اپنے فرائض پہچان کر پُرسکون معاشرہ تشکیل دیں

اپنے فرائض پہچان کر پُرسکون معاشرہ تشکیل دیں

طاہرہ جبین تارا
 معاشرہ افراد سے مل کر بنتا ہے اگر لوگ ایک دوسرے سے شاکی رہنے لگیں تو معاشرے میں بے حسی، ابتری اور ایک دوسرے سے تناؤ کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے آج کل                ہمارا معاشرہ بھی اسی ابتری کا شکار نظر آتا ہے ہر شخص دوسرے سے نالاں نظر آتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں  اپنے حقوق کا تو پتہ ہے مگر ہم نے  اپنے فرائض بھلا دیے ہیں ہم برملا یہ تو کہتے ہیں کہ ہمارے حقو ق  ا  د  ا نہیں کیے جاتے لیکن اپنے فرائض سے پہلو تہی کرتے نظر آتے ہیں گھر کی چار دیواری سے لے کر محلے اور پھر ملکی سطح پرایک خود غرضی اور بے حسی کی فضا مسلط ہے  قربانی ،  ا یثار ،وفا اور محبت کے  ا سبا  ق  ہم نے فراموش کر دیئے ہیں گھر کی چاردیواری  میں والدین  اولاد سے اور اولاد و الدین سے بہن بھائیوں سے اور بھائی بہنوں سے ،بیوی شوہر سے شوہر بیوی سے نالاں ہے ہمسائے ، ہمسائے سے رشتے دار ،رشتے داروں سے استاد  شاگرد سے شاگرد  استاد سے  سٹاف ہیڈ سے اور ہیڈ سٹاف سے  عوام حکمرانوں سے اور حکمران عوام سے اپوزیشن  ایوان بالا سے اور ایوانِ بالا ، اپوزیشن سے غرض ہر شخص دوسرے سے  بیزار ہے ساتھ  رہنا ، نہ چاہتے ہوئے بھی تعلق نبھانا محض مجبوری ہے ۔ والدین  کہتے ہیں اولاد ہماری  نا  فرمانی کرتی ہے ہماری  کیئر نہیں کرتی ہمارا کہنا نہیں مانتی ہمارا حق  ا دا نہیں کرتی ہم نے اپنی خواہشات کو پسِ پشت ڈال کر ان کی خواہشات پوری کیں مگر ان کے پاس ہمارے لیے وقت نہیں انگلی پکڑ چلنا سکھایا معاشرے میں باعزت روز گار کے لیے پیٹ کا ٹ کر تعلیم دلائی  مگر اب شادی  بیاہ جیسے معاملات میں ہمیں چھوڑ کر معمولی جان پہچان رکھنے والی لڑکیوں کو  اولیت دیتی ہے ہماری رائے کی کوئی  اہمیت نہیں ۔ اولاد  کا کہنا ہے ماں باپ ہم سے محبت نہیں کرتے  ہمیں پیدا کیا اچھی پرورش کی، تعلیم دلائی یہ ان کا فرض تھا مگر ہمارے والدین ہم پر اس کا احسان جتاتے ہیں ہم جوان ہو چکے ہیں ا نہیں  اپنی  لڑائی جھکڑے سے فرصت نہیں ماں باپ کی ہر وقت کی لڑائی کی وجہ سے ہمارا گھر آنے کو دل نہیں چاہتا گھر میں سکون نام کو نہیں ہمیں اپنی مرضی نہیں کرنے دیتے جب ہم نا بالغ تھے ان کی ہر بات مانی اب ہم اپنی مرضی سے زندگی گزارنا چاہتے ہیں مگر ہمیں آذادی میسر نہیںہم کوئی کام اپنی مرضی سے نہیں کرسکتے یہاں تک اپنی پسند سے مضمون کا انتخاب بھی نہیں کر سکتے رشتہ داروں کے سامنے اور دوستوں کے سامنے ڈانٹتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ دونوں اپنے حق کی بات تو کرتے ہیں مگر فرائض دونوں بھول چکے ہیں ۔کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ پہیہ ہمیشہ ا لٹا گھومتا ہے جو آج اولاد ہے کل اسے والدین بننا ہے کسی بزرگ نے کہا ہے کہ انسان کو زمانے کے مطابق تبدیل ہونا چاہیے یہ بات با لکل سچ ہے جو کل فیشن تھا وہ آج تبدیل ہو چکا ہے والدین کا فرض ہے کہ وہ بچوں سے محبت کریں  ان کی اچھی تربیت کریں انہیں ا چھی تعلیم د لائیں جب وہ  بالغ ہو جائیں تو ان کی شادی کریں ان سے دوستانہ سلوک کریں کچھ ان کی مانیں کچھ اپنی منوائیںتاکہ انہیں احساس ہو کہ والدین کے  نذدیک ان کی اہمیت ہے کسی کے سامنے انہیں ڈانٹیں نہیں ان کے سامنے لڑائی جھکڑانہ کریں اکثر بچے والدین کی آپس کی نا چاقی سے اور دوسروں کے سامنے ڈانٹ ڈپٹ سے ا حساس ِ کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں بچوں کوپر سکون ماحول دیں ۔ زمانے کی تبدیلی کے مطابق جینے کا حق دیں تاکہ بچے معاشرے کے مفید رکن بن سکیں پرانی روایات کو جدید دور سے ہم آہنگ کریں تاکہ بچے اسے  اپنانے میں عار محسوس نہ کریں برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کریں ایسے والدین جو اپنے فرائض کو  اچھی طرح سے سر انجام دیتے ہیں وہی جنت میں گھر بنانے کے مستحق ٹھہرتے ہیں گالی گلوچ ما رپیٹ اور اپنی ا ولاد کو بیچنے اور مذموم مقاصد پورا کرنے کی خاطر اولاد کو قتل کرنے اور اپنے فرائض کودرست طریقے   سے انجام نہ دینے والے والدین سے جنت بھی روٹھ جاتی ہے ۔
اسی طرح اولاد کا فرض ہے کہ وہ  والدین کی خدمت کریں ان کی حکم عدولی نہ کریں اگر کسی بات پر ا ختلاف ہے تو آرام اور تحمل سے اپنی بات سمجھائیں ان کو وقت دیں اور یہ باور کرائیں کہ والدین ان پر بوجھ نہیں بلکہ والدین کے دم سے ان کے گھر میں برکت ہے ۔اگر اپنی مرضی سے کوئی کام کرنا چاہتے ہیں تو والدین کو  اعتماد میں لیں انہیں پیار اور محبت سے اپنا موقف سمجھائیں ۔ایسی اولاد جو اپنے فرائض سے پہلو تہی نہیں کرتی جنت اس کا مقدر بنتی ہے لیکن نافرمان اور والدین کا دل دکھانے والی اولاد سے جنت روٹھ جاتی ہے ۔ اسی طرح بیوی کا فرض ہے کہ وہ شوہر کی حکم عدولی نہ کرے اس کی وفادار رہے اس کا احترام کرے اس کے دکھ سکھ بانٹے اگر شوہر غصے میں ہے تو جواب اور بحث سے گریز کریں شوہر کی انکم کے مطابق اخراجات کو مینج کریں برداشت اور حوصلے کا مظاہر ہ کر ے حضرت فاطمہؓ اور حضرت عاشہؓ کی پیروی کرتے ہوئے اپنے گھر کے کام کو عذاب اور بوجھ سمجھ کر نہیں بلکہ اپنا فرض سمجھ کر کرے پیار اور محبت سے تمام فرائض سر انجام دے ۔ اسی طرح شوہر کا فرض ہے کہ وہ بیوی کا نان نفقہ پورا کرے کبھی اس کی بات مانے کبھی اپنی منوائے بے جا روک ٹوک نہ کرے اسے پاؤں کی جوتی نہ سمجھے اس کی عزت کرے اور اسے احساس دلائے کہ اُس کے گھر کو اُ  کی ضرورت ہے۔ برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کرے ۔ جب میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق و  فرائض کا خیال رکھیں گے تو یقینا گھر میں سکون ہوگا لڑائی جھگڑا نہیں ہوگا اور اولاد بھی سکون محسوس کرے گی والدین کا احترام کرے گی بہن بھائی ایک دوسرے کے حقو ق ادا کریں گے۔ آپس میں پیارمحبت سے رہیں گے ایک دوسرے کو روک ٹوک نہیں کریں گے اختلافات کو مل بیٹھ کر سلجھائیں گے  ایک دوسرے کی بات کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کریں گے ۔گھر کی چار دیواری کا یہ پرسکون ماحول پورے معاشرے میں پھیلتا ہے ۔گھر سے  باہر ہمسائے ،رشتے دار دوست احباب ہیں ا گر  ایک فرد گھر کی چار دیواری کے فرائض جانتا ہے تو کبھی گھر کا کوڑا گھر کے باہر نہیں پھینکے گا کوئی ا یسا کام نہیں کرے گا جس سے کسی کی دل آزاری ہو  اپنے ارد گرد رہنے والوں احترام کرے گا ان سے عزت سے پیش آئے گا ۔برداشت اور تحمل سے کا م لے گا یہی عزت اور ا حترام ، برداشت، تحمل، پیار محبت پورے معاشرے کی زینت بنے گی ا پوزیشن حکمرانوں کی عزت کرے گی ملکی قوانین پر عمل کرے گی حکمرانوں تک اپنے مطالبات درست طریقے سے پہنچائے گی اور حکمران بھی اپوزیشن  کے حقوق پورے کریں ۔اپوزیشن کے مطالبات مانیں گے حقو ق و  فرائض کی پہچان ایک آئیڈیل معاشرے کی تشکیل میں مدد گار ثابت ہوتی ہے  ‘
اللہ تعالیٰ اپنے حقو ق میں پہلو تہی تو معاف کردے گا مگر اس انسان کو  اُ س وقت تک معافی نہیں جب تک وہ  انسان اُ سے معاف نہ کرے جس کا اُس نے دل د کھایا ہو  ہمارے معاشرے میں بے حسی ،خوغرضی ، اور تشدد  د ن بہ دن  بڑ ھتا جارہا ہے ہمیں اپنے فر ا ئض اور حقوق کا دراک ہونا چاہیے تاکہ ہم وہ اسلامی معاشرہ تشکیل دے سکیں ۔