میانوالی تجاوزات تجاوزات کا گڑھ

میانوالی ایک پرانا اور تاریخی شہر کی حیثیت رکھتا ہے۔ میانوالی شہر کے مختلف بازاروں میں مین بازار‘ مسلم بازار لیاقت بازار‘ بلوخیل رواد بازار‘ کچہری بازار‘ گورنمنٹ سکول روڈ بازار تجارتی طور پر خاصے مشہور و معروف اور یہاں آمدورفت کا اکثر رش رہتا ہے۔ ان تمام بازاروں میں دکانداروں نے اپنے مفادات کیلئے اس قدر تجاوزات قائم کر رکھی ہیں کہ یہاں پر خریداروں کو سخت مشکلات اور پریشانیاں کا سامنا رہتا ہے۔ دکانداروں نے دوکانوں کے اپنے تین تین فٹ کے پھٹوں اور لینٹر کے آگے بھی چار پانچ فٹ اپنی دکان کا آدھے سے زیادہ سامان سجا رکھا ہے اور مزید آگے مختلف اقسام کے سامان فروٹ وغیرہ کی ریڑھیوں سے بھاری کرائے وصول کرکے کھڑے کر رکھے ہیں۔ ٹی ایم اے اور مقامی انتظامیہ کو یہ خوفناک تجاوزات نہ جانے کیوں نظر نہیں آتیں۔ اس تجاوزات سے بازار خاص طور مین بازار سے ٹریفک اکثر جام رہتی ہے۔ جس پر پولیس بھی بے بس نظر آتی ہے۔ کوئی نیا افیسر آتا ہے تو تجاوزات کے بارے مشکلات پر اسکی ہدایات ایک دو دن تجاوزات کچھ کم ہوتی ہیں۔ لیکن پھر اپنی اصل حالت میں آجاتی ہیں۔ اس لئے تمام سیاسی انتظامی اثرو رسوخ کو بالائے طاق رکھ کر ہنگامی بنیادوں پر تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن کی ضرورت ہے۔ تجاوزات کے ساتھ ساتھ میانوالی ضلع میں قبضہ گروپس کے کئی افراد سرگرم ہیں خاص طور پر محکمہ اوقاف کی اراضی پر قبضے محکمہ اوقاف سے سازباز کرکے سلسلہ زیادہ ہو چکا ہے۔ ساتھ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن محکمہ انکم ٹیکس اور محکمہ مال کے افسران اور اہلکاران کے ساتھ بھی قبضہ گروپس کی سازشیں شامل ہو جاتی ہیں اور میانوالی کی کئی متنازعہ ارضیوں پر قبضے اور واگزار کرنے کیلئے کئی لڑائیاں اور جھگڑے آئے روز رونما ہوتے رہتے ہیں۔ اس میں بھی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے افسران کی لاپروائی ضرور شامل ہے۔ تجاوزات کے حوالے سے جنرل بس سٹینڈ‘ وتہ خیل چوک سے فیسکو واپڈا آفس تک تجاوزات کا ہولناک بازار گرم ہے اور سب سے بڑھ کر مین بازار پھر زیادہ تجاوزات جنرل بس سٹینڈ طوطا چشمی کئے ہوئے ہے۔
میانوالی شہر کے اکثر سڑکیں اور گلیاں بھی خستہ حالی کا شکار ہیں۔ جہاز چوک میانوالی کا تاریخی چوک ہے۔ اس چوک سے جنوب کی جانب روڈ جاتا ہے۔ جو انتہائی خستہ حال اور سخت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ جگہ جگہ گڑھے ہیں۔ یہ روڈ دو اڑھائی کلو میٹر سرگودھا روڈ‘ حسن چوک اڈا ٹرک روڈ پر مشتمل ہے۔ جہاں سے ٹرانسپورٹ سخت مشکلات کا شکار ہے۔
محمد یوسف خان چغتائی