زکوٰۃ کی فرضیت

بابو شفقت قریشی
زکوٰۃ اسلام کا اہم رُکن ہے اور نماز کے بعد زکوٰۃ ہی کا درجہ ہے۔ قرآنِ کریم میں ایمان کے بعد نماز اور اس کے ساتھ ہی جا بجا زکوٰۃ کا ذکر کیا گیاہے۔ زکوٰۃ کے لغوی معنی پاک ہونا، بڑھنا اور نشوونما پانا کے ہیں۔ یہ مالی عبادت ہے۔ یہ محض ناداروں کی کفالت اور دولت کی تقسیم کا ایک موزوں ترین عمل ہی نہیں بلکہ ایسی عبادت ہے جو قلب او ررُوح کا میل کچیل بھی صاف کرتی ہے۔ انسان کو اللہ کا مخلص بندہ بناتی ہے۔ نیز زکوٰۃ اللہ کی عطا کی ہوئی بے حساب نعمتوں کے اعتراف اور اس کے شکر بجا لانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے    (سورئہ التغابن 17)  ترجمہ: اگر قرض دو اللہ کو اچھی طرح قرض دینا وہ دو گنا کرے تم کو اور تم کو بخشے۔ اس کے مقابلے میں جو لوگ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے اُن کے لئے اللہ کاارشاد ہے   (سورئہ توبہ 34)۔ ترجمہ:جو لوگ جمع رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اس کو خرچ نہیں کرتے اللہ کی راہ میں سو اُن کو خوشخبری سُنا دے عذاب ِ دردناک کی۔ان آیات کی رُو سے زکوٰۃ کی ادائیگی ایک مسلمان کے لئے آخرت کی نعمتوں کے حصول اور عذابِ جہنم سے نجات کا ذریعہ ہے جس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں ہو سکتی۔ زکوٰۃ کی ادائیگی ایک مسلمان کو یاد دلاتی ہے کہ جو دولت وہ کماتا ہے وہ حقیقت میں اس کی ملکیت نہیں بلکہ اللہ پاک کی دی ہوئی امانت ہے۔ یہ احساس اُسے معاشی بے راہ روی سے بچاتا ہے اور اس کے تمام اعمال کو احکامِ الہیٰ کے تابع کرتا ہے۔ نبی اکرمؐ کے ارشاد کے مطابق معاشی معاملات دین کا ایک حصہ ہیں۔ جب انسان دولت جیسی نعمت اللہ تعالیٰ کے حکم پر خرچ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ایثار کی قدر کرتا ہے اور اس کے خرچ شدہ مال کو اپنے ذمہ قرض قرار دیتا ہے۔ اور وہ وعدہ فرماتا ہے کہ بندے کا یہ قرض وہ کئی گنا بڑھا کر واپس کرے گا۔ زکوٰۃ کے نظام سے دولت کا ایک دھارا امیر طبقے سے غریب طبقے کی جانب مُڑ جاتا ہے جس سے غریب کی معاشی حالت بہتر ہو جاتی ہے۔معاشرے میں دولت کی وہی حیثیت ہوتی ہے جو انسانی جسم میں خون کی۔ اگر یہ سارا خون دل میں (یعنی مالدار طبقے ) میں جمع ہو جائے تو پورے اعضائے جسم (یعنی عوام) کو مفلوج کر دینے کے ساتھ ساتھ خود دل کے لئے بھی مضر ثابت ہو گا۔ اگر ایک طرف مفلس طبقہ ناداری کے مصائب سے دوچار ہو گا تو دوسری طرف صاحب ثروت طبقہ دولت کی فراوانی سے پیدا ہونے والے اخلاقی امراض مثلاً عیاشی اور فکرِ آخرت سے غفلت کا شکار ہو جائے گا۔ ظاہر ہے ایسی صورت میں ان دونوں طبقوں میں حسد اور حقارت کے علاوہ کوئی رشتہ باقی نہیں رہے گا۔ ان تمام انفرادی اور اجتماعی فوائد کے پیشِ نظر حضورؐ  کو مدینے کی اسلامی ریاست کے قیام کے فوراً بعد ارشادِ باری تعالیٰ ہوا  (سورئہ توبہ 103) ترجمہ:لے ان کے مال میں سے زکوٰۃ کہ پاک کرے تو ان کو اور بابرکت کرے تو ان کو اس کی وجہ سے۔ حقیقت میں ایماندار مسلمان وہی ہیں جو یقین رکھتے ہیں کہ جو کچھ اللہ کی راہ میں اس کی خوشنودی کے لئے خرچ کیا جائے گا وہ ضائع نہیں ہو گا بلکہ اللہ اس کا بہترین بدل عطا فرمائے گا۔  مومن وہ ہے جو دولت کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی محبت کو دل میں جگہ دیتا ہے، کیونکہ  درحقیقت  یہ ایمان کا امتحان ہے۔ پھر  جب  وہ مال کی قربانی کا امتحان بھی پاس کر لیتا ہے تو پورا مسلمان بن جاتا ہے۔ سورئہ توبہ60-میں زکوٰۃ کے آٹھ حقدار بیان کئے گئے ہیں جن میں فقرا او رمساکین کے علاوہ عاملینِ زکوٰۃ بھی شامل ہیں یعنی وہ زکوٰۃ کی مد سے تنخواہ وغیرہ لے سکتے ہیں۔ شریعت نے زکوٰۃ کی تحصیل اور تقسیم  کیلئے اس  اجتماعی عبادت میں نظم اور باقاعدگی پیدا کی ہے۔ جہاں اسلامی حکومت قائم ہو اور زکوٰۃ کی تحصیل کا نظام قائم ہو وہاں زکوٰۃ  کی رقم سے حکومت معذوروں، اپاہجوں، ناداروں اور بیوائوں کے وظیفے مقرر کر سکتی ہے۔ بحمد اللہ ہمارے ملک میں زکوٰۃ کا نظام قائم ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ اس کی کامیابی کے لئے ہر ممکن تعاون کریں تا کہ اس کی برکت سے پورا معاشرہ دنیا کے لئے مثالی معاشرہ بن سکے۔ خصوصاً زکوٰۃ کی وصولی اور تقسیم کا اجتماعی نظام قائم اور دائم ہو اور نیک لوگوں کے ہاتھوں میں ہو۔