مجاہد ملت کے چھ دن چھ راتیں

مجاہد ملت مولانا محمد عبدالستار خان نیازی  ؒ کو ملٹری کورٹ نے تحریک تحفظ ختم نبوت 1953ء کی قیادت کی پاداش میں 14 مئی کو سزائے موت کا حکم سنایا۔ پرانی سنٹرل جیل شادمان ایک کمرے میں ملٹری کورٹ کے کرنل نے    اپنا فیصلہ سناتے ہوئے  کہا کہ آپ حکومت کے باغی ہیں اس لئے ہم آپ کو سزائے موت دیتے ہیں، اس پر مجاہد ملت نے فرمایا۔
وہ حکومت جو خدا کے احکام سے باغی ہو اس کی کیا سزا ہے۔ موت کیا چیز ہے موت سے بڑی کوئی سزا ہے تو لائو‘‘ نیازی کی آرزو ہے کہ اس کی لاکھوں، کروڑوں جانیں ہوں اور وہ ناموس رسالتؐ کی خاطر قربان کرتا چلا جائے اور یہ سلسلہ ختم نہ ہو۔مجاہد ملت فرماتے ہیں کہ  فوجی عدالت والے مجھے سزا سنا کے کمرے سے باہر چلے گئے اور کمرے میں اکیلاا میں رہ گیا تو اللہ تعالی جل شانہ اور اس کے حبیب پاکؐ کے صدقے او طفیل غم، پریشانی یا گھبراہٹ کی بجائے میری زبان یہ شعر جاری ہوگیا؎
کشتگان خنجرِ تسیلم را
 ہر زماں ازغیب جان ِدیگراست
جس کادوسرا مصرع ’’ بار بار  پڑھ کر میں رقص کر رہا تھا۔ اتنے میں سپرنٹنڈنٹ جیل کمرے میں آیا اور میرے چہرے پر خوشی کے آثار دیکھ کر وہ کہنے لگا۔ نیازی صاحب! مبارک ہو، کیا  آپ بری ہوگئے ؟   لیکن میں نے اسے بتایاکہ نیازی اپنی مراد پاگیا ہے۔ پھر مجھے کال کوٹھڑی میں لیجانے کیلئے سیاہ جوڑا پہنانے لگے تو وہ پورا نہیں آرہا تھا۔ اس پر جیل ملازم بولے  کہ سزائے موت سننے کے بعد تو بڑے سے بڑے پہلوانوں کے پائوں کے نیچے سے زمین نکل جاتی ہے۔ مگر آپ کا جسم تو خوشی سے اس قدرنہال ہو گیا ہے کہ کوئی سیاہ جوڑا فٹ نہیں ہو رہا ۔ اس پر جیل حکام نے ایک لمبی سیاہ چادر میرے اوپر لپیٹی اور مجھے کال کوٹھڑی میں لے گئے۔ کال کوٹھڑی میں 6 دن اور 7 راتیں گزاریں اور جو کوئی مجھ سے میری عمر پوچھتا ہے تو میں کہتا ہوں کہ ’’6 دن اور 7 راتیں‘‘ جو کال کوٹھڑی میں گزاری ہیں۔ یہی میری عمر ہے۔
( مشتاق احمد)