صحت کیلئے ضروری صبح کی سیر

صحت کیلئے ضروری صبح کی سیر

حضرت محمدؐ کی تعلیمات پر عمل کرنے سے انسان بیماریوں سے محفوظ رہ سکتا ہے آپؐ نے فرمایا صفائی نصف ایمان ہے۔ صاف ستھرا رہنے سے انسان بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ صبح کی سیر سے بھی انسان تندرست اور توانا رہتا ہے جس طرح صاف ستھرا لباس انسان کو بیماریوں سے بچاتا ہے اسی طرح صبح کی سیر بھی انسان کو بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ دھلا ہوا لباس جسم کی حفاظت کرتا ہے جبکہ گندا اور میلا کچیلا لباس پہننے سے بیماریاں حملہ آور ہوتی ہیں ہاتھ منہ اور جسم کو پاک رکھا جائے یہ جسمانی پاکیزگی اسی صورت قائم رہ سکتی ہے جب آپ ارد گرد کے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں گے۔ گلی محلے کے قریب پارک جہاں سبزہ ہی سبزہ ہو اسے بھی صاف ستھرا رکھناحکومت کا فرض ہے وہاں ہم پر بھی کچھ ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں کیونکہ انہیں پارکوں اور گراونڈز میں محلے کے لوگ جن میں خواتین بھی شامل ہوتی ہیں صبح سویرے چہل قدمی کے لئے جاتے ہیں اوراکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ یہاں صفائی ستھرائی کا خاص خیال نہیں رکھاجاتا یہ گراونڈ اور پارک شادی کے لئے بھی استعمال کئے جاتے ہیں ۔ہونا تو یہ چاہئے ادھر شادی کی تقریب ختم ہوئی ادھر فوراً کوڑا کرکٹ اُٹھا لیا جائے،تاکہ صبح سیر کرنے والوں کو پریشانی کا سامنا نہ ہوآج کل کے موسم میں اسی کوڑا کرکٹ سے جراثیم پیدا ہوتے ہیں اور بیماری کی صورت میں ہم پر حملہ آور ہوتے ہیں۔
بات ہو رہی تھی صبح کی سیر کی،آج کل کے بچے فارغ اوقات میں جہاں ٹولیوں کی صورت میں سیر و تفریح کا پروگرام بناتے ہیں تو صبح کی سیر کرنے میں لاپرواہی سے کیوں کام لیتے ہیں۔ دیکھا یہی گیا ہے کہ بچوں میں جب بھی صُبح کی سیر کا پروگرام بنتتا ہے تو اُس کے کئے نیا ٹریک سوٹ اور جوگر خریدے جاتے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ کہ یہ شوق چند دن ہی رہتا ہے،حالانکہ صبح کی سیر انسان کے لئے بے حد مفید ہے صبح کی سیرکرنے سے انسان چاق و چوبند رہتا ہے،سارا دن ہشاش بشاش گزرتا ہے سستی کوسوں دور رہتی ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ رات کو جلد ہی نیند آ جاتی ہے، ننھے منے دوستو! آپ عمر کے اس حصّے میں ہیں کہ اس ابتدائی عمر میں جو بھی عادت اپنائی جائے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پختہ ہوجائے گی اس لئے اچھی عادت اپنانے کی کوشش کریں بڑوں کا کہنا ہے کہ اچھی سوسائٹی اپنائو،صبح کی سیر کرو،وقت کی پابندی کرو،سکول سے چھٹی نہ کرو،فارغ اوقات میں اچھی اچھی کتابوں کا مطالعہ کرو،والدین و اساتذہ کی عزت کرو، یقیناً ان نصیحتوں پر عمل کر کے آپ اچھی عادات کے مالک کہلائو گے۔اچھی عادات اپنانے سے ہر کوئی آپ کو عزت کی نگاہ سے دیکھے گا،جن بچوں کی سوسائٹی اچھی ہوتی ہے ان میں اچھی عادتیں منتقل ہو جاتی ہیں جبکہ بُری سوسائٹی اپنانے سے بری عادتیں جنم لیتی ہیں۔اچھے دوست ایک قیمتی سرمایہ ہیں اس سرمائے کو ہر گز ضائع نہ کریںاور اپنے انہیں اچھے دوستوں کے ہمراہ صبح کی سیرکو اپنا معمول بنا لیں۔
موسم تیزی سے بدل رہا ہے اس موسم میں الصبح منہ اندھیرے نماز باجماعت ادا کرنے کے بعد اگر کسی پارک میں جہاں سبزہ ہی سبزہ ہو چہل قدمی کی جائے تو اس سے بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔ صحت اور تندرستی کو برقرار رکھنے کے لئے صبح کی سیر ازحد ضروری ہے۔ اگر ابتدائی عمر میں یہ عادت اپنائی جائے تو بڑے ہو کر یہ عادت پختہ ہو جائے گی۔ اپنے دوستوں کے ہمراہ صبح کی سیر پروگرام بنائیں۔ یوں تو پورا سال صبح کی سیر کرنی چاہئے لیکن موسم سرما کی ٹھٹھرتی صبح جب سردی نے ڈیرے جمائے ہوتے ہیں کمبل سے نکلنے کو جی نہیں چاہتا اور سورج بھی تاخیر سے جلوہ گر ہوتا ہے رواں موسم سیر کا بہترین موسم ہے ہر طرف سبزہ ہی سبزہ رنگ برنگے پھول اس موسم میں کھلتے ہیںاور صبح کی ٹھنڈی ہوا جس میں سردی لگتی ہے اور نہ گرمی کا احساس ہوتا ہے اس موسم میں تفریحی پارک کی رونقیں لوٹ آتی ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے نوجوان لڑکوں کی تعداد کم جبکہ بڑی عمر کے مرد وخواتین کی تعدادزیادہ ہوتی ہے اور ان بڑوںکی تندرستی کا راز بھی صبح کی سیر ہے۔
درخت ہمیں آکسیجن مہیا کرتے ہیں اور یہ بھی درست ہے کہ صبح کی سیر کرنے والے بیمار بھی کم ہوتے ہیں، جب صبح ہلکی پھلکی ورزش کے بعد سانس پھولتا ہے اور اتنی ہی تیزی سے ہمیں آکسیجن ملتی ہے اور صبح کی تازہ آکسیجن بھری ہوا، آلودگی سے پاک ہوتی ہے صبح سویرے نہ کوئی ٹریفک کا شعور اور نہ ہی ماحول میں آلودگی، گویا صبح کی سیر کرنے سے سارا دن اچھا گزرتا ہے اور انسان اپنے آپ کو سارادن ترو تازہ محسوس کرتا ہے صبح کی سیر کے لئے ضروری ہے کہ رات کو سونے میں تاخیر نہ کی جائے، رات کو تاخیر سے سونے سے صبح آنکھ بھی اتنی جلدی نہیں کھلے گی۔ ڈاکٹروں کے مطابق روزانہ آٹھ گھنٹوں کی نیندکافی ہوتی ہے یہ نہیں رات گئے تک جاگتے رہیں اور صبح سویرے جاگ جائیں اور اگر زبردستی جاگ بھی جائیں تو سارا دن نیند کا غلبہ طاری رہے گا اور سیر کا وہ لطف نہیں آئے گا،ترقی یافتہ اس دور رات کو تاخیر سے سوناتقریباًہرگھرکامعمول بن چکا ہے۔ بہت کم گھرانے ایسے ہیں جو رات کو جلدی اور صبح سویرے اٹھنے کا عادی ہیں یقیناً ان کی صحت بھی قابل رشک ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صبح کا موسم سہانا ہوتا ہے ہوا میں ٹھنڈک ہوتی ہے جو جسم کو بھلی لگتی ہے، پرندے چہچہاتے ہیں ہری بری گھاس پر شبنم کے قطرے ہوتے ہیں راستے میں بہت سے لوگوں کو بھی سیر کرتے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ گائوں کا منظر بھی عجیب ہوتا ہے ،الصبح کسان مویشی ہانک کر کھیتوں میں لے جاتے ہیں گائوں میں نوجوان لڑکے گرمیوں کے موسم میں دریا کنارے یا پھر نہر پر جا کر لطف اندوز ہوتے ہیں اس طرح پھیپھڑوں کو تازہ صاف شفاف ہوا ملتی ہے جس سے طبعیت ہشاش بشاش رہتی ہے سارا دن کام بھی خوب ہوتا ہے سستی قریب نہیں آتی، غرضیکہ صبح کی سیر کا کوئی مقابلہ نہیں۔