دوبئی میں اردو پریس کلب انٹرنیشنل کے زیر اہتمام عالمی مُشاعرہ

صحافی  |  طاہر منیر طاہر
دوبئی میں اردو پریس کلب انٹرنیشنل کے زیر اہتمام عالمی مُشاعرہ

اردو پریس کلب انٹرنیشنل کی جانب سے انڈین ہائی اسکول کے شیخ راشد آڈیٹوریم ایک کامیاب ادبی اورباوقار مشاعرے کا انعقاد دبئی میں کیا گیا، جس میںاردو کے موقر ادیبوں اور شاعروں نے شرکت کی اور اپنے کلام سے سامعین کو نوازا۔اس مشاعرے میں بطور صدر بالی ووڈ کے مشہور نغمہ نگار جاوید اختر نے شرکت کی، علاوہ ازیں پاکستان کے اہم شعرا لیاقت علی عاصم، مقصود وفا، رحمن، فارس، عنبرین حسیب عنبر اور احمد سلمان وغیرہ نے شریک ہو کر مشاعرے کے معیار کو بحال کیا۔ہندوستان سے اس مشاعرے میں مشہور شاعر اور صنعت کار عمر فاروق نے شرکت کی، جو کہ ایک خاص اسلوب اور منفرد انداز فکر کے شاعر ہیں، اسی طرح اظہرعنایتی ، جو کہ ادبی دنیا کے ایک نہایت اہم اور قابل ذکر شاعر ہیں، اس مشاعرے میں موجود تھے، ان شعرا کے علاوہ منصور عثمانی جیسے منفرد لب و لہجہ کے شاعر نے اس مشاعرے میں نظامت کے فرائض انجام دیے اور ترنم کی دنیا میں اپنا ایک الگ مقام رکھنے والے شرف نانپاروی نے بھی مشاعرے کو ادبی وقار عطا کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کیا ،ساتھ ہی ساتھ مالیگاؤں سے مزاح کے مشہور شاعر مختار یوسفی نے بھی اپنے پرلطف اور پرمزاح معیاری کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔مشاعرے کی ابتدا میں افتتاحی تقریب کے موقع پر تمام معاونین کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ارد و پریس کلا کے جنرل سکرٹری طارق فیضی نے مشاعروں کی علمی و ثقافتی اہمیت اور ان کے معیار کو بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا، اس موقع پر انہوںنے کہا کہ پچھلی کئی دہائیوں سے مشاعرہ ہی دنیا کے دوردراز خطوں میں بھی لوگوں کو اردو رسم الخط، زبان اور بیانیے کی لذت کے نزدیک لا رہا ہے۔اسی کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے اور یہی برے سے برے حالات میں اردو کو زندہ رکھنے کی قوت رکھتا ہے، اس لیے ہمیں اس شمع کی حفاظت کرنی چاہیے اور جو لوگ اسے خراب کررہے ہیں اوردرپردہ اسے بجھانے کی کوشش کررہے ہیں ان کی سازش کو ناکام کرتے ہوئے اپنی اس تہذیبی وراثت کے معیار کو ہرگز خراب نہیں ہونے دینا چاہیے۔طارق فیضی نے اپنے خاص معاونین کا ذکر کیا جو کہ اردو پریس کلب کی اس تحریک سے بصد شوق وابستہ رہے اور جنہوں نے دبئی میں شعر و ادب کی اس محفل کو تابنا بنانے میں اہم کردار ادا کیا، جن میں راضیہ حسن، تابش زیدی، تنویری اعظمی،عادل اور خورشیدہ کھٹک صاحبان کینام خصوصی طور پر شامل ہیں۔ واضح رہے کہ تابش زیدی نے اس پروگرام کو ظہور میں لانے کے لیے اردو پریس کلا کے رفیق خاص کا کردار ادا کیا، راضیہ حسن نے اردو پریس کلا کے اس پروگراک کو وجود میں لانے کے لیے دن رات ایک کردیے وہیں دوسری جانب خورشیدہ کھٹک نے اردوپریس کلا کی عالیشان ویب سائٹ بنا کر فروغ اردو کی اس تحریک کو دنیا بھر میں عام کرنے کا ایک راستہ کھول دیاہے۔ مشاعرے میں موجود اہم شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر نے کہا کہ اردو پریس کلا انٹرنیشنل واقعی ادب کی خدمت کررہا ہے اور مشاعرے کو سطحیت سے بچا کر اسے دنیا میں ایک علمی وقار عطا کرنے کی مستقل تحریک سے وابستہ ہے، جس کی اہمیت کو سمجھنا بہت ضروری ہے، انہوں نے مزید کہا کہ میں بطور خاص اس مشاعرے میں شرکت کرتا ہوں کیونکہ اس کی نیت میں خلوص اور ادب سے سچی محبت شامل ہے۔پاکستان کے معروف شاعر لیاقت علی عاصم نے اس موقع پر اردو پریس کلا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پوری امید ہے کہ اگر اس طرح کے مشاعروں کو منعقد کیا جاتا رہا تو اردو شاعری ایک بہتر سمت میں سفر کرتے ہوئے اپنے ادبی مقاصد کو حاصل کرے گی اور سامعین کی تربیت بھی ہوسکے گی۔اسی طرح مقصود وفا نے اس مشاعرے کو ہندو پاک رشتوں کی بہتری اور بحالی کی جانب ایک بہترین پیش رفت ثابت کرتے ہوئے اس مشاعرے میں اپنی شرکت پر مسرت اور فخر کا اظہار کیا۔ فارس اور عنبرین حسیب عنبر نے بھی اپنے تہنیتی کلمات پیش کئے ۔سہیل اختر نے اردو پریس کلب کے اس قدم کو سراہتے ہوئے کہا کہ طارق فیضی نے اپنی تنظیم کے ذریعے مشاعروں کے وقار کو بلند کرنے کی جو مہم شروع کی ہے اس میں دنیا کے تمام اہم ادبی شاعروں کو بصد خلوص شریک ہونا چاہیے اور اس طرح کے اقدامات کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔ مشہور شاعر اور صنعت کار عمر فاروق نے کہا کہ اردو پریس کلب کا تعلق ہندوستان کے دل یعنی شہر دہلی سے ہے ۔پروگرام میں راضیہ حسن نے مشہور ادیب و شاعرمعید رشیدی کی تحریری کو پڑھ کر سنایا، جس میں گزشتہ سال ہونے والے مشاعرے اور اردو پریس کلب کی تحریک کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ اردو ادب کے معروف انقلابی شاعر کے پوتے تابش زیدی نے بھی اس مشاعرے کی ستائش کرتے ہوئے اپنے زریں الفاظ میں کہا کہ اردو ادب اور شاعری کے فروغ میں طارق فیضی کا کردار بہت اہم ہے، ان کی کاوشوں کی بدولت دبئی میں ہر سال اس طرح کا اہم مشاعرہ ہوتا ہے جو کہ اردو زبان و ادب کے حق میں کسی فال نیک سے کم نہیں۔ مشاعرے میں ہندوستان کے مشہور فنکار وشنو شرما نے بھی شرکت کی ۔