حضرت سخی لعل شہباز قلندر… مروند سے سیہون تک

الطاف مجاہد
حیدر آباد سے دادو کی سمت چلیں توسہون کا تاریخی شہر آتاہے جو اپنے قدیمی قلعے‘ کیرتھر کے پہاڑی سلسلے‘ دریائے سندھ سے ملحقہ ساحلی حیثیت سمیت کئی حوالوں سے مشہور ہے۔ لیکن اس کی اصل شناخت حضرت لعل شہباز قلندرؒ کا وجود مسعود ہے جو یہاں مدفون ہیں اور برصغیر ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں نمایاں شہرت کے حامل ہیں۔ سہون ماضی میں ضلع دادو کا حصہ تھا لیکن 2005ء میں اسے منقسم کر کے جامشورو کو ضلعی حیثیت ملی تو سہون کو نوتشکیل ضلع میں شامل کیا گیا۔
سندھ میلوں‘ ٹھیلوں کی دھرتی ہے اور بزرگان دین کے مزارات پر منعقدہ عرس کی تقاریب صوبے کی اس ثقافت کا جزو ہیں جس میں رواداری‘ تحمل‘ برداشت کو بنیادی حیثیت و اہمیت حاصل ہے۔ وادی مہران میں یوں تو لاکھوں بزرگ مدفون ہیں لیکن سچل‘ قلندر اور بھٹائی کو خصوصی مقام میسر ہے۔ اول الذکر کو بھی سہون سے خصوصی نسبت ہے کہ حضرت عبدالوہاب فاروقی المعروف سچل سرمست کے جدامجد خواجہ شہاب الدین فاروقی فاتح سندھ محمد بن قاسم کے ہمراہ سندھ وارد ہوئے تھے اور انہیں سہون کا منتظم‘ والی یا گورنر مقرر کیا گیا تھا۔ یہ منصب اس خاندان کے پاس محمود غزنوی کے غلبے تک موجود رہا۔
سچ یہ ہے کہ اب سہون اور لعل شہباز قلندرؒ لازم و ملزوم ہیں۔ شعبان کے تیسرے ہفتے میں سندھ بھر سے قافلوں کا رخ سہون کی سمت ہوتا ہے جہاں صوبہ بھر سے آنے والے حاضری دے کر من کی مرادیں پاتے ہیں۔ سندھ سنوارنا‘سیوستان‘ سدوسان اور سدومانیا سے سہون تک کے سفر میں اس شہر نے تاریخ کے کئی رخ دیکھے لیکن اسے شہرت بارہویں صدی عیسوی میں ہی ملی جب حضرت لعل شہباز قلندر نے اسے اپنا مسکن بنایا۔ آپ مروند میں پیدا ہوئے جسے کچھ لوگ تبریز کا نواحی قصبہ بتاتے ہیں تو بعض کے خیال میں یہ آذربائیجان کے قریب واقع ہے۔ اس طرح آپ کی تاریخ ولادت میں بھی اختلاف ہیں۔ بیشتر مورخین نے 538ھ پر اتفاق کیا ہے۔ والد کا نام سید ابراہیم کبیر الدین منقول ہے جو اپنے زمانے کی صاحبِ کمال شخصیت بیان کئے جاتے ہیں اور سلسلہ نسب آگے چل کر حضرت امام جعفر صادق ؒسے جا ملتا ہے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد باطنی علوم کے حصول کیلئے بابا ابراہیم کربلائی سے بیعت کی اور خرقہ خلافت کے ملنے پر مکران اور پھر ملتان پہنچے اور مخدوم بہاء الدین ذکریا ملتانیؒ سے حصول فیض کیا۔
آپ سندھ کے ان بزرگان دین میں شمار ہوتے ہیں جو اپنی صوفی منش طبیعت لیکن قلندرانہ کیفیت کے باعث جلالی مزاج کے حامل ہیں۔ آپ کے کشف و کرامات کے درجنوں واقعات مشہور ہیں۔ کہتے ہیں کہ آپ کے دم کردہ پانی سے بیمار شفایاب ہوئے۔ تبلیغ کا انداز سادہ لیکن انداز گفتگو متاثر کن تھا جس کے سبب آپ کی شہرت دور دور تک پھیلی اور ہزارہا افراد نے اسلام قبول کیا اور آپ کے دائرہ محبت میں داخل ہوئے۔ آپ کو یہ مقام بلند کیسے ملا۔ ایک تذکرے میں منقول ہے کہ آپ نے بہت سے سفر کئے اور بزرگان دین کے مزارات پر حاضری دی۔ مشہد مقدس میں امام رضاؒ کے مزار پر مراقبہ میں حج کا حکم ملا تو براستہ عراق حجاز کا سفر اختیار کیا۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہؒ کے مزار پر چلہ کشی اور حضور سرکار غوث پاک کے روضہ اقدس پر کسب فیض کیلئے رکے۔ کہتے ہیں کہ شیخ جیلانیؒ سے خواب میں زیارت کا شرف ملا تو حکم ملا کہ ’’عثمان تم ہمارے قلندر ہو یہاں تمہارا کام مکمل ہوا اُٹھو اور اب اللہ کے گھر کا قرب حاصل کرو‘ پھر بغداد سے نکلے‘ حجاز مقدس تک پیدل گئے۔ راستے میں کربلائے معلیٰ‘ نجف اشرف سمیت تمام مقامات مقدسہ پر حاضری اور مزارات متبرکہ سے فیوض و برکات سمیٹے۔
مکہ معظمہ پہنچے تو غالباً شعبان یا رمضان کا مہینہ تھا۔ سو عمرہ ادا کیا اور پھر حج تک عبادت و ریاضت میں مصروف رہے اور ادائیگی حج مقدسہ کے بعد کم و بیش ایک برس روضہ رسول ؐ پر اس کیفیت میں گزارا کہ گھنٹوں صلوٰۃ و سلام پیش کرتے اور تجلیات و برکات سے مستفیض ہوئے۔ سرکار مدینہ سے ہند کی سمت کوچ کا اشارہ ملا تو حج کے ایام قریب تھے پھر حج ادا کیا اور بغداد میں دربار غوث پاک کی زیارت کے بعد ایران و مکران سے ہوتے ہوئے سندھ اور پھر راجستھان کے راستے اجمیر شریف پہنچے۔ سلطان الہند کی بارگاہ میں چالیس دن کی چلہ کشی میں دہلی جانے کا اذن ملا تو قطب الاقطاب حضرت بختیار کاکیؒ کی خانقاہ عالیہ میں مراقبہ کیا اور کئی دیگر بزرگوں سے اکتساب فیض کیا اور پھر پانی پت پہنچ کر حضرت بوعلی شاہ قلندر سے ملے۔ ایک تذکرے میں منقول ہے کہ سیدنا لعل شہباز قلندر کو شیخ بوعلی بہت عزیز رکھتے تھے‘ منازل طریقت طے کرائیں اور منصب قلندر کے اسرار و رموز بتائے۔ نیز فرمایا ’’عثمان تم ہمارے دوست ہو اور ہمیں بہت عزیز ہو۔ دل چاہتا ہے کہ تم یہیں قیام کرو لیکن مشیت ایزدی یہ ہے کہ اہلِ سندھ کو تم سے فائدہ پہنچے اس لئے پہلے ملتان کا رخ کرو پھر قدرت تمہاری خود رہنمائی کرے گی۔ چنانچہ آپ اجمیر شریف سے لاہور کے راستے ملتان پہنچے۔ اس دوران آپ نے حضرت داتا گنج بخشؒ کے مزار پر خصوصی ریاضت کی۔ پھر ملتان جو مدینتہ الاولیاء ہے‘ وہاں پہنچے اور اس عہد کے اولیائے عظام سے اپنے حصے کے اعزازات حاصل کئے اور سہون کا سفر اختیار کیا۔
 یہ 649ھ کا ذکر ہے جب سندھ کے اس شہر میں سماجی برائیوں کا غلبہ تھا اور فحاشی کا بازار گرم تھا۔ آپ کے آتے ہی قدرتی طور پر اس کی رونقیں ماند پڑ گئیں‘ عورتوں اور وہاں آنے والے مردوں کے دل نیکی کی سمت مائل ہوئے تو بدکاروں نے آپ کو جادوگر قرار دیدیا لیکن آپ کی ہیبت و جلال کا یہ عالم تھا کہ حملہ آوروں کا گروہ سامنے آیا تو کانپنے لگا اور معافی کا طلبگار ہوا۔ اس دور میں سہون سے ملحقہ بستی کے لوگوں نے آپ کا مذاق اُڑایا اور آپ کے خادم خاص شیخ بودلہ کو شہید کر دیا تو آپ نے عالم جلال میں اپنے پانی پینے کے کٹورے کو الٹا کے زمین پر  ایسا پٹخا‘      کہ  اسی وقت وہ بستی اُلٹ گئی۔ آج بھی سہون کے باہر پہاڑی جسے عقیدتمند ’’عتاب زدہ بستی‘‘ بتاتے ہیں‘ کی کھدائی ہوتی ہے تو اس میں سے برتن‘ سکے اور انسانی ہڈیاں نکلتی ہیں۔
سہون میں آپ نے کم و بیش 8 برس قیام کیا۔ اس دوران لاکھوں افراد مشرف بہ اسلام ہوئے اور ہزاروں راہ راست پر آئے۔ سندھ کے دور دراز مقامات تک آپ نے اسلامی تعلیمات کو پھیلایا اور سچ یہ ہے کہ پاک و ہند بلکہ ایران‘ افغانستان اور وسطی ایشیا تک سہون نے آپ ہی کی وجہ سے شہرت پائی۔
آپ لعل شہباز اور قلندر کے القابات سے معروف ہیں۔  یہ بھی مشہور ہے کہ محفل سماع میں آپ جب دھمال ڈالتے تو تلوئوں سے بہنے والا خون جس پتھر پر پڑتا وہ لعل بن جاتا۔ اسی طرح بعض بزرگوں نے تحریر کیا ہے کہ آپ عالم جذب میں پتھروں کو الٹ پلٹ رہے تھے  کہ کسی نے آ کر کہاکہ بزرگوں کو تو لعل و جواہر سے کھیلنا چاہئے۔ آپ کھڑے ہوئے اور جھولی میں پڑے تمام پتھر زمین پر پھینکے تو وہ لعل بن چکے تھے۔ شہباز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ کے کسی بے گناہ مرید کو حاکم وقت کے حکم پر پھانسی دی جا رہی تھی‘ گلے میں پھندا ڈالا جا چکا تھا کہ آپ نے ایک جست لگائی اور مرید کو دار پر سے اُٹھا لائے۔ چنانچہ ہم عصروں نے شہباز کا خطاب دیا۔ قلندر کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ آپ کا تعلق تصوف کے سلسلہ قادریہ سے تھا اور ان ہی تینوں خطابات سے آپ نے شہرت پائی۔ آپ کا علمی مقام و مرتبہ بھی خاصا بلند ہے۔ آپ کی شاعری کے مجموعے ’’کشکول‘‘ کو فارسی پر عبور رکھنے والے افراد نے قلندرانہ جذب و مستی کی کیفیت کا آئینہ دار قرار دیا ہے۔ کئی کتب میں مذکور ہے کہ سندھ کے دینی مدارس میں صرف و نحو کی جو تعلیم انگریز عہد سے قبل دی جاتی تھی اس کے نصاب میں شامل ’’میزان الصرف‘‘ حضرت لعل شہباز قلندر کی تصنیف تھی۔ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی کے حوالے سے علامہ غلام مصطفی قاسمی نے اپنی تصنیف ’’مدح سندھ‘‘ میں آپ کے علم و فضل اور متعدد کتب کا تذکرہ کیا ہے۔
آپ نے  21 شعبان بمطابق 637ھ کو وفات پائی اور سہون میں مدفون ہوئے۔ فیروز شاہ تغلق کے عہد میں رکن الدین عرف ملک اختیار الدین نے آپ کا روضہ اقدس تعمیر کرایا جو آج بھی مرجع خاص و عام ہے اور دنیا بھر سے لاکھوں افراد سارا سال یہاں حاضری دیتے ۔آپ کا  7سو 62واں عرس ہر برس کی طرح اس بار بھی 18تا 20شعبان بمطابق 17تا 19جون 2014 سہون شریف میں عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جائے گا۔