قوم سو دن میں تبدیلی دیکھے گی ........ مسلم لیگیوں کا اتحاد ناممکن نہیں‘

محمد ریاض اختر
چوہدری محمد جعفر اقبال کا شمار ان چند سیاسی رہنما¶ں میں ہوتا ہے جن کی پارٹی سے وفاداری اور حُب الوطنی قومی سیاست مےں اےک منفرد شخصےت کا حامل بناتی ہے۔ سیاست کو خدمت سمجھنے والے چوہدری محمد اقبال اپنے آباو¿ اجداد کے نقش قدم پر پوری ذمہ داری سے کوشاں ہےں۔ بارہ اکتوبر 1999ءمیں مےاں نواز شریف حکومت کے جبری خاتمے کے بعد چوہدری جعفر اقبال کی بااصول سیاسی کردار کے سب معترف ہیں۔ انہیں پارٹی سے وفادارےاں بدلنے کے عوض کئی عہدوں کی پےشکش ہوئی مگر جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کنہے پر ڈٹے رہے ۔ وہ خود کہتے ہیں ”پاکستان ان کی جان‘ مسلم لیگ ان کی پہچان اور میاں نواز شریف ان کا مان ہیں“ گزشتہ دنوں مسلم لےگ( ن) پنجاب کے سینئر نائب صدر چوہدری جعفر اقبال سے گفتگو ہوئی جو نذر قارئین ہے۔
٭ آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی میں جلد بازی کا تاثر مل رہا ہے؟
ج: ہمارے پارٹی اقتدار سے قبل عدالت عظمیٰ نے پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل چھ کے حوالے سے عبوری حکومت سے رائے مانگی تھی تو اس نے آنے والی منتخب حکومت پر بات ڈال دی۔ اب عدالت عظمیٰ نے ہماری حکومت سے رائے مانگی جس پر وزیراعظم میاں نواز شریف نے اپنی پوزیشن کلیئر کر دی ۔ میاں صاحب نے قومی اسمبلی کو اعتماد میں لے کر وفاق کا موقف دیا۔ ہم بار بار واضح کر چکے ہیں کہ یہ معاملہ 3 نومبر 2007ءکا ہے۔ اسے بارہ اکتوبر 1999ءسے مت جوڑا جائے۔ ہماری حکومت کو قومی مسائل کا ادراک ہے اور ہم نے اپنی ترجیحات کا تعین بھی کر لیا ہے۔ توانائی بحران‘ دہشت گردی‘ معیشت‘ بے روزگاری اور مہنگائی پر کنٹرول اور اس کے خاتمے میں ہم شروع دن سے مصروف ہیں۔
٭ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پرویز مشرف کے معاملے میں غیر ملکی دباو¿ بھی ہے؟
ج: پاکستان 18 کروڑ عوام کا ملک ہے۔ اس عظیم قوم نے آئین کے تحفظ کے لئے میاں نواز شریف کو بھاری مینڈیٹ دیا ہے۔ موجودہ حکومت آئین کی بالا دستی کی قائل ہے۔ اس بارے میں بیرونی تاثر دینا درست نہیںہے۔
٭ وفاقی بجٹ اور مسلم لیگ کے انتخابی منشور مےں کچھ کچھ تفاوت ہے؟
ج: میں اس سترہ رکنی کمیٹی کا حصہ تھا جس نے محترم سرتاج عزیز کی قیادت میں منشور تیار کیا تھا۔کمیٹی کے اجلاسوں میں میاں نواز شریف بطور پارٹی سربراہ شریک ہوتے رہے۔ مسلم لیگ کا انتخابی منشور دراصل قومی ایجنڈا ہے۔ جس پر پانچ سال میں عملدرآمد ہونا ہے۔ ان شاءاﷲ قوم خود بہتری محسوس کرے گی۔ ابھی آئی ایم ایف کی قسط کا معاملہ زیر بحث رہا۔ 500 ارب کے گردشی قرضے تھے۔ زرمبادلہ کی کمی کا مسئلہ ہے، قومی آمدن میں اضافہ کے لئے لگژری گاڑیوں اور بنگلے والے 35 لاکھ افراد کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا۔ پہلے سال پانچ لاکھ افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی منصوبندی کی جا چکی ہے۔ اس بارے میں نادرا کو ٹاسک بھی دے دیاگیا ہے۔ نان ڈویلپمنٹ بجٹ میں کمی ہو رہی ہے۔ وزیراعظم کے 40 ارب کے صوابدیدی فنڈز ختم کر دئیے گئے ہیں۔ اس سے فرق تو ضرور پڑے گا۔ مہنگائی کی حالیہ لہر جی ایس ٹی کی شرح سے میں اضافہ کا سبب ہے۔ اس پر قابو پانے کے لئے تعمیری اور نتیجہ خیز کوشش جاری رہے گی۔
٭ دہشت گردی اور توانائی بحران دو بڑے ایشوز ہیں۔ پہلے کس کو ترجیح ملے گی؟
ج: ابھی کچھ دن قبل برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون پاکستان دورے پر آئے۔ آپ وزیراعظم سے ملاقات اور مشترکہ پریس کانفرنس کا احوال دیکھ لیں ،دونوں کی گفتگو ان ایشوز کے گرد گھومتی رہی۔ حکومت عنقریب توانائی پالیسی اور قومی سیکیورٹی پالیسی کا اعلان کرنے والی ہے۔ قومی سیکیورٹی پالیسی میں سیاسی و عسکری قیادت کے ساتھ تمام مذہبی قوتوں کو بھی ساتھ ملایا جائے گا۔ پارلیمنٹ کے باہر سیاسی جماعتوں سے بھی رابطہ ہو گا تاکہ ملک و قوم کے مفاد میں قابل قبول قومی سیکیورٹی پالیسی سامنے آسکے۔ ان شاءاﷲ پہلے 100 دن میں قوم خود تبدیلی محسوس کرے گی۔ یہ درست ہے کہ خارجہ اور داخلہ سطح پر بہت سے چیلنجز درپیش ہیں۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ قومی خدمت کا سلسلہ بھی دراز کیا جائے گا۔ 56 ارب موجودہ آبی منصوبوں یعنی ڈیمز کی جلد تعمیر و تکمیل کے لئے رکھے گئے ہیں۔
٭ خطے میں قیام امن کے لئے افغان ایشو پر بھی نظر رکھی جائے گی؟
ج: دوحہ (قطر) میں طالبان کے امریکہ کے ساتھ مذاکرات ہوئے۔ گو افغانی قیادت نے وہ گرم جوشی نہیں دکھائی۔ پاکستان کی خواہش ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو‘ ہم اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہشمند ہیں لیکن ہم اپنے قومی مفاد کو نظر انداز بھی نہیں کر سکتے۔
٭ بلوچستان کی شورش میں پڑوسی ممالک کے نام آرہے ہیں؟
ج: بلوچستان قدرتی مالا مال سے بھرپور علاقہ کا نام ہے۔ یہ سونے کی چڑیا ہے اس پر چھ ممالک کی للچائی نظریں ہیں، افغانستان میں سونا‘ تانبا‘ پیتل‘ تیل اور گیس سمیت معدنیات کے ذخائر موجود ہیں۔ اس لئے تو بیرونی طاقتیں یہاں امن قائم ہونے نہیں دیتیں لیکن ہم بلوچستان کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ میاں صاحب نے وزیراعلیٰ اور گورنرکی تعیناتی سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ بلوچستان سے کس قدر محبت کرتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایجنسیوں کے مابین باہمی رابطے کے ساتھ انہیں صوبائی حکومت کے ماتحت کیا جا رہا ہے۔ اس سے یقیناً قیام امن میں مدد ملے گی۔ پندرہ جون کو زیارت (کوئٹہ) میں قائداعظم کی رہائش گاہ پر حملہ ہوا اس سے ہر پاکستانی کا دل زخمی ہو گیا۔23 جون کو گلگت و بلتستان کے نانگا پربت مین کیمپ پر دہشت گردی کا واقعہ ہوا۔ جس میں ایک پاکستانی سمیت 11 کوہ پیما جاں بحق ہو گئے۔ دہشت گردی کا ہر واقعہ قابل مذمت ہے۔ اب پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے والی قوتوں کو بے نقاب کرنے کا وقت آگیا۔
٭ سوات میں بھی تو امن قائم ہوا تھا؟
ج: جس طرح سوات میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر امن بحال کیا گیا۔ اسی طرح دوسرے مقامات پر بھی نتیجہ خیز پیش رفت ہو گی۔ مولانا سمیع الحق خود کہتے ہیں کہ وہ طالبان کے استاد ہیں، حکومت ان سے بھی مدد و رہنمائی لے گی۔ ہم مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں۔ مسلم لیگ ”ن“ نے ڈائیلاگ کے دورازے کبھی بند نہیں کئے تھے۔ دہشت گردی کی اس ”پرائی جنگ“ میں ہمارے 35 ہزار لوگ شہید ہوئے۔ 5 ہزار فوجیوں کی قربانی بھی اس میں شامل ہے۔ ہماری مساجد‘ امام بارگاہیں‘ یہاں تک کہ جنازے محفوظ نہیں ہیں۔ امن دشمن عوامل اور عناصر سے نمٹنے کے لئے ٹھنڈے دل اور دماغ سے سوچنے کا وقت ہے۔
٭ میاں نواز شریف نے چین سے گوادر تک ریلوے ٹریک بچھانے کا اعلان کیا ہے؟
ج: میاں صاحب نے موٹر وے کا تحفہ بھی دیا تھا۔ پاکستان کو ساتواں ایٹمی طاقت بنانے کے اعزاز کا سہرا مسلم لیگ ”ن“ کی قیادت کے سر ہے۔ موٹر وے جیسے عدیم المثال منصوبے کی تکمیل سے ترقی و تعمیر اور خوشحالی کے نئے دروازے کھلے۔ توانائی بحران کے خاتمے کے لئے اسی طرح انقلاب آفریں اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ہم اپنی معیشت کی بہتری اور بحالی کے لئے سعودی عرب کے ساتھ دیگر دوست ممالک سے مشورے اور تعاون بھی لیں گے۔
٭ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ پر قابو کیوں نہیں پایا جاسکا؟
ج: امن و امان کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں کی ہے۔ مسلم لیگ نے سندھ حکومت کو پیش کش کر رکھی ہے کہ قیام امن کے لئے مرکزی حکومت ہر طرح کی مدد فراہم کرنے کے لئے تیار ہے۔
٭ مسلم لیگ کا اتحاد خواب ہی رہے گا؟
ج: مسلم لیگیوں کا اتحاد ہونا چاہئے۔ اس حوالہ سے میاں نواز شریف سنجیدہ ہیں ۔
٭”سیاست برائے خدمت“ آپ اپنی سیاسی جدوجہد سے مطمئن ہیں؟
ج: وطن دوستی اور عوام کی خدمت ہمارا مشن ہے۔ ہماری سیاست پاکستان سے شروع ہوتی اور پاکستان پر ختم ہو جاتی ہے۔ قوم کی خدمت کی جو شمع میرے والد نے فروزاں کی تھی ہم نے اسے روشن رکھا ہوا ہے۔ قومی پرچم کے سائے تلے تمام اقلیتیں بھی ہمیں محبوب ہیں۔ ہمیں پاکستان کی ترقی‘ تعمیر اور خوشحالی کے لئے مل کر آگے بڑھنا ہے۔ مےرے والد چوہدری محمد اقبال پنجاب اور قو می اسمبلی کے رکن رہے ہےں۔ مےری بےگم عشرت اشرف تےن مرتبہ قومی اسمبلی کی رکن رہ چکی ہےں۔اب مےرا بےٹا محمد عمر جعفر پنجاب اور بےٹی زےب قومی اسمبلی کی رکن ہےں جبکہ مےرے بھائی چوہدری محمد ناصر اقبال بھی قومی اسمبلی کے ممبر رہے ہےں۔