امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری

حاجی محمد شریف
ا میر ملت حضرت پیر سید جماعت علی شاہ  کی ولادت   ۴/صفر ۱۳۲۰ھ بمطابق۱۳مئی ۱۹۰۲ علی پور سیداںنارووال ضلع سیالکوٹ  میں قطب وقت حضرت پیر سید کریم شاہ  کے ہاں ہوئی ۔ آپ  کاسلسلہ ء نسب طرفین سے حضرت امام حسین ؓ تک پہنچتا ہے۔ آپ نے اپنے ہی گائوں میں حافظ قاری شہاب الدین کمشیریؒ سے قرآن پاک حفظ کیا۔ عربی اور فارسی کی ابتدائی کتب میاں عبدالرشید علی پوری سے پڑھ کر مولانا عبدالوہاب امر تسریؒ سے درس ِ نظامی کی تکمیل کی ۔ بعد ازاں لاہور جا کر مولانا غلا م قادر بھیروی اور مولانا مفتی محمد عبداللہ ٹونکی (پروفیسر اور نٹیل کالج لاہور) سے مولوی عالم اور مولوی فاضل  کی تعلیم مکمل کی ۔ اس کے بعد سہار نپور جا کر مولانا محمد مظہر سہار نپوریؒ اور مولانا فیض الحسن سہارنپوری سے استفادہ کیا مگر تشنگی علم ہنوزباقی تھی۔ چنانچہ یہ تشنگی کشاں کشاں آپ کو مولانا سید محمد علی مونگیریؒ ناظم دارالعلوم ندوہ، مولانا احمد حسن کانپوریؒ، مولانا ارشاد حسین رامپوریؒ، مولانا شاہ فضل ِ رحمن گنج مراد آبادی، مولانا شاہ عبدالحق الہ آبادی مہاجر مکی مولانا قاری عبدالرحمن محدث پانی پتی اور حضرت علامہ محمد عمر ضیاالدین استانبولی ؒ اجمعین کی خدمت میں لے گئی اور متام علوم متداولہ عقیلہ و نقلیہپر دسترس اور مہارت تامہ حاصل کر کے اسناد حاصل کیں۔  جہاںحضرت شاہ فضل رحمن گنج مراد آبادی ؒ نے ادووظائف اور سندحدیث کی اجازت عنایت فرما کر رخصت کیا۔
علوم ظاہری میں یدطولیٰ حاصل کرنے کے بعد آپ غوث وقت حضرت بابا جی فقیر محمد فاروقی نقشبندی مجددی ؒ (ف ۱۳۱۵ھ) چورہ شریف ضلع اٹک کی خدمت میں حاضر ہو کر شرفِ بیعت سے مشرف ہوئے ۔ مرشدکامل کی دعا رنگ لائی اور جو شہرت عام بقائے دوام آپ کو ملی دوسرے ہم عصروں کو اس کا عشر عشیر بھی نصیب نہ ہوا۔ پشاور سے راس کماری اور کشمیر سے مدراس تک آپ کی دھوم مچی دس لاکھ سے زائد لوگ حلقہ غلامی میں داخل ہوئے ۔علوم ظاہری و باطنی کے حصول کے بعدآپ نے سب سے پہلے علی پور شریف کی مسجد ہی کو وعظ و نصیحت کا مرکز بنایا۔ بعد ازاں پشاور، کوئٹہ، بمبئی، کلکتہ، کراچی، میسور، حیدر آباد دکن ، دہلی ، بھوپال، کوہ نیلگڑھی، کشمیر ، کابل وغیرہ دورردراز علاقوں کے تبلیغی دورے فرمائے ، ہزارہا مشکلات ومصائب کو برداشت کر کے لاکھوں گمگشتگان راہ کو صراط مستقیم پر گامزن کیا۔  عشقِ رسول ؐ  توآپ کے قلب و روح میں سمایا ہوا تھا ۔ سرکار مدینہ حضور سید عالم ؐ کا نام نامی اسم گرامی سن کر آپ کی پلکیں بھیگ جاتیں ، رنگ زرد ہو جاتا۔
آپ  کاارشاد   ہے کہ جو لوگ یہ فکر کرتے ہیں کہ ہم مرنے کے بعد جہنم جائیں گے یا جنت میں ان کو سوچ لینا چاہیے کہ وہ حضور ؐ  کے دشمن ہیں یا ان کے ساتھ محبت کرنے والے ہیں۔ انبیاء کے جسم کو زمین نہیں کھاتی اور نہ چھوتی ہے ۔ انبیاء قبروں میں نماز پڑھتے ہیں۔ بیش از قسمت و بیش از وقت کچھ نہیں ملتا ۔ دل اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کے لئے پیدا کیا ہے ۔ حضرت امیر ملت نے اپنے پیچھے تین صاحبزادے اور ایک صاحبزادی چھوڑی  ،آپ  کا 64واں سالانہ  عرس گیارہ مئی بروز پیر کو اختتام پذیر ہوا ۔