فضائی آلودگی اور ہمارے مسائل

فضائی آلودگی اور ہمارے مسائل

ڈاکٹر احمد سعید بھٹی
کائنات میں زمین ہی وہ  واحد سیارہ ہے جسے قدرت نے زندگی، درختوں، پھل پھولوں ، پانی اور تازہ  ہوا سے نوازا ہے اور وہ  واحد چیز جس کے سبب زمین پر زندگی کا وجود پایا جاتا ہے اس کا نام فضاء ہے  جو زمین کے گِرد گیسوں کی ایک پتلی سی تہہ ہے جو آکسیجن، نائٹروجن، کاربن ڈائی اوکسائد، پانی کے بخارات اور دیگر گیسوں پر مشتمل ہے جنہیں مجموئی طور پر ہوا بھی کہا جاتا ہے۔
جاندار اشیاء کے لئے سب سے ضروری عناصر آکسیجن اور کاربن ڈائی اوکسائڈ فضاء میں ایک مقررّہ تناسب سے پائے جاتے ہیں۔ فضاء تین تہوں پر مشتمل ہے۔ گیسوں کی پہلی تہہ جو زمین کے قریب ہے اس کا نام ٹروپوسفئیر (TROPOSPHERE ) ہے جس کی موٹائی قریباً 10 کلومیٹر ہے۔ موسمی تبدیلیاں اسی تہہ میں واقع ہوتی ہیں اور  اوزون  گیس کی تہہ کی موٹائی 30-10 کلومیٹر ہے۔ اونچائی  کے اعتبار سے مائونٹ ایورسٹ کی چوٹی گیسوں کی پہلی تہہ میں پڑتی ہے جبکہ عام زندگی میں ایک مسافر بردار طیارہ گیسوں کی اس تہہ کے اوپر اور اوزون گیس کی تہہ کے نیچے پرواز کرتا ہے کیونکہ نچلی تہہ میںموجود تیز ہوائیں اور طوفان  اور اوپر والی تہہ میں اوزون کی موجودگی سے پرواز کو انتہائی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
 ابتدائے آفرینش سے فضاء میں آکسیجن کی مقدار نہ ہونے کے برابر تھی اور کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار نسبتاً بہت زیادہ تھی۔ پھر قدرت نے ایسے پودے اور جاندار پیدا کئے جنہوں نے آکسیجن کی مقدار میں اضافہ کر نا شروع کردیا اور وقت کے ساتھ ساتھ فضاء میں آکسیجن اور کاربن ڈائی اوکسائڈ کی مقدار میں توازن پیدا ہو گیا جس کے باعث تمام جاندار اشیاء کا  زندہ رہنا ممکن ہو گیا۔
فضائی آلودگی کے بارے میں  انسان کو اس وقت  پہلے پہل فکر لاحق ہوئی جب اپنی ہی سرگرمیوں کے باعث اِس نے اِن گیسوں کے تناسب میں تبدیلی پیدا کرنا شروع کر دی۔ انسانی تاریخ میں غالباً دو ہزار سال قبل روم کے ایک  فلاسفر سینیکا نے فضاء میں کوئلے کی بو  پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیاتھا اور 1273ء میں انگلینڈ کے کنگ ایڈورڈ VI کے حکم پر ایک شخص کو اِس جرْم کی پاداش میں پھانسی کی سزادے دی گئی کہ اِس نے ملکی قانون کے خلاف ایک  ممنوعہ قسم کا کوئلہ  جلانے اور فضاء میں زہریلی گیس چھوڑنے کے جرم کا ارتکاب کیا تھا۔
آج ہم ایک ایسے دور میں سے گزر رہے ہیں جس میں عالمی سطح پر انسانی سرگرمیوں کے سبب  موسموں میں تبدیلیاں اور روئے زمین میں حدّت  دونوں ہی تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور انسان غذا اور پانی کی قلّت کا شکار ہو رہا ہے۔ معاشی طور پر پاکستان اپنے GDP  میں جو (قریباً 4 فیصد)  نمو  حاصل کرتا ہے وہ آلودگی سے پیدا  ہونے والے مسائل پر خرچ ہو جاتا ہے۔ زندگی پر اثر انداز ہونے والی گیسوں کوجو ہمیں نظر نہیں آتی۔ ان سے ہم بحیثیت قوم بے خبر صبح سے شام تک دیگر امور میں  اِس قدر  مصروف ہیں کہ ایک طرف تو اِن گیسوں کی مقدار فضاء میں بڑھ رہی ہے اور  دوسری طرف ہمیں یہ سوچنے کا وقت نہیں کہ اگر یہ گیسیں جن میں کاربن ڈائی اوکسائڈ، نائٹروجن، میتھین  اور دیگر نقصان دہ گیسیں موجود ہیں  یوں ہی بڑھتی رہیں تو ہماری موجودہ اور آنے والی نسلیں آنے والے دِنوں میں کیسے زندہ رہ سکیں گی۔  برازیل میں جہاں ’’یوم الارض‘‘ یعنی ماحولیات کے عالمی  دِن کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ وہاں فضاء میں دھواں اور آلودگی بعض اوقات اِس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ  بچوں کو گھروں سے باہر نکلنے اور سکول جانے سے روک دیا جاتا ہے اور میکیسکو شہر کے تجارتی مراکز میں ہفتہ میں ایک دِ ن  پٹرول سے چلنے والی تمام گاڑیوں کی آمدورفت مکمل طور پر بند کر دی جاتی ہے۔
 اگرچہ عالمی سطح  پر فضائی آلودگی پیدا کرنے والے بڑے ممالک ہیں پاکستان کا تو کوئی بھی حصہ نہیں تاہم یہ اِن کے پیدا کردہ مسائل کا بری طرح سے شکار ہو رہا ہے۔ یہ امر انتہائی افسوسناک ہے لہ یوم الارض کی بنیاد رکھتے وقت دنیا کے ممالک نے اِس عزم کا اظہار کیا تھا کہ کرّہ ارض پر فضائی آلودگی کے پھیلائو کو روکا جائے گا تاہم اِس کے برعکس فضاء میں رہریلی گیسوں بشمول کاربن ڈائی اوکسائڈ میں اضافہ کرنے والے ممالک میں مزید تیس (30)  نئے ممالک کا اضافہ ہو گیا ہے۔ خصوصاً  ایشیا اور افریقہ میں واقع کچھ ممالک  مثلاً چین ، انڈیا، مِصر اور ترکی  جو اب بڑے پیمانے پرفضائی آلودگی میں اضافہ کر رہے ہیں جو مجموعی طور پر ہمارے یہاں موسمی تبدیلیوں، CO2 کی مقدار اور حدّت میں اضافہ، سیلابوں، پانی اور خوراک میں کمی جیسے مسائل کا باعث بن رہے ہیں۔
ہمارے یہاں آج  اِس امر کی زیادہ شدّت سے ضرورت ہے کہ انتظامیہ سول سوسائٹی اور فرداً فرداً  ہر شہری ماحولیاتی مسائل سے نپٹنے کیلئے اپنا بھر پور کردار ادا کرے اور عوام میں یہ آ اگاہی پیداکرے کہ ہم فضاء میں کاربن ڈائی اوکسائڈ کی مقدار کو بڑھنے سے روکیں اور درخت پودے اور سبزہ اگانے کے کلچر کو فروغ دیں تاکہ فضاء میں CO2 کی زیادتی اور آکسیجن کی کمی کو بھی روک سکیں۔ ایک اندازے کے مطابق امریکہ میں ہر سال قریباً ساٹھ ہزار انسان موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ پاکستان میں  فضائی آلودگی سے پیدا  ہونے والے امراض کے سبب مرنے والوں کی تعداد بھی کسی قدر کم نہیں۔ ایک نامور سائنسدان کے بقول تعجب ہے کہ مرنے والوں کے   سرٹیفکیٹ  پر موت کا سبب فضائی آلودگی نہیں لِکھا جاتا جبکہ جِن بیماریوں کے سبب موت واقع ہوتی ہے اْن میں  دمّہ، ٹی بی، پھیپھڑوں کا کینسر، ہارٹ اٹیک شامل ہیں جو  فضائی آلودگی کے باعث پیدا ہوتی ہیں۔ ایک گاڑی ایک  گیلن پٹرول جلانے کے باعث فضاء میں  9  کلو گرام کاربن ڈائی اوکسائڈ کا  اضافہ کرتی ہے۔ جتنی گاڑیاں ہمارے یہاں کسی بھی شہر میں چل رہی ہیں  اس سے فضاء میں آلودگی کی مقدار کا اندازہ کرنا مشکل نہیں۔ حال ہی میں ایک مطالیاتی پروگرا م میں ہم نے اندازہ لگایا کہ فیصل آباد کے ایک مصروف ترین چوک سے روزانہ کم از کم  60-70  ہزار مرتبہ گاڑیوں کا گزر ہوتا ہے جس سے  9  گنا اضافہ کے ساتھ فضاء میں داخل ہونے والی کاربن ڈائی اوکسائڈ کی مقدار قریباً 20000  کلوگرام بنتی ہے اور  پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں تو گاڑیوں کی تعدار بارہ لاکھ اسّی ہزار بتائی جاتی ہے۔ اس موقع پر یہ ذکرکر نامناسب نہ ہوگا کہ  راقم  نے شعبہ ماحولیات میں 2010  میں Air  اور  Noise Pollution  پر کام کے علاوہ ایک منفرد مہم کا آغاز کیا تھا  جس کا نام             One Student-One Tree  تھا۔  اس مہم کا بنیادی فلسفہ یہ تھا کہ یونیورسٹی میں  نووارد  ہر طالب علم یونیورسٹی کیمپس اور شہر میں اپنے نام کی تختی کے ساتھ ایک ایک پودا لگائے گا جس کی پرورش اس کی تعلیمی سرگرمیوں کا حصّہ ہو گی اور  4-6  سال بعد جب وہ اپنی تعلیم سے فارغ ہو کر رخصت ہو گا  تو اپنے پیچھے  4-6 سال کا ایک درخت چھوڑ جائے گا۔ عوامی اور  سرکاری حلقوں میں اِس پروگرام کو کافی سراہا گیا اور اس وقت لگائے جانے والے پودے کیمپس میں تناور درخت بن چْکے ہیں۔
یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ درختوں کے کاٹے جانے کی رفتار کے اعتبار سے پاکستان کا شمار دنیا کے سرفہرست ممالک میں ہوتا ہے اور وہ صاف اور تازہ ہوا، کھیت، کھلیان، باغات اور پھل پھول جو ہمارے اسلاف نے ہمارے لئے چھوڑے تھے ناپید ہوتے جا رہے ہیں اور آنے والی نسلیں ہم سے پوچھتی ہیں کہ ہم ان کے لئے کیا چھوڑ کر جارہے ہیں۔ یہ  اس ملک کا ایک سنگین  المیہ ہے۔