سرزمین سندھ سے خلاف شریعت رسومات مٹا دیں

محمد ارشد خان بلوچ
برصغیر پاک و ہند میں اسلام  تلوار سے نہیں تبلیغ سے پھیلا ہے۔  تبلیغ دین کے سلسلے میں صوفیائے کرام کا  کردار نہایت اہم ہے اور  ان کی خدمات ناقابل فراموش  ہیں۔ ہر قسم  کے کٹھن حالات کا مقابلہ کرکے صحابہ کرام اور اہل بیت کے بعد بلند ترین مقام رکھنے والا یہ گروہ حضور اکرمؐ  کے احکام کی بجا آوری کے لئے قریہ قریہ پہنچا اور کفر  کی اس عظیم نگری کو اللہ کی سلطنت  کا حصہ بنا دیا۔ ہندوستان میں جو جلیل القدر صوفیائے کرام تشریف لائے ان میں خواجہ معین الدین چشتی اجمیری‘ خواجہ بہائوالدین ذکریا ملتانی ‘ بابا فرید الدین شکر گنج‘ مخدوم  حاجی سید محمد عثمان مروندی المعروف قلندر لال شہباز صف اول میں شمار ہوتے  ہیں۔
حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش نے تبلیغ دین سے لاہور  کو ’’نگری داتا دی‘‘ بنا دیا۔ ظلم  کے جادو سے بھر ی اجمیر کی نگری خواجہ ہند کی آمد سے  سلطنت خدا کا حصہ بن گئی۔  ملتان  میں خواجہ بہائوالدین ذکریا کا قیام ہوا اور ملتان مدینتہ الاولیاء  بن گیا۔ سانپوں کی بستی اجودھن میںبابا فرید شکر گنج تشریف لائے۔ ان کی آمد سے زمینی سانپ  ختم ہونے کے ساتھ ساتھ کفر و شرک کے زہریلے ناگ بھی صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ اور جس مرد قلندر نے سندھ کی کایا  پلٹ کر رکھ دی اور جس کی آمد سے سندھ  کے راجوں مہاراجوں کے محلات  زمین بوس ہو گئے اور ذات  پات کے بت پاش پاش ہو کر رہ گئے۔  جہاں خلق خدا میں ہندوستانی‘ ایرانی‘ افغانی اور سندھی کی بجائے  مسلمان  ہونے کا اولین احساس اجاگر ہوا۔ ظلم و بربریت اور رسم ستی کا بازار ماند پڑگیا۔  وہ صوفی بزرگ حضرت سید محمد عثمان مروندی المعروف قلندر لال شہباز تھے۔
حضرت لال شہباز قلندر خطہ مروند  میں ایک بلند پایہ عالم دین کے گھر  561 ہجری بمطابق 1177ء میں پیدا ہوئے۔ آپ   نے سات سال کی عمر میں کلام پاک حفظ کیا اور اپنی ا وائل عمری میں تمام دینی علوم میں ملکہ حاصل کر کے شریعت‘ حقیقت ‘ معرفت ‘ مراقبہ اور نفس کشی کی کٹھن منازل  طے کر کے مدتوں کی عبادت‘ ریاضت اور مجاہدے   کے بعد راہ عشق پر بلند ترین  مقام پایا اور  سید محمد عثمان مروندی قلندر لال شہباز قلندر بن گئے۔
دیگر سلال طریقت مثلاً چشتیہ ‘ سہروردیہ‘ نقشبندیہ اور قادری  وغیرہ کی طرح قلندریہ بھی صوفیائے  کرام کا ایک اہم سلسلہ  ہے ایک روایت کے مطابق پوری دنیا میں صرف ڈھائی قلندر گزرے ہیں جن کی تفصیل یہ ہے
حضرت لال شہباز قلندر
حضرت بو علی قلندر  اور آدھا قلندر بی بی رابعہ بصری ہیں۔
حضرت لال شہباز  قلندر ظاہری اور باطنی علوم  حاصل کرنے کے بعد زندگی کے اہم دور میں داخل ہوئے۔ کربلا معلیٰ‘ نجف اشرف کی زیارت اور حج کی ادائیگی نے قلندر پاک  کے سینے  کو منور کیا۔ قلندری زندگی کا اہم  ترین دور شروع ہوا۔ قلندر پاک  تبلیغ دین کے عظیم مشن پر روانہ ہوئے۔  براستہ ساحل مکران‘ لاہوت و لامکان میں قیام کرتے ہوئے  برصغیر  کے مشہور معروف قدیم تاریخی شہر  ملتان میں تشریف لائے۔  حاکم ملتان نے آپ سے التجا کی کہ کہیں پر مستقلاً  قیام فرمائیں  لیکن سندھ  کی دھرتی قلندر کی آمد کے لئے بے تاب تھی۔ ہندوستان میں جن نامور اور بزرگ صوفیائے کرام سے آپ کی ملاقات ہوئی اور راز و نیاز کی باتیں ہوئیں۔ ان میں  سرفہرست حضرت خواجہ بہائوالدین ذکریا ملتانی ‘ مخدوم جلال الدین ‘ حضرت بابا فرید الدین شکر گنج‘ اور حضرت بو علی قلندر  ہیں۔
آمد سندھ  کے بعد قلندر پاک  نے ساری زندگی تبلیغ اسلام میں گزار دی یہی وجہ ہے کہ سر زمین سندھ پر مسلمان ایک عظیم طاقت  بن کر ابھرے۔ آپ کی تبلیغ دین سے متاثر ہو کر طوائفوں نے بھی اپنا ناپاک و مکروہ پیشہ  ترک کر کے راہ مستقیم اختیار کر لی  اور یوں اس مرد قلندر  کی وجہ سے معاشرے کی عظیم برائی بدکاری کا خاتمہ ہوا۔ سندھ میں بت پرستی کا راج ختم ہوا اور اسلام کا بول بالا ہوا۔  آپ نے یہاں موجود بہت سی خلاف شریعت رسومات کو بھی حرف غلط کی  طرح مٹا دیا۔ ہندو راجہ کے ظلم و ستم اور تبلیغ دین میں بے جا مداخلت کی وجہ سے قلندر کو جلالی کیفیت وارد ہوئی۔  ایک روایت کے مطابق سیہون کا زمین  بوس قلعہ قلندر کے جلال کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
قلندر ایک باوقار شخصیت ہوتا ہے  وہ دینی علوم  پر مکمل ملکہ رکھنے  کے ساتھ ساتھ روحانی علوم  کی حدود کو بھی جانتا ہے۔ وہ کالی کملی والےؐ  کو اپنا رہبر و راہنما جانتا ہے۔ ایسا کوئی فعل انجام نہیں  دیتا جو سرکار مدینہؐ  کو ناپسند ہو۔ دوسرے لفظوں میں قلندر پوری طرح سنت رسولؐ  کے مطابق اپنی زندگی گزارتا ہے قلندر خدا  اور رسول پاک ؐ  کے احکامات کے مطابق تبلیغ  دین کا کام سرانجام دیتا ہے وہ اللہ  تعالیٰ کی مخلوق سے بے حد پیار کرتا ہے۔ قلندر  اپنی ساری زندگی نسل انسانی کی روحانی تربیت اور فلاح  و بہبود کے لئے صرف کر دیتا ہے یہی اس کی زندگی کا عظیم مشن ہوتا ہے۔
 دریائے سندھ کے کنارے  آباد چھوٹی سی بستی سیہون جسے قلندر پاک سے پہلے کوئی خاص اہمیت  حاصل نہ تھی۔ اب سیہون شریف بن کر دنیا میں مشہور  ہے۔ درویشوں  کی اس بستی پر نور کی بارش ہوتی ہے۔ دنیا کے دکھیارے  یہاں آ کر سکون حاصل کرتے   ہیں اس قلندر نگری  میں شاہ و گدا کی کوئی تمیز نہیں ہے۔  بڑے  بڑے صاحب ثروت  و صاحب اقتدار   اس در پر  حاضری دینا  باعث فخر و نجات سمجھتے ہیں۔ ہزاروں نامراد  آئے اور بامراد ہو کر لوٹے۔  لاکھوں بھوکے ننگے حاضر ہوئے اور جھولیاں  بھر بھر  کر لے گئے۔ دل سے مانگی ہوئی دعا  کبھی رد نہیں ہوتی ہے۔ یہاں  بلا لحاظ عقیدہ و مذہب مسلمانوں   کے علاوہ  دوسرے مذاہب کے لوگ بھی حاضری دیتے ہیں۔  ہندوئوں کو بھی قلندر پاک سے  کافی عقیدت  ہے۔ ہندو عرس کے موقع پر حاضر ہو کر خاص رسومات ادا کرتے ہیں۔ سیہون شریف کے ہندو قلندر  کے نام  پر لنگر بھی تقسیم کرتے ہیں جو سارا سال جاری رہتا ہے۔
آپ ذات واحد میں فنا کا مقام حاصل کر چکے تھے اور اس مقام  فنا  پر آپ کو اپنے محبوب کے وصل کی وہ مستی اور سرور نصیب  تھا جو کہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتا۔  آپ وصل خدا میں دلہنوں جیسا لباس پہن  کر ایک خاص قسم کا روحانی رقص کیاکرتے  جوکہ دھمال کہلاتا ہے۔ دھمال کے دوران قلندر پاک مستی و خودی کی حالت میں ’’اللہ ہو‘‘کا ودرد کرتے اور دنیا سے بے نیاز ہو جاتے تھے۔  لیکن دنیا  کی ہر چیز جو اس عالم میں  ان کے قریب ہوتی اس پر بھی وجد کی کیفیت  طاری ہو جاتی اور چاروںا طراف  میں’’اللہ اللہ ہو‘‘ کی آوازیں ابھرنے  لگتیں۔
عرس مبارک  کے دوران خاص دھمالوں کے علاوہ یہاں ہر روز شام  کی نماز کے بعد نوبت پر قلندری دھمال ہوتی  ہے۔ اور گھڑیال کی آواز دنیا والوں کو خبردار کرتی  ہے کہ ابھی وقت ہے اپنے آپ کو  سچا اور پکا مومن بنائو، ریاکاری سے توبہ کرو، قول و فعل کے تضاد سے بچو‘  اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے پیار کرو۔  کالی کملی والےؐ  کو اپنا آخری پیغمبر  مانو تاکہ دنیا اور آخرت  سنوار کر جہنم کی آگ سے بچ سکو۔
 آپ 21 شعبان  673ھ  کو 112 سال  کی عمر میں اس دنیا سے رخصت  ہوئے۔  آپ کے پرشکوہ مزار پاک کا اندرونی دروازہ اور مزار پاک کی جالی چاندی سے ڈھکی ہوئی ہے۔ ایک بیرونی دروازہ سونے سے بنایا گیا ہے۔  آپ کے عرس مبارک 20-19-18  شعبان المعظم کو ہوتا ہے۔ قلندر  پاک کے عرس مبارک میں ہر سال مختلف خطوں کے لاکھوں زائرین حاضری دیتے ہیں۔