شہرہ آفاق دھمال …… دما دم مست قلندر کی مقناطیسیت

خالد بہزاد ہاشمی
حضرت سخی لعل شہباز قلندر کا عرس اس موقع پر ڈالی جانے والی شہرہ آفاق دھمال ’’لال میری پت رکھیو بھلا جھولے لالن سندھڑی دا سیہون دا شہباز قلندر‘‘ کے بغیر ادھورا سمجھا جاتا ہے، اس موقع پر جسے دیکھو اس لافانی دھمال کا اسیر اور اس پر بے ساختہ جھومتا اور رقص کرتا نظر آتا ہے۔ اس شہرہ آفاق دھمال کی یہ استھائی صدیوں سے سینہ بہ سینہ اسی طرح موجود تھی اس طرح دندکتھا اور دیگر روائتی لوک، فوک گیت اور کہاوتیں بھی چلی آ رہی ہیں لیکن اس سندھی دھمال کو شہرہ آفاق شہرت درویش شاعر ساغر صدیقی کے کلام سے حاصل ہوئی اور یہ دھمال انہوں نے 1956ء میں فلم جبرو کیلئے تحریر کی تھی جس کا آج تک کوئی نعم البدل نہیں مل سکا۔ یہ دھمال فضل حسین کی آواز میں ریکارڈ ہوئی جبکہ آہنگ میوزک ڈائریکٹر عاشق حسین کا تھا۔ اسی جبرو فلم کے لئے ساغر صدیقی کا تحریر کردہ اور کوثر پروین کا گایا گیت ’’مینوں ڈنڈیاں کڑا کے دے گیا نی منڈا ماجھے دا بھی بہت مقبول ہوا تھا۔ بعدازاں اسی شہرہ فاق استھائی کے ساتھ معروف نغمہ نگاروں اور شاعروں نے بھی اپنے اپنے رنگ میں عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے دھمال تحریر کی اور خوب شہرت حاصل کی، اور یہ دھمال پنجاب میں آ کر اپنے اپنے رنگ   و آہنگ میں منتقل ہو تی رہی ۔
ہر گانے والے کے لئے حضرت سخی شہباز قلندر کی درگاہ پر حاضری، قوالی اور دھمال لازمی اور ضروری خیال کی جاتی ہے اور ان کے سالانہ عرس مبارک پر ہر سال نوے فیصد گلوکار، میوزیشن، سازندے اور فنکار ضرور شرکت کرتے ہیں۔ آخر وہ کیا سحر اور کشش ہے جو وہ ہر سال شدید گرمی اور حبس میں سینکڑوں میل کا سفر طے کرکے سیہون شریف پہنچتے ہیں۔ دھمال دیکھنے والے زائرین ہوں یا گلوکار، فنکار، لکھاری یا نذرانہ عقیدت پیش کرنے والے فنکار سب ہی ایک ان دیکھے ناقابل بیان طلسم اور وجدانی کیفیت کا شکار نظر آتے ہیں۔ یہ دھمال ان کی روح کو بالیدگی  غنایت اور  رعنایت عطا کرتے ہوئے تصوف کے رنگوں کی پھوار میں سرشار کر دیتی ہے اور وہ بے ساختہ ہو کر دمام دم مست قلندر پر رقص کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
اس دھمال کا فنی سفر نصف صدی سے زیادہ پر محیط ہے۔ فلم دلاں دے سودے میں ملکہ ترنم  نے یہی دھمال اس سوز اور ترنم کے ساتھ گائی جس سے روح کے  تار بھی جھنجھنا اٹھے۔ یہ دھمال فلمسٹار فردوس اور نغمہ پر فلمائی گئی جنہوں نے بال کھول کر اور پائوں میں گھنگرو باندھ کر یہ دھمال اس جذب و مستی کے عالم میں ڈالی جس نے نور جہاں، فردوس اور نغمہ تینوں کو اس دھمال کے حوالے سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ بعدازاں بال کھول کر، سرگھمانے اور بالوں کو اوپر نیچے اور دائیں بائیں گھمانے کی یہ روایت دیگر فلموں اور پروگراموں کی زینت اور جان بننے لگی۔ رمضان المبارک کی ستائیسویں شب کو انتقال کرنے والی ملکہ ترنم مذہبی خاتون تھیں۔ وہ اپنے ہر گیت سے حاصل ہونے والی رقم کا ایک حصہ مستحقین کو خاموشی سے دے دیا کرتیں وہ حضرت سخی شہباز قلندر کی مریدنی تھیں۔ انہوں نے بڑی بڑی ریشمی چادریں درگاہ سخی شہباز قلندر میں لحد مبارک سے چھو کر ان کے علم بنا کر لبرٹی کی رہائش گاہ میں لگا رکھے تھے۔ وہ ہر سال قلندر صاحب کی نیاز بھی عقیدت سے دلایا کرتیں۔ اک نورجہاں کا ذکر ہی کیا معروف گلوکارہ عابدہ پروین بھی درگاہ حضرت سخی شہباز قلندر پر ہی دھمال گاتے ہوئے دریافت ہوئیں اور یہی دھمال ہی ان کی وجہ شہرت بنی۔ دما دم مست قلندر کی دھمال  سن کر اگر   آپ  اپنے پیروں کو رقص کرنے سے روکتے ہیںتو خون کی گردش اور تنفس تیز ہو جاتا ہے اور آپ کی نس نس اور روآں روآں رقص کرنے لگتا ہے اور یہی سخی شہباز قلندر کی زندہ کرامت بھی ہے۔
معروف گلوکار عدیل برکی جو دنیا بھر میں اپنے فن کا مظاہرہ اور یہ دھمال پیش کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے اس شہرہ آفاق دھمال کے حوالے سے کہا کہ دمادم مست قلندر کے ان چار لفظوں میں جو موسیقیت، ردھم اور کمال جادو ہے ان کی مثال نہیں دی جا سکتی۔ یوں تو نصف صدی سے زیادہ عرصہ سے ایک سے ایک اچھی دھمالیں لکھی جا رہی ہیں لیکن دمادم مست قلندر کی     لائنوں اور سحر سے کوئی بھی باہر نہیں آ سکا اور نہ ہی آ سکے گا۔ تصوف کی چاشنی میں ڈوبے یہ چار لفظ قلندر صاحب کے بلند و بالا مرتبہ کی لافانی پہچان بن چکے ہیں۔ عدیل برکی نے کہا کہ قلندر پاک کی اس سے بڑی کرامت اور کیا ہو گی کہ بھٹو سے لیکر شہباز شریف، شیخ رشید اور عمران خان تک تمام بڑے سیاستدان ایک ہی جملہ بار بار کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ اب تو دمادم مست قلندر ہو گا۔ بھلا آخر کیوں؟ سیاسی اکھاڑوں میں بار بار چہرے بدل کرکے آنے والے سیاستدان بھی یہی چار لفظ پکارتے ہیں۔ عدیل برکی نے کہا کہ آج کے عہد کا بڑے سے بڑا گلوکار چاہے وہ غزل، لوک گیت، فوک اور بھنگڑا گاتا ہو اپنے پروگرام کا اختتام ہمیشہ حضرت سخی شہباز قلندر کی اسی دھمال پر کرتا ہے اور یہ گانے کے بعد  اس پر چاہے جتنا لالچ یا دبائو ڈالا جائے وہ کوئی بھی آئٹم سنانا گناہ اور قلندر صاحب کی شان  میں گستاخی سمجھتا ہے ۔ملکہ ترنم نور جہاں کی قلندر صاحب سے عقیدت سب پر آشکارا ہے۔ انہوں نے آخری دنوں میں گائی دھمال اور کورس طلوع سحر میں اپنے ساتھ ظل ہما کو بھی شامل کیا تھا اور ظل ہما نے کورس میں صرف قلندر جھولے لعل کہا تھا جس کے بعد ظل ہما کو بھی شہرت نصیب ہوئی اور ہر طرف سے پذیرائی ملنے لگی۔ عدیل برکی نے کہا کہ میں نے درگاہ شریف پر پروفیسر جواد احمد کو ٹکریں مار مار کر یہ دھمال ڈالتے دیکھا ہے۔ دما دم مست قلندر کا اپنا جنون اور اثر ہے اور اس میں ایسی مقناطیسیت ہے کہ آپ حلقہ قلندر کو توڑ کر باہر نہیں آ سکتے۔ آخر حضرت بابا بلھے شاہ نے بھی تو پائوں میں گھنگھرو باندھ کر محو رقص ہو کر اپنے مرشد کو منایا تھا۔ عدیل برکی  نے کہا کہ دمادم مست قلندر کی دھمال میری پہچان ہے۔ دنیا میں جہاں بھی پرفارم کروں اس کی ہر جگہ فرمائش اور پذیرائی ہوتی ہے۔ الحمرا اور دیگر ہالز میں ہونے والی شام قلندر اور دیگر تقاریب میں قلندر صاحب سے عقیدت کا برملا اظہار ملتا ہے۔