حضرت سید فخر الدین المعروف سید میراں حسین شاہ زنجانی

پیر بھائی
حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ
اشرف بٹ اسد ایڈووکیٹ
دین مصطفیٰ کی اشاعت و تبلیغ کے سلسلہ میں جو اولیائے اکرام ہندوستان تشریف لائے اور جنہوں نے بھٹکے ہوئے لوگوں کے دلوں میں نور محمد کی شمعیں روشن و منور کر کے انہیں مشرف بہ اسلام کیا ایسے اولیائے اکرام میں ایران کے صوبہ زنجان سے آنے والے بزرگوں میں حضرت فخرالدین المشہور میراں شاہ زنجانیؒ اور صوبہ ہجویر سے حضرت علی ہجویری المشہور داتا گنج بخشؒ سرفہرست ہیں۔ حضرت داتا صاحب سے قبل حضرت میراں حسین شاہ زنجانیؒ نے لاہور میں اسلام پھیلایا۔
حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءمحبوب الٰہی کے خلیفہ اور فیض یافتہ حضرت خواجہ حسن سنجری مصنف فوائد الفواد نے اپنی تصنیف میں لکھا ہے کہ حسین شاہ زنجانی اور سید علی ہجویری ایک ہی مرشد حضرت خواجہ ابوالفضل بن ختلی کے مرید تھے۔ حضرت میراں حسین شاہ زنجانی کے بعد لاہور میں حضرت داتا گنج بخش اپنے پیر و مرشد کے حکم پر لاہور تشریف لائے ۔ایک دن دوران سفر جب آپ اپنے پیر و مرشد کے ہمراہ عراق میں تھے۔ حضرت ابوالفضل ختلی نے حضرت سید میراں حسین شاہ زنجانی کو ہندوستان میں جا کر دین متین کی تبلیغ کر نے کا حکم دیا اور آپ کو میراں کے خطاب سے دے کر خرقہ خلافت عطا فرمایا۔ آپ افغانستان کے راستے ہندوستان میں تشریف لائے آپ کے ہمراہ آپ کے دونوں سگے بھائی حضرت سید صدر دیوان یعقوب شاہ زنجانی ( مزار واقع میو ہسپتال روڈ) اور حضرت سید موسیٰ زنجانی (مزار واقع سلطانپورہ مصری شاہ) بھی تھے۔
حضرت سید میراں حسین زنجانی 26 شعبان 348 میں ایران کے تاریخی شہر زنجان میں پیدا ہوئے۔ جب کہ تذکرہ نگاروں نے آپ کا اصل نام فخرالدین لکھا ہے ۔آپ کے والد گرامی کا نام جناب سید علی محمود موسوی تھا جو نہایت زاہد و عابد اور ایک اچھے عالم دین بھی تھے اور اپنے زمانے کے کامل ولی اللہ حضرت موسیٰ سے بیعت تھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا اسم گرامی حضرت مریم صغریٰ تھا بڑی عابدہ و زاہدہ خاتون تھیں۔ آپ تمام آٹھ بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔آپ کا حسب نسب مختلف واسطوں سے حضرت امام حسینؓ کے ساتھ ملتا ہے، آپ کے آباﺅ اجداد خلافت راشدہ میں بھی رہے اور اس کے بعد عراق شہر میں سکونت اختیار کی اورحضرت امام موسیٰ کاظم کی اولاد میں سے سید جعفر برقعی تھے۔ یہی بزرگ حضرت سید میراں حسین زنجانی کے دادا تھے۔ اہل سادات کا یہ سلسلہ زنجانیہ کے نام سے آگے بڑھا۔
آپ نے ابتدائی تعلیم زنجان میں ہی حاصل کی ، مگر طبعیت میں ہر وقت بے چینی تھی جیسے کسی کی طلب و تلاش ہو۔ چنانچہ والد گرامی نے آپ کو ساتھ لیا اور حضرت ختلی کی خدمت میں گازون پہنچے۔ بیعت کر لینے کے بعد آپ اپنے مرشد کے ہاں ہی قیام پذیر ہوگئے اور قلیل عرصہ میں طریقت و حقیقت اور سلوک کی منازل طے کرلیں۔
حضرت میراں زنجانی کے بارے میں کتب میں مرقوم ہے کہ آپ حد درجہ عبادت گزار تھے اور ہمیشہ عشاءکی نماز کے وضو سے ہی فجر کی نماز ادا کرتے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ تمام رات عبادت میں مشغول رہتے تھے اور دن بھر اپنے مرشد و مربی، حضرت ختلی کی خدمت میں مصروف رہتے تھے۔
ہندوستان میںدین اسلام کی اشاعت و تبلیغ کےلئے روانگی پر جاتے ہوئے جب آپ شہر سے نیشاپور پہنچے تو وہاں آپ کی ملاقات سلطان محمود غزنوی سے ہوئی جو اس وقت حصول تخت کے لئے کوشاں تھا اور غزنوی کی سلطنت اس وقت اس کے بھائی اسماعیل کے ہاتھوں تھی۔ ایک دفعہ آپ نیشاپور کی جامع مسجد میں تقریر فرما رہے تھے کہ محمود غزنوی آپ کا خطاب سن کر بہت متاثر ہوا۔ بعد از نماز آپ سے دعا کی طلب کی تو آپ نے اس کے حق میں دعا فرمائی چند دنوں میں ہرات کے مقام پر سلطان محمود نے سلطان اسماعیل ک وشکست دی اور غزنی پر حاکم ہوگیا ۔جب وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا سلطان محمود اسلام کی سربلندی کے لئے ہمیشہ کوشاں رہنااور انصاف کرنا ۔
ہلمند سے آگے بڑھتے ہوئے یہاں سے غزنی پہنچے اور محلہ دارالسلام میں سکونت پذیر ہوئے۔ مگر چند دین سفر کی تھکان دور کر کے پھر عازم سفر ہو گئے۔ اور درہ خیبر سے گزرتے ہوئے پشاور پہنچے چند روز رک کر مارگلہ تشریف لائے جب یہاں قیام فرمایا تو لوگوں کی زبانی معلوم ہوا کہ یہاں ایک بہت بڑا جادوگر رہتا ہے جو منہ کے ذریعے آگ نکالتا ہے اور بہت سے لوگوں کو اس نے گمراہ کر رکھا ہے آپ اس سے ملے اور اسے اسلام کی دعوت دی مگر وہ نہ رضامند ہوا۔آپ نے فرمایا ذرا مجھے بھی تو منہ سے آگ نکال کر دکھاﺅ جب اس نے آگ نکالی تو آپ نے پھونک مار دی اور باوجود کوشش کے پھر وہ آگ نہ نکال سکا اور حضرت میراں زنجانی سے معافی کا طلبگار ہوا۔ آپ نے اسی وقت اسے کلمہ پڑھا کر مسلمان کر دیا۔ اس واقعہ کے بعد اس علاقے کے لوگ آپ کے ہاتھ دست بیعت ہوگئے۔کئی شہروں، قصبوں، بستیوں سے ہوتے ہوئے اور طویل دشوار گزار راستے طے کرنے کے بعدجب آپ لاہور دریائے راوی کے کنارے پہنچے تو شام کا وقت تھا۔ دریا میں طغیانی تھی۔ دوسرے دن بذریعہ کشتی لاہور میں وارد ہوئے بذریعہ کشف مرشد نے حکم دیا” بیٹا یہی تیری منزل ہے“ آپ نے موسی زنجانی کو شمالی جانب، یعقوب زنجانی کو شہر کے جنوبی حصے میں قیام کرنے کہ کہا اور خود مشرقی حصے میں ٹھہرے جسے آج کل چاہ میراں کہتے ہیں۔ ان دنوں لاہور کفر کا گڑھ تھا۔ کفروالحاد وشرک کے اندھیرے چھائے ہوئے تھے جہاں حضرت میراں حسین زنجانیؒ اور آپ کے بھائیوں نے اللہ کی وحدانیت کے چراغ روشن کرنے تھے اور لوگوں کو ظلمت سے روشنی کی طرف لانا۔
حق تبلیغ ادا کرنے لئے اولاً آپ نے یہاں کی زبان سیکھی۔ پھر گلی گلی محلے محلے لوگوں کو دعوت حق دینے لگے۔ بسااوقات چند اےک لوگوں کو یکجا اکٹھا کر کے اسلام کی حقانیت کو قبول کرنے کی تلقین فرماتے۔ نتیجتاً پروہت اور دورسرے اکابرین اپنے لئے خطرہ محسوس لگے تھے۔ لہذا انہوں نے حضرت سیدنا زنجانیؒ کے پیچھے بچے لگا دیئے جو آپ کو پاگل کہتے۔ مذاق اڑاتے اور روڑے مارتے لیکن آپ کے پائے استقلال میں کوئی کمی نہ آئی۔ اس طرح تین سال عرصہ گزر گیا تو مرشد کے کہنے کے مطابق آپ نے ہر جمعتہ المبارک کو ۔ تبلیغ کرنا شروع کر دی۔ دائم المرض افراد اور دیگر بیمار لوگ بغرض شفا آنے لگے۔ آپ پانی دم کر کے دیتے تو شفایاب ہو جاتے۔ اس طرح آپ کی روحانیت کے چرچے ہونے لگے۔ رفتہ رفتہ لوگوں اسلام قبول کرنے لگے جن میں روز افزوں اضافہ ہوتا گیا۔
ؒ اےک مرتبہ کا ذکر ہے آپ دو ہندوو¿ں کو کئی دن تک دعوت اسلام دیتے رہے۔ اےک دن انہوں نے سوچا کہ یہ بوڑھا خواہ مخواہ ہمار دماغ کھاتا ہے اس کا کام تمام کر دینا چاہیے۔ چنانچہ اےک شب وہ چھپ کر بیٹھ رہے۔ نماز عشاءکے بعد جب آپ ذکرو اذکار میں مصروف ہوئے تو وہ چھروں سے آپ پر حملہ آور ہوئے تو امر ربی سے اندھے ہو گئے۔ واپس جانے لگے تو بینا ہو گئے۔ دوبارہ ارادہ قتل کیا تو پھر کور چشم ہو گئے، اسی طرح دو چار بار ہوا تو سمجھ گئے کہ یہ اللہ کا مقبول بندہ ہے۔ لہذا کلمہ پڑھ کر فوراً مسلمان ہو گئے اور تاحیات خدمت بجا لاتے رہے۔
حضرت شاہ حسین میراں زنجانی نے سرعام دین کی تبلیغ شروع کر دی تو آپ کا حجرہ ہر وقت غرض مندوں اور عقیدت مندوں سے بھرا رہتا ۔ یہاں حجرے کے قریب ہی ایک کنواں کھدوایا مگر اس سے پانی کھارا نکلا ۔ آپ نے اسی وقت کنویں کے قریب کھڑے ہو کر خدا کے حضور دعا کی وہ پانی میٹھے پانی میں تبدیل ہو گیا۔ اس کرامت پر شہر بھر سے لوگ آنا جانا شروع ہوگئے آپ کے ہاں حاضری دینے لگے۔یہ کنواں آج بھی موجود ہے جسے میراں دی کھوئی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔آپ نے چوالیس سال لاہور میں قیام فرمایا اور کافرستان میں اسلام کے چراغ روشن کئے۔ قدیم تاریخ لاہور کی کتب میں موجود ہے کہ حضرت خواجہ سید معین الدین چشتی اجمیری نے تین روز تک چلہ کشی کی ہے۔ جبکہ معین الہند کتاب کے مصنف ڈاکٹر ظہور شارپ نے لکھا کہ خواجہ سید معین الدین چشتی اجمیری نے لاہور میں قیام کے درمیان حضرت سید میراں حسین شاہ زنجانی سے ملاقات کی تھی۔
ہندوستان کے بیشمار اولیاءکرام بھی آپ کے آستانہ عالیہ پر حاضری دیتے رہے ہیں جن میں حضرت میاں میر لاہوری، حضرت مادھولال حسین، حضرت بابا فرید گنج شکر، بابا بلھے شاہ، حضرت شاہ عنایت قادری، میاں شیر محمد شرقپوری، بابا شاہ کمال، شاہ جمال اور شاہ چراغ اور حضرت خواجہ طاہر بندگی شامل ہیں۔ تاریخ لاہور کے مصنف رائے بہادر کنہیا لال کے مطابق اس نے خود حضرت سید محمد میراں حسین زنجانی کے دربار میں حاضری دی اور خود دیکھا کہ حضرت کے مزار کے سرہانے رکھے گئے چراغ دان رات ہوتے ہی چراغ خود بخود روشن ہو جاتے۔
حضرت سید میراں حسین زنجانی کا قد مبارک دراز اور جسم فربہ تھا۔ کثرت عبادت کے نور سے چہرہ قدرے مائل بہ زردی تھا۔ آنکھیں بادہ عشق الہی سے مخمور رہتی تھیں۔ لباس میںزیادہ تر کھدر استعمال کرتے ۔ ساری عمر عبادت و تبلیغ میں بسر کر دی اور شادی نہ کی ۔ اپنے پرائے ان کے اخلاق حسنہ اور روحانی زندگی کا دم بھرتے تھے۔ جو بھی دروازہ پر آیا فیضیاب ہو کر لوٹا لیکن خود فقر و فاقے میں بسر کی۔آخری ایام میں حضرت سید میراں حسین زنجانی بیمار ہو گئے اور حاکم لاہور راجہ رام چندر جس کا آپ نے اسلامی نام عبداللہ رکھا تھا کے اصرار پر آپ چاہ میراں سے یکی گیٹ شیرانوالہ گیٹ تشریف لے گئے۔ وصال کی رات آپ نے وصیت فرمائی کہ میرا آخری وقت آ گیا ہے اور میرا تبلیغی مشن پورا ہوگیا ہے۔ کل صبح سویرے جو شخص سب سے پہلے لاہور میں داخل ہو گا وہی میرا نماز جنازہ پڑھائے گا۔ نیز مجھے لاہورکے مشرقی کنارے پر دفن کیا جائے۔
آپ کا جنازہ لوگ اٹھائے جا رہے تھے کہ روایات کے مطابق حضرت داتا گنج بخش نے آپ کے جنازے کو روکا اور پوچھا کہ یہ کس کا جنازہ ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ قطب الاقطاب حضرت میراں حسین زنجانی کا ہے پھر ان کو پتہ چلا کہ کہ مجھ کو یہاں لاہور کیوں بھیجا گیا کہ مسند ولایت خالی ہو چکی ہے۔ چنانچہ انہوں نے خود آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ لحد میں آپ کو اتارا اور دعائے خیر فرمائی۔
حضرات میراں حسین زنجانی کا مزار مقدس چاہ میراں کی پررونق آبادی میں موجود ہے۔ جہاں آپ ہی کے خانواد ے کے چشم و چراغ پیر سید محمد ادریس شاہ زنجانی آپ کے سجادہ نشین ہیں۔ آپ کا سالانہ عرس مبارک گزشتہ کئی سالوں سے ربیع الاول کے مہینہ کے آخری ہفتہ میں اتوار کو چاہ میراں لاہور میں منایا جاتا ہے۔ جبکہ سالانہ غسل شریف 12 ربیع الاول کو رات دو بجے ہوتا ہے۔ آپ کاسالانہ عرس کل بروزہفتہ شروع ہو کر اتوار تک جاری رہے گا۔ چاہ میراں میں عرس مبارک کی تمام رسومات امور مذہیبہ کمیٹی اور سجادہ نشین صاحبزادہ پیر سید محمد ادریس شاہ زنجانی ادا کریں گے۔