ہیلتھ انشورنس کارڈ ........ ہر سرکاری ہسپتال کیلئے کارآمد ہو گا

فرزانہ چودھری
صوبائی وزیر صحت اور انسانی حقوق و اقلیتی امور خلیل طاہر سندھو 2008ءمیں پہلی بار رکن اسمبلی بنے ۔ انہوں نے 1994ءمیں پنجاب یونیورسٹی لاءکالج سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ مئی 2013ءمیں وہ دوسری مرتبہ رکن پنجاب اسمبلی بنے۔ صوبائی وزیر خلیل طاہر سندھو کو انسانی حقوق اور اقلیتی امور کی وزارت کے ساتھ وزیر صحت کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔ وہ محکمہ صحت اور مرےضوں کے مسائل کے حل کے لئے سرگرم عمل دکھائی دیتے ہیں۔ خسرے کے مرض پر قابو پانے سے لے کر صحت کے دیگر معاملات کو بہتر بنانے کے لئے انہوں نے کئی ایک اقدامات کئے ہیں۔ ہم نے ان سے اس حوالے سے گفتگو کی جو قارئین کی نذر ہے۔
٭ خسرے سے بچوں کی اموات کی موجودہ صورتحال کے بارے میں کیا کہیں گے؟
خلیل طاہر: 2012ءمیں سب سے پہلے سندھ میں خسرے کی وباءپھیلی اور سندھ کے ساتھ پنجاب کے جو تین چار اضلاع رحیم یار خاں، تحصیل صادق آباد اور ڈی جی خاں وغیرہ ہےں وہ علاقے بھی اس وباءسے متاثر ہوئے۔ ہم نے اس وقت بھی ہیلتھ کانفرنس کروائی اور خسرے کی وباءکو کنٹرول کرنے پر کام کیا۔ اصل میں خسرے کے مرض میں مبتلا ہونے والے زیادہ تر بچے وہ تھے جنہیں ان کے والدین نے حفاظتی ٹیکے نہیں لگوائے تھے اور جنہوں نے اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکوں کا کورس ہی مکمل نہیں کروایا ہوا تھا۔ جس کی وجہ سے خسرے کی وباءخطرناک صورتحال اختیار کر گئی اور کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ خیر اس ساری صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لئے ہم نے 18 ممکنہ متاثرہ اضلاع میں خسرے کی ویکسی نیشن مہم کا آغاز کےا جو مکمل ہو چکی ہے۔ ہم نے 73 کروڑ روپے کی ویکسی نیشن منگوائی ہے۔ ہم نے بچوں کو وٹامن ای کے قطرے بھی ساتھ پلائے ہیں۔ وٹامن ای سے قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ویکسی نیشن کو محفوظ رکھنے کے لئے کولڈ چےن سسٹم کو مکمل طور پر بہتر اور یقینی بنایا ہے۔ جن علاقوں مےںبجلی کی لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ ہے وہاں ہم نے جنریٹر مہیا کئے ہیں اور مہم کے دوران ویکسی نیشن کو مقررہ درجہ حرارت پر رکھنے کے لئے بڑے بڑے کولروں میں زیادہ سے زیادہ برف ڈال رکھنے کے اقدامات کئے ہیں۔ میں خود دیہاتوں میں جا کر یہ تمام انتظامات دیکھتا رہا ہوںاور آج بھی وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف کی ہدایت پر راتوں کو اُٹھ کر دور دراز علاقوں مےں گیا ہوں۔ وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف اور ان کی ٹیم نے عوام کی خدمت میں کسی قسم کی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ ہم نے اپنے آرام سے زیادہ لوگوں کے مسائل حل کرنے کو ترجیح دی ہے ۔ پنجاب کے باقی اٹھارہ اضلاع میں بھی خسرے کی ویکسی نیشن کی مہم شروع ہو چکی ہے۔ ہم نے ہر دیہات میں ہیلتھ یونٹ قائم کئے ہیں اس کے علاوہ وہاں کے ڈی ایچ کیو ہسپتال اور تحصیل ہیڈ کواٹرز میں قائم صحت کے مراکز کو ویکسی نیشن مہیا کر دی ہے۔ ڈاکٹروں سے بھی ہم نے کہا ہے کہ آپ کا دوسرا نام مسیحا ہے آپ بھی اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی مت برتیں۔ ہم میڈیا کے شکر گزار ہیں کہ ان کے ذریعے لوگوں کو آگاہی ملی۔ میں نوائے وقت اخبار کا خاص کر شکر گزار ہوں کہ اس نے والدین مےں ےہ شعور بےدار کےاکہ وہ اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے ضرور لگوائیں۔
٭ ویکسی نیشن تو صرف سرکاری ہسپتالوں اورصحت کے مراکز میں ہی دستیاب ہونی چاہئے لیکن پرائیویٹ طور پر بھی ویکسی نیشن ملتی ہے یہ کہاں سے آتی ہے؟
خلیل طاہر: ہم اس معاملے کو بھی دےکھ رہے ہیں۔ ویکسی نیشن صرف حکومت کے ادارے ہی لگائیں گے ہمیں والدین میں یہ شعور بیدار کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ وہ اپنے طور پر کسی پرائیویٹ میڈیسن کا استعمال مت کریں۔ ہم نے پرائیویٹ طور پر اس قسم کی ناخوشگوار صورتحال کو کنٹرول کرنے کا بھی لائحہ عمل بنا لیا ہے۔ ہم کسی کو معصوم جانوں سے کھیلنے کا موقع نہیں دیں گے اور اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ ویکسی نیشن صرف حکومتی اداروں سے ہی لگے ۔ اس معاملے میں ہم چیک اینڈ بیلنس بھی رکھیں گے۔
٭ پنجاب بھر میں کئی ایک ایسی فارمیسز ہےں جن کے لائسنس ہولڈر وفات پاچکے ہےں مگر آج بھی ان کے نام وہ مےڈےکل سٹورز کھلے ہوئے ہیں اور وہ دھڑا دھڑ ادویات فروخت کر رہے ہیں جو ناخوشگوار واقعات کا باعث بھی بنتے ہیں۔ ان کے بارے میں آپ کیا اقدامات کر رہے ہیں؟
خلیل طاہر: آپ نے بہت اچھی بات کی ہے۔ میں نے بطور وزیر صحت ایک جنرل آرڈر جاری کیا ہے کہ پنجاب بھر میں جتنے بھی میڈیکل سٹورز ہیں ان کے لائسنس چیک کئے جائیں جس کے نام پر لائسنس ہے اس شخص کا میڈیکل سٹور پر ہونا لازمی ہے۔ اس کے لئے میں نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اس کمیٹی میں ڈی سی او، ای ڈی او ہیلتھ کے علاوہ عوامی نمائندے بھی شامل ہیں جو تمام میڈیکل سٹورز کی پڑتال کریں گے۔ آپ کی بات بالکل درست ہے کہ کئی میڈیکل سٹورز ایسے ہیں جن کے لائسنس پچاس سال پرانے ہیں اور لائسنس حاصل کرنے والا شخص بھی اب حیات نہیں ہے ان میڈیکل سٹورز پر غیر تربیت یافتہ لوگ ادویات فروخت کر رہے ہیں۔ ہم اس معاملے میں بھی قانون سازی کر رہے ہیں کہ کوئی بھی میڈیکل سٹور ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر دوائی نہیں دے ۔ جو میڈیکل سٹور والا غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گا اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ڈاکٹر کی تشخیص کے بغیر ادویات نہیں کھانی چاہےں اس سے کئی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔
٭ پرائیویٹ ایمبولینس کے لئے بھی کوئی قانون ہے؟
خلیل طاہر: ہم نے پنجاب بھر کی ا ےمبولےنس کے حوالے سے بھی جنرل آرڈر جاری کےا ہے اور اس سلسلہ میں بھی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں ڈی سی او، ای ڈی او ہیلتھ، ڈی ڈی او ہیلتھ شامل ہیں جو تمام ایمبولینس کے اندر لگے آلات کو چیک کریں گے اور ایمبولینس کی بنیادی ضروریات کا جائزہ لیں گے۔ وہ یہ بھی دیکھیں گے کہ پرائیویٹ ایمبولینس میں تمام بنیادی آلات موجود ہیں اور وہ مےڈےکل آلات جراثیم کش ہیں کہ نہیں۔ جو اس معیار پر پورا نہیں اترے گا ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ہم نے لوگوں کی صحت کے حوالے سے تیسرا اہم اقدام ےہ کےا ہے کہ تمام سرکاری ہسپتالوں میں آگ بجھانے والے بنیادی آلات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے جس پر کام شروع ہو چکا ہے۔ ڈی سی او اور اس شہر کا متعلقہ ای ڈی او ہیلتھ اپنے شہر کے تمام ہسپتال چیک کریں گے کہ وہاں آگ بجھانے والے آلات نصب ہیں کہ نہیں۔ یہ کام پنجاب کے تمام اضلاع میں ہو رہا ہے۔ جہاں ان آلات کی کمی ہے ان کو فوری فراہمی کا عمل یقینی بنایا گیا ہے۔ اس میں اہم بات یہ ہے کہ آگ بجھانے والا عملہ بھی تربیت یافتہ ہوگا۔
٭بلڈ بنک بھی محکمہ صحت کا ایک اہم شعبہ ہے مگر اس پر توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ کئی ایک سرکاری ہسپتالوں کے بلڈ بنکوں میں رات کے وقت کوئی ڈاکٹر ہی نہیں ہوتا۔ پھر پرائیویٹ بلڈ بنک بھی اپنی جگہ کام کر رہے ہیں۔ اس بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
خلیل طاہر: آپ کی بات بالکل درست ہے کہ پرائیویٹ بلڈ بنک موجود ہیں جوکہ غیر قانونی ہیں۔ اس پر بھی سنجیدگی سے ایکشن لیا جائے گا۔ ہم اس کے قانون میں مزید سختی کر رہے ہیں۔ اگر کوئی شخص اس غیر قانونی کام میں ملوث پایا جائے گا تو ہم اس پر مقدمہ بنائیں گے اور جس کے لئے پرائیویٹ وکیل کو مقدمہ سونپیں گے تاکہ اس مقدمے کا رزلٹ بھی سامنے آئے اور غیر قانونی کام کرنے والوں کو سخت سزا دلوائی جائے۔ میں اسے ایک بہت بڑا جرم سمجھتا ہوں۔ ہم وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر لوگوں کی صحت کے تمام معاملات میں چیک اینڈ بیلنس رکھے ہوئے ہیں۔ میں آدھی رات کو بھی ہسپتال جاتا ہوں تاکہ یہ دیکھ سکوں کہ ڈاکٹرز، نرسیں، پیرا میڈیکل سٹاف وغیرہ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ میں ان کو یہ بھی کہتا ہوں میں آپ کو ہراساں کرنے نہیں آتا۔ اصل یہ ہمارا قومی فریضہ ہے کہ ہم لوگوں کی خدمت کے لئے زیادہ سے زیادہ کام کریں گے۔
٭ سرکاری ہسپتالوں کے بلڈ بنک سے چوری ہونے والے خون کے بارے میں کیا لائحہ عمل تیار کر رہے ہیں؟
خلیل طاہر: ہم اسے بھی مانیٹر کر رہے ہیں۔ ہم سارا سسٹم کمپیوٹرائزڈ کر رہے ہیں اوراس سارے سسٹم کو آن لائن رکھیں گے تاکہ روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ حاصل ہو سکے کہ بلڈ بنک میں کتنے خون کی تھیلےاں موجود ہیں، کتنی استعمال ہو چکی ہیں اور کہاں کہاں استعمال ہوئی ہیں اور باقی کتنی موجود ہیں۔ روزانہ کی رپورٹ آن لائن ہونے سے بلڈ بنک سے خون کی چوری کی روک تھام مکمل طور پر ہو جائے گی۔
٭ پنجاب حکومت ہیلتھ انشورنس کارڈ متعارف کروا رہی ہے اس ہیلتھ انشورنس کارڈ کی رقم انشورنس کمپنی کو کون ادا کرے گا؟
خلیل طاہر: ہیلتھ انشورنس کارڈ گورنمنٹ کی طرف سے عوام کو ایک سہولت ہے۔ پنجاب گورنمنٹ نے اس کے لئے بجٹ رکھا ہے۔ یہ کارڈ صحت مند پنجاب کے سلسلہ کی ایک کڑی ہے تاکہ کوئی بچہ اور بڑا علاج کے بغیر نہ رہے۔ نئے بجٹ میں 102 ارب روپے سے زیادہ پیسے صحت کے لئے رکھے گئے ہیں تاکہ صحت مند پنجاب مشن کو ہرممکن یقینی بنایا جا سکے۔ میں خود تمام سرکاری ہسپتالوں کے ایم ایس کو فون کر کے یہ ہدایات دیتا ہوں کہ ہسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ کوئی مریض علاج کے بغیر نہ رہے۔ مریضوں کو ادویات مفت ملنی چاہئیں اور اس سلسلہ میں ملنے والی شکایت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔
٭ سُنا تھا کہ تمام سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی کو ختم کیا جا رہا ہے؟
خلیل طاہر: نہیں ایسا نہیں ہے۔ ہم ہسپتالوں مےں مفت ادویات کی فراہمی کا سلسلہ بند نہیں کر رہے ہیں۔ اگر اس سلسلہ میں شکایت ملے گی تو ہم اس پر فوری کاروائی کرےں گے۔
٭ ہیلتھ انشورنس کارڈ تمام سرکاری ہسپتالوں کے لئے کارآمد ہو گا یا صرف اس کا استعمال کسی ایک مخصوص ہسپتال کے لئے ہو گا؟
خلیل طاہر: ہیلتھ انشورنس کارڈ کا استعمال تمام سرکاری ہسپتالوں کے لئے ہو گا۔ مریض کو جس بھی ہسپتال میں علاج کی ضرورت ہو گی وہ اس ہسپتال میں ہیلتھ انشورنس کارڈ کے ذریعے علاج مفت کروا سکتا ہے۔ اگر اس کو دل کی سرجری کی ضرورت ہے تو وہ متعلقہ سرکاری ہسپتال میں سرجری بھی کروا سکتا ہے۔ اس کو تمام ادویات مفت فراہم کی جائیں گی۔
٭ حکومت ہیلتھ انشورنس کارڈ کے بدلے کسی اور مد میں تو نہیں عوام سے پیسے وصول کرے گی کوئی ایسا نیا ٹیکس وغیرہ؟
خلیل طاہر: ایسا بالکل نہیں ہے۔ ہم عوام کی سہولت کے لئے تو یہ کام کر رہے ہیں۔ ہم اس پر کسی قسم کا بوجھ نہیں ڈالیں گے۔ میں آپ کو یہاں ایک اور اہم بات بتانا چاہتا ہوں کہ ہم ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کا قیام کر رہے ہیں۔ اس میں اس شہر کے سرکاری ہسپتال کا ایم ایس، ای ڈی او ہیلتھ اور عوامی نمائندے شامل ہوں گے تاکہ چھوٹی موٹی شکایت اور ضرورت کے لئے ان کو سیکرٹری ہیلتھ کے پاس سفر کر کے نہ جانا پڑے۔ وہ تمام شکایات اور ضروریات ڈسٹرکٹ سطح پر ہی دور اور پوری ہو سکیں۔ بہت جلد اسمبلی سے اس کو ہم منظور کروا لیں گے اور اس پر عمل شروع ہو جائے گا۔
٭ سکول ہیلتھ سروس میں جیسے ڈینگی کے بارے میں نصاب میں مضمون شامل ہے اسی طرح اور بھی چھوت کی بیماریوں کے بارے میں بچوں کی آگاہی کے لئے مضمون شامل کئے جائیں تو اس کے بہتر نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ آپ کا کیا کوئی ایسا پروگرام ہے؟
خلیل طاہر: جی ہاں۔ تقریباً 26 بیماریاں اےسی ہیں ۔ جس میں ہیپاٹائٹس اے، بی، سی، ڈی اور ای ہے۔ ہیپاٹائٹس پانچ قسم کا ہے جس میں بی اور سی انتقال خون کی وجہ سے ہوتا ہے جبکہ ہیپا ٹائٹس اے، ڈی اور ای گندے پانی کی وجہ سے پھیلتا ہے۔ ہم نے لوگوں کو صاف پانی مہیا کرنے کے لئے بھی رقم رکھی ہے جس کے تحت ہم صاف پانی کے پلانٹ لگا رہے ہیں۔ میں آپ کی وساطت سے اپنی ماﺅں، بہنوں اور بیٹیوں کو گزارش کروں گا کہ وہ بچوں کو پانی ابال کر دیں تاکہ ان مہلک بیماریوں سے اپنے پیاروں کو دور رکھا جا سکے۔
٭ بچوں میں بیماریوں کی روک تھام کے لئے اگر تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایک ڈینٹل ڈاکٹر اور ایک ایم ایس ڈاکٹر کو تعینات کر دیا جائے تو اس سے بیماریوں کی ابتدائی طور پر بھی روک تھام ہونے کے بہتر نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں وہ لیڈی ڈاکٹرز جو گھر بیٹھ جاتی ہیں اور اپنے علم سے دوسروں کو مستفید نہیں کر پاتیں ان کو یہ ذمہ داری سونپی جائے تو وہ سکولوں میں آٹھ گھنٹہ کی ڈیوٹی بخوبی سرانجام دے سکتی ہیں یوں حکومت کا ان کو ڈاکٹر بنانے پر خرچ ہونے والا سرمایہ بھی ضائع نہیں ہو گا۔ کیا آپ کے پلان میں یہ شامل ہے کہ نہیں؟
خلیل طاہر: یہ ایک اچھا آئیڈیا ہے ہم پبلک سروس کمشن کے تحت بہت جلد ڈاکٹروں کی بھرتی کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو سمری بھیج دی گئی ہے منظوری کے بعد چند دنوں تک اس پر کام شروع ہو جائے گا۔ ہم کافی ڈاکٹر بھرتی کر رہے ہیں تاکہ جہاں جہاں ضرورت ہے وہاں ان کو تعینات کیا جا سکے۔ ہم لوگوں کی صحت کے بارے میں آگاہی کا پروگرام بھی بنا رہے ہیں جس طرح آپ نے نصاب میں چھوت کی بیماریوں کے بارے میں مضمون شامل کرنے کی بات کی ہے تاکہ لوگوں کو ان بیماریوں کے بارے میں مکمل آگاہی مل سکے۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے صحت مند پنجاب کا عزم کیا ہے ۔انشاءاﷲ ہم اس عزم کو پورا کرنے میں کسی بھی قسم کی کسر نہیں چھوڑیں گے چاہے اس کے لئے ہمیں 24 گھنٹے ہی کام کیوں نہ کرنا پڑے ہم کر کے دکھائیں گے۔
٭ پرویز الٰہی کے دور میں مختلف ہسپتالوں کے حوالے سے چھ منصوبے شروع کئے گئے مثلاً جناح ہسپتال میں برن یونٹ، چلڈرن ہسپتال میں نئی عمارت، میو ہسپتال میں نیورو سرجری ٹاور، اسی طرح گنگارام ہسپتال میں ڈینٹل یونٹ کے پراجیکٹس تھے یہ پراجیکٹس کب پورے ہوں گے۔ پرویز الٰہی کے دور کے بعد پانچ سالوں میں یہ پراجیکٹ کہاں تک پہنچے ہیں؟
خلیل طاہر: ہم نے ان تمام پراجیکٹس کی تکمیل کے لئے فنڈز رکھے ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ بجٹ بھی ابھی پاس ہوا ہے۔ جولائی میں پی سی ون بنا کر دےں گے ان پراجیکٹس کی تکمیل میں جو بھی کمی ہے اس کو پورا کیا جائے گا۔ اور ان یونٹس کو جلد فعال کر دیا جائے گا۔
٭لاہور میں اس وقت دس کے قریب ڈرگ انسپکٹر ہیں۔ گندم کی گولیاں خودکشی کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔ ان میڈیکل سٹوروں کو کون ریگولیٹ کرے گا؟
خلیل طاہر: ڈرگ انسپکٹر کے بارے میں لوگوں کی اچھی رائے نہیں پائی جاتی۔ بہرحال ڈرگ انسپکٹر کے حوالے سے ہم کیس ٹو کیس چیک کر رہے ہیں۔
٭ پاکستان میں نیورو سرجن پروفیسر کی تعداد 13 بتائی جاتی ہے۔ جوڑوں کے سپیشلسٹ چار پروفیسرز ہیں اورماہر امراض گردہ کے بھی پانچ پروفیسرز ہیں۔ ہمارے ملک کے 70 فیصد ماہر ڈاکٹرز حضرات امریکہ اور یو۔کے میں کام کر رہے ہیں۔ پاکستان مےں ماہر پروفےسر ز کے خلا کی ذمہ داری کِس پر عائد ہوتی ہے وہ ملک چھوڑ کر آخر کیوں گئے۔ لاہور میں صرف اس وقت گھٹنوں کی ماہر صرف ایک ڈاکٹر ہیں؟
خلیل طاہر: اس بارے میں بھی سوچ رہے ہیں۔ گورنمنٹ نے پہلے بھی سینئر ڈاکٹروں کے لئے کئی اچھے اقدام کےے ہے۔ مزید اس بارے میں سوچ رہے ہیں کہ ڈاکٹروں کو اتنی مراعات دی جائیں کہ وہ اس ملک سے نہ جائیں اور اس ملک و قوم کی خدمت میں ہمارا بھر پور ساتھ دیں۔
٭ پنجاب بھر میں 26 کے قریب پرائیویٹ میڈیکل کالج کھُل چکے ہیں ان کو ریگولیٹ کرنے کا کیا پلان ہے۔ ٹرسٹ میڈیکل کالج تو یہ نام کی حد تک ہیں۔ پرائیویٹ میڈیکل کالج طالب علموں سے 8 لاکھ روپے سالانہ فیس وصول کر رہے ہیں۔ کیا یہ ”ٹرسٹ“ کی شرائط پر پورا اترتے ہیں؟
خلیل طاہر: یہ ایشو ہمارے پاس آیا ہے۔ ہم پی ایم ڈی سی اور دوسری متعلقہ اتھارٹی کے ساتھ اس بارے میں میٹنگ کر رہے ہیں۔ ہمارے علم میں آیا ہے کہ ان پرائیویٹ کالجز کے دو دو کمروں کے ہسپتال ہیں جو شرائط کو پورا نہیں کرتے۔ اس میں جلدی گرینڈ قسم کی سرجری کی ضرورت ہے۔ اس میں ڈسپرین نہیں سرجری ہی چلے گی۔ آپ نے یہ ایک اہم ایشو اٹھایا ہے۔ اس سے بچوں کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔ ہم اس کو سسٹم کے دائرے میں لائیں گے۔ اسے بے لگام گھوڑے کی طرح نہیں رہنے دیں گے۔ ہم نے پاکستان ہیلتھ کیئر باڈی سے بات کی ہے وہ ان تمام چیزوں کا جائزہ لے گی۔ جو پرائیویٹ میڈیکل کالج شرائط پر پورا نہیں اترے گا اسے بند کر دیا جائے گا۔