قدرتی معدنیات سے مالا مال خطہ پوٹھوار

قدرتی معدنیات سے مالا مال خطہ پوٹھوار

ملک امریز حیدر
وطن کی سلامتی ہمارے عقیدے میں شامل ہے قوم چاہتی ہے پاکستان خوب ترقی کرے‘ خوشحالی اور مستحکم ہو لوگوں کا معیار زندگی بہتر اور بلند ہو‘ یہ خواب ابھی تک تشنہ تکمیل ہے مگر ہم مایوس نہیں ان شاء اﷲ خوشحالی اور ترقی کے دروازے ضرور کھلیں گے ان دنوں پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ گندم کی کٹائی میں روایتی جوش لئے ہوئے ہے۔ پنجاب میں گندم کٹائی کو باقاعدہ تہوار کی حیثیت حاصل ہے۔ کئی دیہات اور علاقوں میں پورا پورا گاؤں گندم کٹائی پسندی کو سیلبریٹ کرتا ہے۔  میرے وطن کی فصلیں یوں ہی لہلہاتی رہیں اور پاک سرزمین یوں ہی سونا اگلتی رہیں۔ قومی ترقی اور خوشحالی جہاں بہت سی علامات ہیں وہاں انتظامی یونٹ بھی بہتر کارکردگی بلکہ گڈگورننس کی زریں مثال سمجھی جاتی ہے جن ریاستوں انتظامی یونٹ زیادہ ہیں وہاں ترقی کی رفتار اور معیار زندگی کا اندازہ لگانا آسان ہے کاش ہمارے ’’بڑے‘‘ بھی اس ترقی کی اس راز پر غور و فکر کے چراغ روشن کر لیں… ہم اراکین پالیمنٹ سے صرف اتنا عرض کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان 1947میں آزاد ہوا  اس وقت آبادی چھ کروڑ پچاس لاکھ تھی کچھ عرصہ  ون یونٹ رہا آج 2015میں 4صوبے جبکہ سرکاری اعداد شمار کے مطابق پنجاب کی آبادی 10کروڑ، سندھ کی آبادی چھ کروڑ ،خیبر پختونخواہ،بلوچستان،  گلگت بلتستان سمیت پاکستان کی آبادی 30کروڑ ہے  جبکہ  چھبیس کے قریب ممبران قومی اسمبلی کا تعلق  پوٹھوار سے ہے 1981کے بعد مردم شماری کا نہ ہونا باعث تشویش بات ہے۔بھارت کے  1947میں 17صوبے 2015 تھے 12نئے صوبے  بنا چکا مردم شماری کراکر آبادی ایک ارب 40کروڑ بناچکا ہے 12نئے صوبے اور 56ڈیمز بناچکا آخری دنیا کا بڑاڈیم کارگل بنانے جارہا ہے ہم ایک کالا باغ ڈیم پر جھگڑرہے ہیں۔ایران آبادی کا 6کروڑ پچاس لاکھ صوبے 30۔ترکی آبادی 7کروڑ 7لاکھ صوبے 81ایسے کئی ممالک کی مثالیں شامل ہیں۔آپ سے پرزور اپیل ہے کہ خطہ پوٹھوار کی تعمیر و ترقی کے لئے کردار ادا کریں  خطہ پوٹھوار  بشمول اسلام آباد کیونکہ وہ بھی پوٹھوار کی زمین پر موجود ہے ممبران قومی اسمبلی منتخب اور مخصوص نشستوں کی تعداد 26ہے قومی اسمبلی میں پوٹھوار کے6اضلاع اٹک،میانوالی،چکوال،خوشاب ،جہلم اور راولپنڈی اور اُن کی 29تحصیلوں میں بسنے  والے 3کروڑ 25لاکھ  افرادچند سالوںمیں  5کروڑ سے تجاوز کرجائیں  گے  ہماری تحریک  غیر سیاسی  اور ہماری جدوجہد کسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ صرف اور صرف خطہ پوٹھوار کی پسماندگیوں اور محرومیوں سے نکالنے اور اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے ہیں خدا کے لئے اہل پوٹھوار کے حقوق کی قومی اسمبلی میں آواز بلندکریں ،خطہ پوٹھوار قدرتی معدنیات سے مالا مال ہے اور رنگ و نسل قوم و ذات کے جھگڑوں سے پاک خطہ ہے امن و بھائی چارے کا فروغ اس کی پہچان ہے۔دریائے سندھ اٹک والا مکھڈ کالا باغ میانوالی سے سرائیگی حدود دریائے جہلم سے سون سکیسر خوشاب کا علاقہ ،میرپور کی باؤنڈری کھڑی شریف خان پور ڈیم کا خطہ پوٹھوار کہلاتا ہے
 اہل پوٹھوار میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں پھر کیا وجہ ہے اہل پوٹھوار کے مقدر میں تعمیر و ترقی نہیں اور نہ ہی آئند ہ کوئی چانس موجود ہے۔منگلاڈیم،راول ڈیم،کے آر ایل ڈیم ،خان پور ڈیم خطہ پوٹھوار کی حدود میں واقع ہے تربیلاڈیم کی نکاسی اور غازی بھروتھہ کی نہر ضلع اٹک پوٹھوار میں واقع  ہے۔پاکستان میں پیدا ہونے والی سب سے زیادہ بجلی پوٹھوار میں ہورہی ہے کراچی،حیدر آباد،وزیرستان تک بجلی پوٹھوار دے رہا ہے۔منگلاڈیم کی ریالئی جو سالانہ اربوں میں ہے پوٹھوار کو نصیب نہیں۔چواسیداں شاہ سے ٹیکسلا تک تمام سیمنٹ فیکٹریوں پوٹھوار میں واقع ہے،کرش پورے پنجاب میں پوٹھوار جاتی ہے۔تیل،کوئلہ،نمک اور قیمتی پتھر کے ذخائر 8سو سال تک پوٹھوار میں موجود ہیں ۔ بیرون ممالک سے گاؤں کے گاؤں زرمبادلہ بھیجنے اور ملک کی معیشت کو مضبوط کرنے والے اہل پوٹھوار ہیں،شہیدوں ‘ غازیوں اور ولیوں کی اس دھرتی کے سپوتوں نے مادر وطن پر قربان ہو کر تین نشان حیدر اور سینکڑوں تغمات اپنی چھاتی پر سجا ئے ،  آج اگر ہو سکے تو اہل پوٹھوار کی محرومیوں اور دکھوں کا مداوا کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں آواز بلند کریں اور قرارداد صوبہ پوٹھوہار منظور کرائیں۔ صوبے تو ضرور بنیں گے آج نہیں تو کل سہی آپ تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف میں لکھوا جائیں ۔ آج  ضرورت ہے 26 ممبران قومی اسمبلی 48 ممبران صوبائی اسمبلی 5 سے زائد ممبران سینٹ کے اتفاق واتحاد کی 23مارچ 1940ء والے جذبہ ایمانی کی اگر آپ کسی وجہ سے مجبور ہیں اور قرارداد صوبہ پوٹھوہار قومی اسمبلی سے منظور نہیں کراسکتے تو یکجان ہوکر ممبران قومی اسمبلی وزیراعظم سے 200 ارب کا ترقیاتی پیکج منظور کرائیں۔ مندرہ چکوال سوہاوہ سڑک 2 وزیراعظم  میاں نواز شریف کے افتتاح کرنے کے باوجود مکمل نہ ہوسکی عرصہ 3 سال سے ان گڑھوں پر سفر کرنے والے جوڑوں اورمہروں کے مریض بن چکے۔ پنجاب یونیورسٹی کے مقابلے کی پوٹھوہار یونیورسٹی کیوں نہیں۔