غیبت ایک لعنت

غیبت ایک لعنت

کرن جاوید
    ’’تباہی ہے ہر اس شخص کیلئے جو لوگوں کے عیب ٹٹولنے والا، لوگوں کی غیبت کرنے والا ہو‘‘  (سورۃ الھمزۃ:1)
غیبت ایک ایسی معاشرتی بیماری ہے جس کی لپیٹ میں ہر خاص و عام جانے انجانے میں مبتلا ہے۔ یہ ایک ایسا مرض ہے جس میں مبتلا شخص جان نہیں پاتا کہ کس طرح یہ اس کے اعمال کو ضائع کر رہے ہیں اس کی نیکیوں کو کھا رہا ہے اور جس کو معلوم ہے وہ سب کچھ جان کر بھی انجان ہے۔ سورۃ الحجرات کی آیت نمبر 12پڑھیں تو معلوم ہو گا کہ غیبت کو اللہ تعالی نے اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہہ دی ہے اور کوئی بھی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند نہیں کرتا جبکہ آج ہر تیسرا شخص کسی نہ کسی کی برائی میں مصروف ہوتا ہے بہت سے لوگ یہ جانتے ہیں کہ یہ غلط ہے لیکن کوئی اپنے دل کی تسکین کی خاطر اور کوئی محض وقت گزاری کیلئے اس لعنت میں مبتلا ہے۔ اکثریت ایسے لوگوں کی بھی ہے جو کسی کی برائے کرنے کو غیبت شمار نہیں کرتے ان کا مقصد تو محض اپنے دل کی بھڑاس نکالنا ہوتا ہے۔ یہ بہت غلط تصور ہے جس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے کیونکہ اس سے ہماری دنیا اور دنیاوی رشتوں میں تو خرابی ہوتی ہے ساتھ ساتھ ہماری آخرت بھی خراب ہوتی ہے کسی آدمی کا وہ عیب جو اس کی غیر موجودگی میں بیان کیا جائے وہ غیبت ہے کونسی بات غیبت میں شمار ہوتی ہے اس کا جواب بہت آسان ہے یعنی اس شخص کا وہ عیب یا برائی بیان کرنا جو وہ خود بھی سن لے تو اسے برا محسوس ہو، غیبت کیوں کی جاتی ہے؟ ہم کیوں لوگوں کی برائیوں میں مصروف رہتے ہیں؟ اس کے اسباب کیا ہیں اور کس طرح ہیں ہم اس سے خود کو بچا سکتے ہیں کیا؟ اگر ہم قرآن و سنت کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لیں تو اس کا خاتمہ ممکن ہے ہاں کسی بھی برائی کو چھوڑنے کیلئے وقت کی ضرورت ہوتی ہے ساتھ ساتھ تحمل و استقامت کی ضرورت ہوتی ہے کیونک ناممکن کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ممکن ناممکن کا تعلق ہماری ہمت، حوصلے، عزم اور نیت سے ہے۔ غیبت سے نجات خود بخود ملتی جائے گی اس لیے ہمیں اپنے آپ کو، اپنے عزیز و اقارب کو غیبت سے بچانا ہو گا کیونکہ اسلام میں غیبت کرنے کے ساتھ ساتھ غیبت سننا بھی گناہ ہے لہٰذا غیبت سننے کی بجائے فوراً موضوع بدل دیا جائے بات کسی بھی طرح ختم کر دی جائے پھر بات جاری رہے تو چپ چاپ وہاں سے نکل جایا جائے۔