معاشرہ کا حسن ....عدم برداشت

علماءدانشور اخوت و رواداری کی شمع روشن کریں‘ ممتاز سکالرز سے گفتگو
آج مصطفوی چہرے کی روشنی عام کرنے کی ضرورت ہے‘ سید ثاقب اکبر
اسلام اور عیسائیت دونوں امن و آشتی کے مذاہب ہیں‘ پاسٹر شوکت حیات
علماءاور مشائخ کرام نے اصلاح معاشرہ کی ذمہ داریاں ترک کی ہوئی ہیں‘ پروفیسر اکبر ہاشمی
امتیازی اور جانبدار رویوں نے تعصب کی آگ بھڑکائی ہے‘ مولانا عبدالقدوس
پوری قوم انتہا پسندی اور فرقہ واریت کی دلدل میں دھکیل دی گئی‘ ام محمد اسمائ
 محمد ریاض اختر

عدم برداشت کے رویے نے پاکستانی معاشرہ پر جو کاری ضرب لگائی ہے اس کے اثرات ہر سطح پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ مساوات‘ برابری‘ محبت اور اخوت کے بجائے اپنی بات منوانے اور اپنی دھاک بٹھانے کا جو سلسلہ چل نکلا ہے اس کے انجام سے ڈر لگتا ہے۔آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟کس طرف جارہے ہیں؟کون ہے جو ہمیں ہدایات دے کر ہمیں استعمال کر رہا ہے؟ اس کے حوالہ سے دانشوروں کی کیا رائے ہے یہ نذرقارئین ہے۔٭: سید ثاقب اکبر‘ ڈپٹی سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل پاکستان
ہمارا معاشرہ عدم برداشت کا شکار کر دیا گیا ہے اس کے پس پردہ جو قوتیں ہیں ان کا کردار اب خفیہ نہیں رہا سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کا یہ بیان ریکارڈ کا حصہ ہے کہ امریکہ نے سویت یونین کے خاتمے کے لئے القاعدہ بنائی‘ جہادی تنظیموں کو سپورٹ کیا۔ پاکستان اور سعودی عرب کی معاونت سے سویت یونین کے خلاف جہاد کامیاب بنایا۔ مشرف دور میں ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ لیا‘ ہم نے یہ بھی نہیں سوچا کہ یہ جنگ کس کی ہے ہمارا اس سے کیا سروکار ہے؟ ہمیں جنگ میں شامل ہونے ‘ کرانے کے لئے دھمکی دی گئی اگر شامل نہ ہوئے تو پتھر کے دور میں پھینک دیئے جائیں گے۔امریکہ نے ہمارا ساتھ حاصل کرنے کے لئے بھارت کا ”ہوا“ کھڑا کیا بھارت اور امریکہ دونوں نے مل کر پاکستان اور پاکستانی معاشرہ کو جو نقصان پہنچایا یا پہنچایا جا رہا ہے وہ ہمارے سامنے ہے آج بھی ہم دشمن کو پہچاننے کی بجائے ان کے ہم نوا ہیں۔ یہ درست ہے کہ یزیدیت کے پیسے سے حج حرام ہے پھر یہ کہاں درست ہے کہ امریکہ کے خرچ پر اور امریکی ہدایات پر ہم اصلاح کا بیڑا اٹھالیں۔خدارا انتہا پسندانہ سوچ سے باز رہا جائے‘ یہ ہمارے معاشرہ کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔
٭:شوکت حیات ‘ پاسٹر سینیٹ پال چرچ واہ کینٹ
اسلام اور عیسائیت دونوں امن‘ محبت اور اخوت کے مذاہب ہیں بد قسمتی سے ہم اپنے اپنے مذہب کی تعلیمات پر پوری طرح عمل نہیںکر پا رہے‘ اگر ہمارے بڑے اسلام اور عیسائیت کی تعلیمات پر اس کی روح کے مطابق عمل کریں تو سارے مسائل خود بخود ختم ہو جائیں ۔ہمارے معاشرے کو دو بنیادی مسائل نے اطراف سے گھیرا ہوا ہے۔ جہالت اور بےروزگاری یہ ان تمام مسائل کی جڑ ہے جس سے ہر کوئی پریشان ہے۔ ہمارے نزدیک تیسری وجوہ مذہبی تعلیمات سے دوری ہے کاش ہم اپنے اپنے رویوں میں تبدیلی لے آئیں۔ جس روز ہمارے دلوں میں خدا کا خوف پیدا ہوگا اسی روز ہمارا تعمیر کی طرف سفر شروع ہو جائے گا۔اس کے لئے پادری صاحبان ‘ مولوی صاحبان‘ خصوصاً اساتذہ کرام کو اپنی ذمہ داری دیانتداری سے ادا کرنا ہو گی۔
٭:پروفیسر اکبر حسین ھاشمی، ممبر سپریم کونسل مرکزی جماعت اہلسنت پاکستان
 دہشت گردوں کی کارروائیوں کے پیش نظر اس میں کوئی ابہام باقی نہیں کہ وہ لوگ مسلمان ہیں نہ ہی نظام اسلام یا شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں۔ بلکہ پاکستان جو دنیائے اسلام کی امیدوں کا مرکز اور اسلام کاقلعہ ہے اس کی تباہی کے درپے ہیں۔ یہاں یہ بھی عرض کردوں کہ پاکستان بننے کے بعد کونسی مذہبی یا سیاسی جماعت ہے کہ جس نے اس ملک میں نظریہ پاکستان کے نفاذ کے لئے کوئی تحریک چلائی ہو یا اس کا مطالبہ کیا گیا ہو۔ ایوانہائے اقتدار میں منتخب ہوکر آنے والوں سے تو مولوی صاحبان نے صرف یہ مطالبہ کیا کہ ہمیں بھی کچھ وزارتیں دیں ورنہ آپ کے خلاف تحریک چلائیں گے۔ اس طرح انہیں بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا موقع مل گیا۔نان جویں پر شب و روز بسر کرنے والے بعض علماءکرام کے جانشین اب کروڑوں کی بلٹ پروف لینڈ کروزرو میں سفر کے مزے لیتے ہیں۔ میری یہ باتیں یقینا ان کے لئے تلخ ضرور ہیں لیکن مبنی بر حقیقت ہیں ۔یہی حال بیشتر خانقاہوں کے سجادہ نشینوں کا ہے زکوة فنڈ اور بیت المال کا بیشتر حصہ دارالعلوم کے نام پر ہضم ہورہاہے۔ افسوس ہے کہ ہمارے علماءکرام نے تبلیغ کرنا چھوڑ دیا ہے اگر ہمارے علماءکرام اور مشائخ عظام دینی تعلیم کو فروغ دیتے تو آج خرابیاں یوں سر نہ اٹھاتیں۔
٭:مولانا عبدالقدوس محمدی ،تر جمان وفا ق المدارس العربیہ پاکستان
بنیا دی اسلا می تعلیما ت ہمیں باہمی محبت و اخوت اور رواداری کا درس دیتی ہیں حضور کی مبا رک تعلیمات میں ہما رے تمام مسا ئل کا حل مو جو د ہے اگر ہم اپنے مزاج ،گردوپیش کے حالا ت اور خواہشات کو ایک جا نب رکھ کر پو رے اخلا ص کے سا تھ خا لصاًاسلا می تعلیما ت کو اپنی زندگیو ں کا حصہ بنا ئیں تو تما م مسا ئل کا جڑ سے خا تمہ ہو سکتا ہے .... ہما را المیہ یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک نے ڈ یڑ ھ اینٹ کی مسجد بنا رکھی ہے،ہمیں باہمی اخوت و محبت کے لیے ایک دوسرے کے جذ با ت کا احترام کر نا ہو گا ،مقد س ہستیو ں کا احترام ،دوسروں کے نظریا ت اور احساسا ت کا خیا ل رکھنا ہو گا یہ وہ تمام چیزیں ہیں جن کا فقدان معا شرے کو عدم برداشت اور تبا ہی کی طرف لے جا رہا ہے ۔دوسری وجہ ہما رے ہاں جو امتیا زی سلوک جا نبدارانہ رویے ہیں وہ معا شرے کے لیے سلگتی چنگا ریا ں ہیں ۔یہی چنگا ریاں لا وے کی صو رت اختیا ر کر کے پھٹتی ہیں اور تبا ہی پھیلا دیتی ہیں اسلیے ہمیں اپنے رویو ں پر غو ر کر نا ہو گا ۔
٭....ام محمد ،(اسماءنور) انچارج الفلاح اسلامک سنٹر اسلام آباد
اس وقت پوری قوم مسائل میں جکڑی ہوئی ہے،دہشت گردی ،انتہا پسندی ،فرقہ واریت اور دیگر مسائل نے ہمارے ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے ،اس صورتحال سے ہر شخص متاثر ہوا ہے ،ان مسائل سے نجات حاصل کرنے کے لئے ہر طرف سے آوازیں بلند ہو رہی ہیں،ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں مسائل کے خاتمے کے لئے کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی ،تنازعات اور اختلافات کے اسباب ختم کرنے اور مسائل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے بجائے دائیں بائیں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں ، جب بھی دہشت گردی جیسے عالمی مسئلے کے خاتمے کی بات کی جاتی ہے تو ہماری تان لاﺅڈ سپیکر اور موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پہ پابندی پر آ کر ٹوٹتی ہے
     عمر بھر ہم یونہی بھول کرتے رہے    دھول چہرے پہ تھی آئینہ صاف کرتے رہے
 اب ہمیں مسائل حل کرنے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا ۔ اسباب و عوامل پہ غور کر کے انکے خاتمے کیلئے پالیسی تشکیل دینی ہو گی۔ اب دیکھئے ہمارے ہاں دہشت گردی کی لعنت نائن الیون کے بعد امریکہ اور اتحادی افواج کو افغانستان کیلئے راہداری دینے کے فیصلے پرآ ئی۔اب اس لعنت سے جان چھڑانے کیلئے ضرورت اس امر کی تھی کہ ہم امریکی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیتے اور ایسی گریٹ گیم سے باہر نکل آتے جس کے ہماری قوم اور ہمارے بچے متحمل نہیں ہو سکتے،لیکن اس طرف نہ تو توجہ دی جا رہی ۔ ہمیں دوسروں کی دل آزاری کے بجائے احترام انسانیت کو فروغ دینا ہو گا ،اب وقت آگیا ہے کہ ہم مرنے مارنے کی باتیں کرنے کے بجائے اپنے بچوں کے بہتر اور محفوظ مستقبل کے لئے امن کی بات کریں،عالمی اتحاد سے علیحدگی اختیار کی جائے اور تعلیم اور اخلاق کے فروغ کے لئے کام کریں۔