نوبت بجتے ہی فقرا کی دھمال شروع ہو جاتی ہے

ڈاکٹر حیدری بابا
حضرت عثمان علی مروندی المعروف سخی لعل شہباز قلندر کا سالانہ عرس سیہون شریف سندھ میں 18،19،20 شعبان 1435ء ہجری کو متواتر تین روز جاری رہے گا۔ اس عظیم الشان میلے میں ہر طرف انسان ہی انسان نظر آتے ہیں، جہاں لعل شہباز کے دھمالی ملنگ  ننگے پاؤںسیاہ لباس پہنے دھمال کی انتظار میں ہوتے ہیں۔ نوبت بجتے ہی دھمال شروع ہو جاتی ہیں۔ اس دھمال میں ہندو مسلم، سیکھ، عیسائی بلا تفریق  سب شامل ہوتے ہیں۔
بودلائی فقراء کا تعلق حضرت بودلا بہار علی سکندر سے ہے جن کا مزار حضرت لعل سرکار شہباز قلندر کے روضہ سے کچھ دور سیہون کے قلعے کے قریب ہے۔ روزانہ سب سے پہلے تہجد کے وقت بودلائی فقراء مزار بودلا بہار علی پر دھمال ڈالتے ہیں جو تھوڑی دیر کے بعد ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے فوراً بعد  یہ  دھمال لعل شہباز قلندر کے روضہ پر شروع ہوجاتی ہے ۔ پھر روزانہ کے معمول  کے مطابق رات کو تہجد کے وقت شروع ہونے والی دھمال صبح کی اذان فجر سے قبل ختم ہو جاتی ہے۔ شام کے وقت بھی دھمال ڈالی جاتی ہے۔ جب درگاہ کا دروازہ بند کیا جاتا ہے تو اس وقت بھی دھمال ڈالتے ہیں یہ تو معمول کی دھمالیں ہیں۔ ان دھمالوں کے لئے چھوٹی نوبتیں استعمال ہوتی ہیں۔ لیکن سالانہ عرس کے موقع پر دھمال کے لئے بڑی بڑی نوبتیں بجائی جاتی ہیں۔
دھمال کیلئے  ایک نوبت درگاہ کے اندر اور ایک درگاہ کے باہر علم کے نیچے رکھے  تھاپ لگائی جاتی ہے۔ جس کی آواز پورے سیہون شریف شہر میں گونجتی ہے۔ جناب غازی عباس علمدار کے علم کے ارد گرد جب  مست قلندر کی بلند آوازوں سے فضا گونج اٹھتی ہے تو یہ منظر قابل دید ہوتا ہے۔ دھمال کی دھمک سے سیہون کی زمین تھر تھرا اٹھتی ہے۔ جب تک نوبت بجتی ہے سب کے سب ایک ہوکر دھمال ڈالتے رہتے ہیں۔ مست قلندر، مست قلندر ان کا ورد ہے۔
یہاں لوگ خوشی سے آتے ہیں اور روحانی سکون حاصل کرتے ہیں، مختلف نسلوں تہذیبوں اور مذاہب کے لوگ عرس کے موقع پر سب آپس میں بھائی بھائی دیکھائی دیتے ہیں۔ یہ مساوات اور اخوت کا زندہ ثبوت ہے۔
 ایک زمانہ تھا کہ سب فقراء عرس کی سالانہ دھمال اکٹھے ڈالا کرتے تھے۔ جب سے فقراء کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے تو اب فقراء اپنی اپنی سنگت کے ہمراہ باری باری دھمال ڈالتے ہیں۔سب سے پہلے ابدال کی کافی کے فقراء دھمال کے لئے آتے ہیں اور اپنے مقررہ وقت کے مطابق دھمال ڈال کر زیارت کیلئے درگاہ کے اندر چلے جاتے ہیں۔ حاضری دینے کے بعد واپس اپنی کافی کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں۔
 ان کے بعد سخی سلطان کے فقراء اپنے روائتی انداز میں جوش و خروش کے ساتھ دھمال ڈالتے ہیں، یہ بھی مزار مبارک پر حاضری دینے کے لئے اندر جاتے ہیں اور زیارت کر کے واپس چلے جاتے ہیں۔ ان کے بعد کچہری کافی والے فقراء کی آمد ہوتی ہے۔ وہ بھی دھمال کر کے مزار پر حاضری دیکر لوٹ جاتے ہیں۔
ان فقراء کے بعد حضرت شاہ صلاح الدین اولادی کے فقراء آتے ہیں، ان کے ساتھ ساتھ حضرت ابراہیم شاہ کے فقراء بودلہ بہار علی سکندر کے فقراء حاکم علی شاہ پٹ والے کے فقراء دھمال ڈال کر زیارت کر کے واپس اپنی اپنی کافیوں میں چلے جاتے ہیں۔
عرس کی دھمال کی روحانی نظارہ عجیب و غریب دلچسپ اور قابل دید ہوتا ہے۔ جمعرات اور دوسرے خاص دنوں پر حضرت بودلہ بہارعلی سکندر سرکار کے مریدین و معتقدین رنگدار لباس پہن کر گھنگرو باندھ کر درگاہ پر دھمال ڈالتے ہیں۔ مزار قلندر پر روزانہ دھمال ہوتی ہے مگر جمعہ کی رات، چاند رات شاد یانے بجتے ہیں۔ (سوائے محرم الحرام کے چاند کے ) مسلمانوں کے ساتھ ہندو بھی عزاداری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔
باوا کرشن گوپال
درگاہ شہباز قلندر میں مختلف قسم کے سازپڑے ہوتے ہیں، ان کو بھیر، داؤ، جھڑ بادل، قدیم، اکھری، سواری اور ڈھول، نوبت وغیرہ کہتے ہیں، ان میں جو نقار ے ہیں، موقع کی نسبت سے ان سے کئی دھنیں بجائی جاتی ہیں۔ ماتم و سوگ ، غم کو ظاہر کرنے کیلئے ڈھڈھ اور خوشی کے اظہار کے لئے شادیانہ اونچی آواز میں بجایا جاتا ہے۔ کسی آمد پر اس کے استقبال کے لئے طبل بجائے جاتے ہیں۔ فقراء کے روحانی رقص کے لئے دھمال سر بجائی جاتی ہے 27 ، رجب کی شب 2 بجے سے جس وقت خدمت شروع ہوتی ہے، اس وقت نقارچی ایک خاص قسم کی دھن بجاتا ہے، اس دھن کو ٹونگڑی کہتے ہیں، عیدالفطر کی چاند رات کو بھی ٹونگڑی بجتی ہے۔
دھمالیوں کے اردگرد دھمال کا نظارہ دیکھنے والے ناظرین اس دوران ذکر الہی، کلمہ توحید، درود، صلوۃٰ کا ورد جاری رکھے ہوتے ہیں ،  حضرت لعل شہبار قلندر نے کیا خوب کہا ہے۔؎
عاشقاں را ذرہ نورش چوں آمد در نظر
عاشق سر مست را دیوانگی از سر گرفت
آپ فرماتے ہیں میں دھمال ڈالتے ڈالتے اپنے محبوب کے سامنے گم سم ہوکر آگ کے مچ میں  کود کر دھمال ڈالتا ہوں یہ عشق حقیقی کا ایک جرأت مندانہ ثبوت ہے۔ جس کیلئے قلندر اپنی جان قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔