’’خواہش نامکمل رہ جائیں، تو رب بہت یاد آتا ہے‘‘

’’خواہش نامکمل رہ جائیں، تو رب بہت یاد آتا ہے‘‘

روزی خادم
چلنے والے انسان کے دونوں پیروں میں کتنا فرق ہوتا ہے۔ ایک آگے ہوتا ہے تو دوسرا پیچھے لیکن نہ تو آگے والے کو غرور ہوتا ہے اور نہ پیچھے والے کی توہین ہوتی ہے کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ پل بھر میں یہ بدلنے والے ہیں تو پھر غرور کس بات کا اور توہین کیسی۔ اگر اس زندگی میںکچھ کھونا پڑے تو یہ دو باتیں یاد رکھیے گا ایک تو یہ کہ جو کھویا ہے اس کا غم نہیں اور جو پایا ہے وہ کسی سے کم نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ جو پاس نہیں وہ ایک خواب ہے اور جو پاس ہے وہ لاجواب ہے اور اسی پر خدا کا شکر بجا لائیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ نظر اور نصیب کا کچھ اتفاق ہے کہ نظر کو وہی چیز پسند ہے جو نصیب میں نہیں ہوتی اور نصیب میں لکھی ہوئی چیز نظر نہیں آتی اسے ہی زندگی کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو اسکی ضروریات کے مطابق عطا کر رکھا ہے اور جو عطا کرے گا یہ انسان نہیں جانتا کہ جو اس کے پاس نہیں ہے وہ کس وقت حقیقت میں اس کی ضرورت ہے یہ صرف وہی ذات جانتی ہے اور وہ انصاف سے  عطا کرتا ہے۔ شیخ سعدیؓ فرماتے ہیں۔ ’’مجھے اللہ کی ذات پر اس دن بہت یقین آیا جب میںنے امیر اور غریب کا اک جیسا کفن اور ایک جیسی قبر دیکھی‘‘ مگر ہم نادان انسان سمجھ نہیں رکھتے اور اپنے  الفاظ میں زہر اُگلتے رہتے ہیں۔ کیونکہ انسان ہی وہ واحد مخلوق ہے جس کا زہر اس کے الفاظ میں چھپا ہوتا ہے۔ ہمیں اپنے پیارے آقا حضرت محمد ؐ کی سنتوں پر عمل کرنا ہوگا۔ تا کہ ہم اپنے خدا کو راضی کر سکیں اور لوگوں کو متاثر کرنے والی مشینوں کو چھوڑنا ہوگا۔ یہ تو اب ہم پر انحصار کرتا ہے کہ اللہ کو راضی کرنا ہے یا پھر لوگوں کو متاثر کرنا ہے یاد رکھیں کہ لوگ کبھی بھی آپ سے متاثر اور خوش نہیں ہوں گے۔ مگر اللہ کی رحمت بہانے ڈھونڈتی ہے اپنے بندے کو نیک بنانے کے لئے اپنے بندے کو معاف کرنے کیلئے مگر ہمیں تو بندگی آتی ہی نہیں ہم تو اللہ کو اس وقت یاد کرتے ہیں جب ہر طرف سے مایوس ہو جاتے ہیں خوشی کے وقت ہمیں اللہ یاد نہیں ہوتاکبھی آنسو کبھی سجدے، کبھی ہاتھوں کا اٹھ جانا خواہش نا تمام رہ جائیں تو رب بہت یاد آتا ہے۔ خواجہ حسن بصری  نے بصرہ میں ایک غلام خریدا اور غلام بھی ولی اللہ تھا۔ حسن بصری ؒ نے غلام سے پوچھا کہ اے غلام! تیرا نام کیا ہے؟ اس نے کہا حضور! غلاموں کا کوئی نام نہیں ہوتا مالک جس نام سے چاہے پکارے آپ نے فرمایا اے غلام! تجھے کیسا لباس پسند ہے؟ اس نے کہا حضور! غلاموں کا کوئی لباس نہیں ہوتا جو مالک چاہے پہنا دے وہی اس کا لباس ہوتا ہے۔ پھر انہوں نے پوچھا اے غلام! تو کیا کھانا پسند کرتا ہے؟ غلام نے کہا کہ غلام کا کوئی کھانا نہیں ہوتا جو اس کا مالک چاہے کھلا دے وہی اس کا کھانا ہوتا ہے۔ خواجہ حسن بصری ؒ چیخ مار کر بے ہوش ہو گئے جب ہوش آیا تو فرمایا اے غلام! میں تجھ کو آزاد کرتا ہوں، میں نے تجھے پیسے سے خریدا تھا مگر اب تجھ کو پیسے نہیں مفت میں آزاد کرتا ہوں۔ غلام نے بڑی حیرانی سے پوچھا کہ کس نعمت کے بدلے آپ مجھے آزاد کر رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا تم نے ہم کو اللہ کی بندگی کرنا سکھا دی۔ خدا کی بندگی تو بادشاہ کے وزیر نے بھی کی جو بادشاہ کی نوکری چھوڑ کر اللہ کی عبادت میں مشغول ہو گیا۔ وہ وزیر بہت دین دار اور عقلمند تھا۔ لیکن اچانک نوکری چھوڑ جانے پر بادشاہ پریشان تھا ایک بادشاہ اس کے پاس گیا اور پوچھا کہ تم نے نوکری کیوں چھوڑ دی؟ وزیر نے کہا پانچ باتوں کی وجہ سے میں نے بادشاہ کی شاہی نوکری چھوڑ دی۔ بادشاہ نے وہ پانچ وجوہات پوچھی تو وزیر نے کہا: ایک تو آپ بیٹھے رہتے ہیں اور میں آپ کی خدمت میں کھڑا رہتا ہوں لیکن اب خدا کی بندگی کرتا ہوں تو نماز میں بیٹھنے کا حکم بھی ہے دوسری وجہ یہ کہ آپ تو بیٹھے کھاتے رہتے ہیں اور  میں آپ کو کھڑا دیکھتا رہتا ہوں مگر اب ایسا رزق مل گیا ہے کہ جو مجھ کو کھلاتا ہے لیکن خود کھانے سے پاک ہے۔ تیسری وجہ یہ کہ آپ سوتے رہتے اور میں پہرہ دیا کرتا تھا اب میں ایسے بادشاہ کی غلامی کرتا ہوں کہ میں خود سوتا رہتا ہوں اور وہ میری نگہبانی کرتا ہے چوتھی وجہ یہ ہے کہ میں ڈرتا تھا کہ آپ مر گئے تو آپ کے دشمن مجھے تکلیف دیں گے۔ اب ایسی ہستی کی خدمت میں ہوں جو ہمیشہ قائم رہے گا اس لئے مجھے کسی بھی قسم کا خوف نہیں۔ پانچویں وجہ یہ ہے کہ میں ڈرتا تھا کہ مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی تو آپ مجھے نہیں بخشیں گے۔ اب مالک ایسا رحمدل ہے کہ دن میں سو مرتبہ بھی غطلی کروں تو وہ توبہ کرنے سے بخش دیتا ہے تو ہر انسان کو چاہیے کہ وہ خود کو اللہ کی بندگی میں سونپ دے۔ اپنے اللہ اور اپنے آقا حضرت محمدؐ سے سچی محبت کرو۔ ایسی سچی محبت کہ جب انسان گہری نیند بھی سو رہا ہو اور اس کے کانوں میں آذان کی آواز اور وہ اپنی نیند کو چھوڑ کر نماز کیلئے کھڑا ہو جائے۔