حضرت ام عمارہؓ کی غزوات میں شرکت

حضرت اُم عمارہ انصاریہؓ ان عورتوں میں ہیں جو اسلام کے شروع زمانہ میں مسلمان ہوئیں اور بیعتہ العقبہ میں شریک ہوئیں ۔ تیسری مرتبہ جو لوگ مدینہ سے آئے  ان میں یہ بھی شریک تھیں۔ ہجرت کے بعد یہ اکثر لڑائیوں میں شریک  رہیں۔ بالخصوص احد ، حدیبیہ ، خیبر، عمرۃ القضا، حنین اور یمامہ کی لڑائی میں احد کی لڑائی کا قصہ خود ہی سناتی ہیں کہ میں مشکیزہ پانی کا بھر کر احد کو چل دی کہ دیکھوں مسلمانوں پر کیا گزری اور کوئی پیاسا زخمی ملا تو پانی پلادوں گی اس وقت ان کی عمر تینتالیس برس کی تھی۔ ان کے خاوند اور دو بیٹے  بھی لڑائی میں شریک تھے۔ مسلمانوں کو فتح اور غلبہ ہو رہا تھا مگر تھوڑی دیر میں جب کافروں کو غلبہ ظاہر ہونے لگا تو میں حضورؐ  کے قریب پہنچ گئیں  اور جو کافر ادھر کا رخ کرتا تھا اس کو ہٹاتی تھی۔ ابتداء میں ان کے پاس ڈھال بھی نہ تھی بعد میں ملی جس  پر کافروں کا حملہ روکتی تھیں۔ کمر پر ایک کپڑا باندھ رکھا جس جس کے اندر مختلف چیتھڑے بھرے ہوئے تھے۔ جب کوئی زخمی ہو جاتا تو ایک چیتھڑا نکال کر جلا کر اس زخم میں بھر دیتیں۔ خود بھی کئی جگہ سے زخمی ہوئیں۔ بارہ تیرہ جگہ زخم آئے جن میں ایک بہت سخت تھا ام سعیدؓ کہتی ہیں کہ میں نے ان کے مونڈھے پر ایک بہت گہرا زخم دیکھا  ۔میں نے پوچھا کہ یہ کس طرح پڑا تھا۔ کہنے لگیں کہ احد کی لڑائی میں جب لوگ ادھر ادھر پریشان پھر رہے تھے تو ابن قمیہ یہ کہتے ہوئے بڑھا کہ محمد  ؐ کہاں ہیں مجھے کوئی بتا دو کہ کدھر میں اگر آج وہ بچ گئے تو میری نجات نہیں۔ مصعبؓ بن عمیرؓ  اور چند آدمی اس کے سامنے آ گئے ان میں میں بھی تھی اس نے میرے مونڈھے پر وار کیا۔اور دوہری زرہ کی وجہ سے میرا اس پر کوئی وار کاری نہ ہوا۔ یہ زخم ایسا سخت تھا کہ سال بھر تک علاج کیا مگر اچھا نہ ہوا۔ اسی دوران میں حضورؐ نے حمراء الاسد کی لڑائی کا اعلان فرما دیا۔ ام عمارہؓ بھی کمر باندھ کر تیار ہو گئیں  مگر چونکہ پہلا زخم بالکل ہرا تھا اس لئے شریک نہ ہو سکیں ۔حضورؐ  جب حمراء الاسد سے واپس ہوئے تو سب سے پہلے ام عمارہؓ کی خیریت معلوم کی اور جب معلوم ہوا کہ افاقہ ہے تو بہت خوش ہوئے۔  ام عمارہؓ کہتی ہیں کہ اصل میں وہ لوگ گھوڑے پر سوار تھے جب گھوڑے پر کوئی آتا اور مجھے مارتا تو اس کے حملوں کو  میں ڈھال پر روکتی رہتی اور جب وہ مجھ سے منہ موڑ کر دوسری طرف چلتا تو میں اس کے گھوڑے کی ٹانگ پر حملہ کرتی اور وہ کٹ جاتی جس سے وہ بھی گرتا اور سوار بھی گرتا اور جب وہ گرتا تو حضورؐ میرے لڑکے کو آواز دے کر میری مدد کو بھیجتے میں اور وہ دونوں مل کر اس کو نمٹا دیتے۔ ان کے بیٹے عبداللہ  بن زیدؓ کہتے ہیں کہ میرے بائیں بازو پر زخم آیا اور وہ خون تھمتا نہ تھا۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ اس پر پٹی باندھ لو۔ میری والدہ آئیں اپنی کمر میں سے کچھ کپڑا نکالا، پٹی باندھی اور باندھ کر کہنے لگیں کہ جا کافروں سے مقابلہ کر حضور اقدس  ؐ اس منظر کو دیکھ رہے تھے۔ فرمانے لگے ام عماہ اتنی ہمت کون رکھتا ہو گا جتنی تو رکھتی ہے حضورؐ اقدس نے اس دوران  مجھے اور میرے گھرانے کیلئے کئی بار دعا بھی فرمائی ۔ ام عمارہؓ کہتی ہیں کہ اسی وقت ایک کافر سامنے آیا تو حضورؐ نے مجھ سے فرمایا کہ یہی ہے جس نے تیرے بیٹے کو زخمی کیا ہے۔ میں بڑھی اور اس کی پنڈلی پر وار کیا جس سے وہ زخمی ہوا اور ایک دم بیٹھ گیا۔ حضورؐ مسکرائے اور فرمایا کہ بیٹے کا بدلہ لے لیا۔ اس کے بعد ہم لوگ آگے بڑھے اور اس کو نمٹا دیا۔ حضورؐ  نے جب ہم لوگوں کو دعائیں دیں تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہؐ دعا فرمائیے کہ حق تعالیٰ شانہ جنت میں آپ کی رفاقت نصیب فرمائیں  جب حضورؐ نے اس کی دعا فرما دی تو کہنے لگیں کہ اب مجھے کچھ پرواہ نہیں کہ دنیا میں مجھ پر کیا مصیبت گزری ۔ احد کے علاوہ اور بھی کئی لڑائیوں میں ان کی شرکت اور کارنامے ظاہر ہوئے ہیں۔ حضور اقدس ؐ کے وصال کے بعد یمامہ میں زبردست لڑائی ہوئی اس میں بھی ام عمارہؓ شریک تھیں ان کا ایک ہاتھ بھی اس میں کٹ گیا تھا اور اس کے علاوہ گیارہ زخم بدن پر آئے تھے۔ ان زخموں کی حالت میں مدینہ طیبہ پہنچیں۔  یہ ایک ایسی عورت کے  کارنامے ہیں جن کی عمر احد کی لڑائی میں تینتالیس  برس کی تھی جیسا کہ پہلے  ذکر ہوا ہے کہ یمامہ کی لڑائی میں ان کی عمر تقریباً باون برس کی تھی۔ اس عمر میں ایسے معرکوں میں اس طرح شرکت کرنا کرامت ہی کہی جا سکتی ہے۔
(عجائب القرآن)
علامہ عبدالمصطفیٰ