کوکلیئر ایمپلامنٹ سرجری نے قوت سماعت عطا کی

کوکلیئر ایمپلامنٹ سرجری نے قوت سماعت عطا کی

چھ سال قبل پاکستان میں سماعت سے محروم بچوں کی مفت کوکلیئر امپلانٹ سرجری کا اغاز ہواجس میں پھلرواں کے رہائشی بلال احمد کے بیٹے کا علاج کیا گیاآج وہ بچہ سننے کی صلاحیت رکھتاہے اور عام بچوں کی طرح معمول کی زندگی بسرکر رہا ہے۔ اس کی زندگی بدلنے میں نوائے وقت نے بھی اہم کردار ادا کیا،نوائے وقت میں شائع ہونے والے انٹرویو نے پھلرواں کے بلال احمد کو اپنے بیٹے کے علاج کیلئے امید کی کرن دکھائی۔ ابراہیم کے والد بلال احمد نے کہا کہ ایسے والدین جن کے بچے کسی بیماری کے باعث قوتِ سماعت سے محروم ہیں وہ بھی ابراہیم کی طرح مستفید ہوں ۔
بلال احمد نے کہا میرا بیٹا دو سال کا تھا جب بخارنے اسے قوتِ سماعت سے محروم کردیا۔ دو سال بعد نوائے وقت اخبار میں ڈاکٹرعارف تارڑ کا انٹر ویو شائع ہواجو کوکلیئر امپلانٹ سرجری کے حوالے سے تھا۔ اس انٹرویو میںساری تفصیل درج تھی یہ نہایت مہنگا علاج تھااس وقت میرا بیٹا چار سال کا تھا، میں چلڈرن ہسپتال ڈاکٹر عارف تارڑ کے پاس گیا انہوں نے کہا آپ پہلے بچے کو سپیشل ایجوکیشن سکول میں داخل کرائیں۔اگر بچہ میرٹ پر ہوا تو اس کا فری علاج کیا جائے گا۔
22 اکتوبر 2009کو سپیشل ایجوکیشن سکول بھلوال بچے کو داخل کرا دیاگیا۔ وہاں کے ہیڈماسٹر انیس نے کہا کہ جب کال آئی ہم آپ کو بتائیں گے اور انہوں نے چند دن بعد ہی بتایا کہ ٹیم آ رہی ہے،وہ ہمیں اپنی گاڑیوں میں سرگودھا لے گئے۔ ہر سکول سے پندرہ بچے آئے تھے اور ان میں سے صرف چار بچے لاہور جانے تھے۔خوش قسمتی سے ابراہیم بھی ان میں شامل تھا۔ بعدازاں سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ گارڈن ٹائون میں بورڈ بیٹھا اور دیکھا کہ آیا یہ بچے اس سرجری کے قابل ہیں یا نہیں۔ لاکھوں کی رقم بھی ضائع ہوگی اور بچے کو بھی نقصان پہنچے گا۔پینل نے ابراہیم کو ایک ڈرائنگ دی اور کہا کہ اس میں رنگ بھریں۔ اس نے بہت احتیاط سے رنگ بھرے ، جس پر اس کو سیلیکٹ کر لیا گیا۔ مکمل ٹیسٹ کے بعد ابراہیم کو فروری میں سرجری کیلئے بلایاگیا۔ سردی کے باعث بچے کو زکام تھا جس پر ڈاکٹرز نے کہا کہ زکام ٹھیک ہونے پر سرجری ہو گی۔ تب تک ہماری رہائش سمیت دیگر اخراجات پنجاب حکومت نے برداشت کیے اورہمیں ہر طرح کی سہولت فراہم کی۔ بائیس فروری کو آپریشن ہوا اور گیارہ مارچ کوڈسچارج کر دیا گیا۔
بعدا زاں بچے کی ڈیوائس سیٹ کرنے کیلئے ڈاکٹر لیاقت نے بلایا اور اس کے ساتھ مجھے بچے کی بولنے کی استطاعت واپس لانے کیلئے راہنمائی دی۔ اس کوآلہ لگا کر ٹی وی کے سامنے بٹھایا گیا۔ ابراہیم حیران ہوا اور دو مرتبہ ڈرا بھی کہ آج یہ کارٹون میں سے کس قسم کی آوازیں آرہی ہیں۔ لیکن ڈاکٹرز کی راہنمائی اور ان کے بتائے طریقے سے آج میرا بچہ بالکل درست طریقے سے سن سکتا اور فر فر بولتا بھی ہے۔ ہونٹوں کی جنبش کو پڑھ کر بات سمجھتاہے۔ چیدہ چیدہ الفاظ بول سکتا ہے ۔ اس کی سپیچ تھراپی بھی شروع کی گئی اور اسے سکول میں داخل کرا دیا تاکہ بچوں کے ساتھ رہے اور بول چال شروع کر دے۔ اس سے پہلے یہ چند الفاظ یا پھراشارے کرتا تھا لیکن کچھ دن بعد بالکل نارمل ہو گیا۔
آج وہ تیسری جماعت میں پڑھتا ہے۔ دوستوں کے ساتھ کھیلتا ہے۔ آلہ لگنے کے باوجود بچے تنگ نہیں کرتے ۔ ابراہیم کے والد نے بتایا کہ یہ آلہ لاکھوں روپے کا ہے اور ان کے بچے پر چھبیس لاکھ روپے کا خرچ آیا جو پنجاب حکومت نے ادا کیا۔ پانچ سال قبل ابراہیم وہ پہلا مریض تھا جس کی کوکلیئر امپلانٹ سرجری کی گئی اور ابراہیم وہ پہلا بچہ ہے جو بالکل ٹھیک ہو چکا ہے اور عام زندگی گزار رہا ہے۔
ابراہیم کے والد پھلرواں میں میڈیکل سٹور چلاتے ہیں اوروہ نہایت شکر گزار ہیں کہ نوائے وقت نے یہ خبر شائع کی اور بعد میںمیری راہنمائی بھی فرمائی جس کے بعد میرا بچہ آج سن اور بولنے کے قابل ہو گیا ہے ۔ انہوں نے ڈائریکٹر سپیشل ایجوکیشن محمد فضل چیمہ، سیکرٹری سپیشل ایجوکیشن، ڈاکٹر لیاقت اور ڈاکٹر عارف تارڑ کا بے حد شکریہ کیا جنہوں نے ان کے بچے کو نئے زندگی فراہم کی۔