خواجہ محمد صفدر میڈیکل کالج کی اپ گریڈیشن

زاہد علی خان سیالکوٹ

e-mail:dashmna@gmail.com


یوں تو سیالکوٹ علم و ادب کا گہوارہ رہا ہے۔ حکیم الامت، شاعر مشرق، مصور پاکستان حضرت علامہ محمد اقبال، بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان اور مشہور ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض کا تعلق اسی سرزمین سے تھا۔ مگر ایک عرصہ سے یہاں عملی سرگرمیاں ماند پڑتی نظر آرہی تھیں۔ ایسے میں خواجہ محمد صفدر میڈیکل کالج سیالکوٹ اس جمود کو توڑا اور ایک کامیاب سہ روزہ بین الاقوامی میڈیکل کانفرنس کرکے اقبالؒ کی اس کشت ویراں کی آبیاری کرکے اسے زرخیز مٹی میں بدلنے کی سعی کی ہے۔
مرے کالج کے بعد سیالکوٹ میں کوئی ایسی معیاری درس گاہ وجودمیں نہ آسکی جو تعلیمی میدان میں ملکی سطح پر اپنا لوہا منوا سکے۔ یوں تو سیالکوٹ میں میڈیکل کالج کے قیام کا مطالبہ ایک پرانا مطالبہ تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں علامہ اقبال میڈیکل کالج سیالکوٹ کیلئے تجویز کیا گیا مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر اسے لاہور منتقل کر دیا گیا۔ اس کے بعد سیالکوٹ میڈیکل کالج کے قیام کا اعلان ہوا۔ لیکن مشرف دو رمیں اس کالج کے نام پر طلباء کے داخلے ہونے کے باوجود انہیں پنجاب کے دیگر میڈیکل کالجز میں بھیج دیا گیا اور یہاں میڈیکل کالج کے قیام کا مطا لبہ سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔یہ اعزاز وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے حصہ میں آیا جنہوں نے نہ صرف سیالکوٹ میں میڈیکل کالج کے قیام کی منظوری دی بلکہ اس کیلئے خطیر فنڈ کی منظوری دے کر منصوبہ کو جلد از جلد حقیقت کا روپ بھی دے دیا۔ کالج کو موجودہ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کے والد بزرگ مسلم لیگی رہنما خواجہ محمد صفدر کے نام سے منسوب کیا گیا۔
موجود پرنسپل خواجہ محمد صفدر میڈیکل کالج سیالکوٹ پروفیسر ڈاکٹر ظفر علی چوہدری نے دسمبر 2012ے میں کالج کی باگ ڈور سنبھالی، اس وقت نہ تو کالج کی کوئی عمارت تھی اور نہ ہی ڈھانچہ۔ اقبالؒ سے جنون کی حد تک محبت اور ضلع سیالکوٹ سے سابقہ تعلق کے حوالے سے اس درسگاہ کیلئے کچھ کر گزرنے کا جذبہ ان میں کوٹ کوٹ کربھرا ہو ا تھا۔ شبانہ روز جد وجہد سے آج دو سال کے قلیل عرصہ میں انہوں نے کالج کو آج اس مقام پر لاکھڑا کیا کہ کالج کی اپنی عمارت مکمل طور پر فنکشنل ہو چکی ہے اور تمام کلاسز اسی عمارت میں ہورہی ہیں۔ طلباء و طالبات کیلئے ہاسٹل کی سہولت بھی موجود ہے۔ ہسپتال کی اپ گریڈیشن کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔ اور مریضوں کو جدید طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ جن کی فہرست طویل ہے۔ ان کے ثمرات سے مستقبل قریب میں شہر اقبال کے باسی کما حقہُ مستفید ہو سکیں گے جن میں 1100بستروں پر مشتمل ہسپتال کی تعمیر بھی شامل ہے۔
خواجہ محمد صفدر میڈیکل کالج سیالکوٹ کے زیر اہتمام گزشتہ سال کے اواخر مارچ میں ایک میڈیکل کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا۔ جس کی افادیت اور اہمیت کو دیکھ کر اس سال بھی بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جو ایک بڑا چیلنج تھا۔ کانفرنس کا مقصد ایسے چوٹی کے ماہر ڈاکٹرز جو دنیا کے بہترین ہسپتالوں میں اپنی قابلیت کا لوہا منوا رہے ہیں اور ان کا تعلق سیالکوٹ سے ہے اپنی مہارت اور تجربے کو اپنے شہر میں واپس لاکر یہاں کے باسیوں کو بھی مستفید کریں۔ کانفرنس کیلئے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر ظفر علی چوہدری کی نظر انتخاب اس بار بھی نامور ماہر بچگان و سابق صدر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سیالکوٹ ہر دلعزیز ڈاکٹر صاحبزادہ سید مسعود السید پر پڑی جنہوں نے پہلی میڈیکل کانفرنس کا انعقاد کرکے اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا تھا۔ ان کی دن رات محنت رنگ لائی اور مارچ 2015کے آخری ہفتہ میں منعقدہ اس بین الاقوامی میڈیکل کانفرنس کو ڈاکٹرز کمیونٹی کی طرف سے زبردست پذیرائی ملی۔ کانفرنس میں شرکاء کی تعداد کا تخمینہ 700کے قریب تھا مگر جب کانفرنس منعقد ہوئی تو اس میں صرف سیالکوٹ اور گوجرانوالہ ڈویژن ہی نہیں سندھ، پنجاب، خیبر پختون خواہ، بلوچستان کے دور دراز علاقوں سے بھی بہت سے ڈاکٹرز بطور مندوب شریک ہوئے اور کانفرنس کے شرکاء کی مجموعی تعداد پندرہ سو سے بھی تجاوز کر گئی۔
24مارچ سے شروع ہونے والی ان تدریسی سرگرمیوں میں پہلے چار دن میڈیکل کے مختلف موضوعات پر ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈاکٹرز کی عملی تربیت کا اہتمام کیا گیا۔ انہوں نے جدید طبی تحقیقات کی روشنی میں اپنی علمی اور عملی استعداد کو بڑھانے کا موقع دیا۔ کرنل ڈاکٹر محمد آصف بھلی، ڈاکٹر طارق جاوید، ڈاکٹر سعید احمد رازی، ڈاکٹر بشیر وڑائچ، ڈاکٹر شہزاد بشیر، ڈاکٹر عبدالستار، ڈاکٹر برگیڈئیر پروفیسرمحمد لقمان، ڈاکٹر میاں محمد اظہر، ڈاکٹر توقیر حسین، ڈاکٹر فیصل اکرام، ڈاکٹر فوزیہ سعید، ڈاکٹر شمشاد احمد گل، پروفیسر ڈاکٹر اکبر ملک، ڈاکٹر مدثر حسین، ڈاکٹر زاہد کلیم بٹ، ڈاکٹر شہباز احمد ملک و دیگر نے بچوں کی بیماریوں، کان ناک گلا، آنکھ، الٹرا ساؤنڈ، دل کی بیماریوں، ای سی جی، دماغی بیماریوں کی تشخیص بذریعہ ای سی جی، بچوں میں جگر کی Biopsy، وبائی امراض کے کنٹرول، اینڈو سکوپی، Basic life supportاور دیگر موضوعات پر مجموعی طور پر 20کے قریب ورکشاپس کا اہتمام کیا گیا جس میں ایک ہزار ڈاکٹرز شریک ہوئے۔
ورکشاپس کا سلسلہ 27مارچ تک جاری رہا جبکہ 27مارچ کو سہ روزہ بین الاقوامی میڈیکل کانفرنس کا افتتاحی اجلاس ہوا۔ جس میں ڈاکٹر کے علاوہ شہر کی چیدہ چیدہ سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی شرکت کی۔ تعلیمی سیشن کا آغاز 28مارچ کی صبح ہوا ۔ دو روز جاری رہنے والی کانفرنس میں پاکستان کے علاوہ امریکہ، کینیڈا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ و دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے ماہر ڈاکٹرز نے 50سے زائد موضوعات پر اپنے تحقیقی مقالے پڑھے جس سے مقامی ڈاکٹرز کو شعبہ طب میں ہونیوالی پیش رفت سے آگاہی حاصل ہوئی۔ ڈاکٹر نے ہنگاہی صورت حال میں ہسپتال کے انتظامات، سرجری، ہپاٹائٹس سی، ڈائریا، لپرو سکوپی، دل کی بیماریوں کی تشخیص، بچوں میں غذائی کمی، خون کی نالیوں کی بیماریوں، جگر کی پیوندکاری، آنکھوں کی بیماریوں، ڈینگی بخار، دماغی امراض، ہیئر ٹرانسپلانٹیشن، معزور افراد کو کارآمد شہری بنانا اور دیگر موضوعات پر مقالے پڑھے۔ پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر ظفر علی چوہدری کا کہنا ہے کہ ایسی کانفرنسز سے طلبا و طالبات میں نصابی سرگرمیوں میں دلچسپی کا رحجان بڑھے گا اور وہ تحقیق و تخلیق کی راہ پر مائل ہونگے۔
کانفرنس کے اختتامی سیشن میں میڈیکل کالج میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبا و طالبات میں انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔ وفاقی وزیر دفاع اور پانی و بجلی خواجہ محمد آصف اس سیشن کے مہمان خصوصی تھے۔