دوبئی میں جشن میلاد النبی کی روح پرورتقریب

طاہر منیر طاہر
ہر سال 12 ربیع الاول پوری دنیا بھرکے مسلمانوں اور عاشقان رسول کے لئے وہ مقدس اور انتہائی خوشی کا دن ہے جب محسن کائنات حضرت محمد دنیا میں تشریف لائے۔ آپ کے یوم ولادت با سعادت کے حوالے سے اس روز کو عیدمیلادالنبی کے نام سے منایا جاتا ہے اس دن کی خوشی میں دنیا کے دوسرے حصوں کی طرح متحدہ عرب امارات میں بھی سرکاری سطح پر چھٹی ہوتی ہے۔ ذکر الہی اور درود سلام کی محافل سجتی ہیں جس میں عاشقان رسول شامل ہوتے ہیں اور عید میلادالنبی مناتے ہیں۔
گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی 12 ربیع الاول کے موقع پر دبئی کے اےک فائیو سٹار ہوٹل میں عیدمیلاد النبی کی ایمان افروز اور روح پرور تقریب ہوئی جس کا انعقاد اےک سچے عاشق رسول چودھری نورالحسن تنویر نے کیا تھا۔اس اجتماع میں اےک ہزار کے قریب لوگوں نے شرکت کی۔ عید میلادالنبی کی تقریب کو چار چاند لگانے کے لئے پاکستان سے بھی ثناخوانوں کو بھی مدعو کیا گیا۔ محفل میلادالنبی کیلئے اس کی تیاریاں دو ماہ قبل ہی شروع کر دی گئی تھیں۔ جس کے منتظم اعلی چودھری نورالحسن تنویر جبکہ دیگر منتظمین میں چودھری محمد شفیع، عبدالوحید پال، ایم پی اے، آزاد علی تبسم، محمد افتخار بٹ،طاہر منیر طاہر، ارشد انجم، طاہر لفینڈر، رضا شاہد، حافظ زاہد علی غوث قادری اور ڈاکٹر محمد اکرام شہزاد شامل تھے، محفل میلاد النبی میں شرکت کے لیے پاکستان سے الحاج سرور حسین نقشبندی، قاری زوار بہادر، قاری محمد افضال انجم اور ایم ایم ادیب تشریف لائے۔ محفل کے مہمان خصوصی صاحبزادہ شاہ محمد اویس نورانی تھے۔ محفل میلادالنبی کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت قاری افضال انجم نے کی، جبکہ محفل میلادالنبی کی نقابت کے فرائض حافظ زاہد علی نے انجام دیے۔ انہوں نے وقفہ وقفہ سے اپنی تقاریر کے ذریعے محفل کا سماں باندھا اور حاضرین مجلس سے بھرپور داد بھی پائی۔ عید میلادالنبی کی اس پاک محفل میں پاکستانی کمیونٹی متحدہ عرب امارات کے چودھری شاہد جمیل، چودھری منیرانور، چودھری ظفر اقبال، میاں منیر ہانس، چودھری راشد علی بریار،حاجی محمد نواز، عبدالمجید فضل، غلام مصطفی فضل، چودھری نائل تنویر، چودھری آفتاب حسین،غلام عباس بھٹی، شہزاد ڈوگر، پرنس اقبال، یونس پراچہ، سید وقار حسین گردیزی، اور محمد سلیم اختر کے علاوہ دیگر لوگوں نے بھی شرکت کی۔ دوران تقریب متذکرہ تمام افراد کی دستار بندی کی گئی۔ اس موقع پر صاحبزادہ شاہ محمد اویس نورانی، قاری زوار بہادر اور چودھری نورالحسن تنویر اور دگرمقررین نے کہا کہ محسن انسانیت کے جشن ولادت باسعادت میں ہم سب کی حاضری ہمارے لئے باعث رحمت و برکت ہے۔ رسول پاک کے اس دنیا میں تشریف لانے سے قبل عالم عرب اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا۔ آپ کی دنیا میں تشریف آوری پر اندھیرے چھٹ گئے۔ ہر طرف نور پھیل گیا۔ ہر جانب روشنی ہو گئی۔ مکہ کی فضاو¿ں پر رحمت، انوار کی بارش ہونے لگی، آپ کی آمد سے مظلوموں کی سنی گئی اےک عام آدمی کو عزت سے رہنے کا حق ملا۔ عرب قبائل کی دشنی ختم ہو گئی۔ غرضیکہ ہر طرف امن و سکون کا ماحول چھا گیا۔ آپ کی رحمت قیامت تک تمام عالم پر ابرکرم کی طرح برستی رہے گی۔ سرور کائنات سرکار دوعالم کی ذات بابرکات رحمت ا للعالمین ہے آپ نے یتیموں، مسکینوں، مظلوموں، بے سہاروں، بے بسوں، اور غریبوں کو سہارا دیا، آپ کی آمد سے تاریکی کے بادل چھٹ گئے اور دنیا کا ہر گوشہ اور ہر ذرہ آپ کے نور سے منور ہو گیا۔ عالم عرب کا کفروشرک سے بھرپور معاشرہ کفرو شرک سے پاک ہونے لگا۔ آپ کی مثال غیر مسلم بھی دیتے ہیں۔ حضور اکرم کی حیات مبارکہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے اگر آج بھی ہم اسوہ حسنہ کو اپنا لیں اور اپنی زندگیوں کا قبلہ درست کر لیں تو دین و دنیا میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ آج ہم فرقہ بندی اور گروہ بندی کا شکار ہو کر اسلام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ حضور پاک کی تعلیمات آج بھی کامیابی کا خزینہ ہیں لہذا تمام مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ آپس میں اختلافات بھلا کر اسلام کے پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں۔ محفل میلاد النبی میں قرعہ اندازی کے ذریعے پچاسی خوش نصیبوں کو عمرہ کے ٹکٹ بھی دیے گئے۔ درود وسلام اور کلام کی اس متبرک محفل میں اتحاد بین المسلمین کے لئے دعا کی گئی آخر میں حاضرین مجلس کو لنگر بھی تقسیم کیا گیا۔