن اور نگران حکومت اے این پی کوملنے والی دہشت گردانہ دھمکیوںکافوری طورپر نوٹس لے اورتمام سیاسی جماعتوںکیلئے انتخابات لڑنے کے یکساںمواقع اورحالات فراہم کرے۔ بصورت دیگر2013کے عام انتخابات آزادانہ اورمنصفانہ نہ ہوںگے اگرالیکشن کمیشن اس کابروقت نوٹس لینے میںناکام ہوئی تودہشت گردوںکوانتخابات پراثراندازہونے ا ورانتخابی نتائج کاتعین کرنے کاموقع ملے گا۔ منگل کی شام پشاورشہرمیں اے این پی کوحملوں کانشانہ بنانے کے واقعہ میںسابق وفاقی وزیرحاجی غلام احمدبلورکے ایک انتخابی جلسہ کوخودکش بم دھماکہ کانشانہ بنایاگیااس واقعہ میں حاجی غلام احمدبلورمعمولی زخمی ہوگئے ہیں جبکہ چھ پولیس اہلکاروں اورصحافی سمیت 18افرادجاں بحق ہوئے ہیں۔حملہ ا س لحاظ سے تشویشناک ہے کہ تحریک طالبان نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اے این پی کے رہنماﺅں اورارکان کونشانہ بنانے کی کارروائیاں جاری رکھنے کااعلان کیا ہے ۔پولیس حکام کے مطابق خودکش حملہ آورکاہدف حاجی غلام احمدبلوراوراے این پی کے رہنماءتھے تاہم ڈیوٹی پرتعینات پولیس اہلکاروں نے اپنی جانوں پرکھیل کرخودکش حملہ آورکواے این پی کے رہنماﺅں اورجلسہ کے اندرپہنچنے نہ دیا۔صوبہ کے نگران وزیراعلی جسٹس(ر)طارق پرویزخان نے اس واقعہ کے فورابعدآل پارٹیزکانفرنس طلب کرلی ہے۔کانفرنس میںتمام سیاسی جماعتوںکے قائدین کومدعوکیاگیاہے ۔ دوسری طرف اے این پی کے قائدین پرحملوںکاسلسلہ بدھ کے روزبھی جاری رہاجب چارسدہ کے علاقہ سرڈھیری میںاے ا ین پی کے رہنمافاروق خان کی گاڑی کوریموٹ کنٹرول بم کانشانہ بنایاگیاجس میںوہ بال بال بچ گئے اس صورتحال نے صوبہ میںجہاںدوبڑی جماعتوںعوامی نیشنل پارٹی اورپاکستان پیپلزپارٹی کے قائدین اورامیدواروںکوخطرات سے دوچارکردیاہے وہاںعوام اوران جماعتوںکے حامیوںمیںبھی سنگین خدشات اورشدیدخوف وہراس پایاجارہاہے۔