استحکام پاکستان اور اردو زبان

تحریر: ملک سجاد علی

(ایم اے اردو‘ ایم ایڈ شعبہ اردو گورنمنٹ E/S ونڈالہ ناصرخاں مریدکے شیخوپورہ)

اردو پاکستان کی قومی زبان ہے۔ اردو کے اس مقام و منصب عزوشرف کی بنیاد یہ ہے کہ ماضی میں اردو تحریک پاکستان کی زبان تھی تو آج اردو استحکام پاکستان کی زبان ہے۔ برصغیر جنوبی ایشیا کے مختلف خطوں میں آباد مختلف رنگ و نسل کے مسلمانوں کے درمیان ربط و اتحاد کا فریضہ اردو زبان سے وابستہ رہا ہے۔ اسی طرح اگر ہم پاکستان کے قیام کی جدوجہد اور مقصد کا جائزہ لیں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ جہاں قومی جدوجہد میں دوسرے عناصر کارفرما تھے‘ وہاں اردو زبان نے بھی مسلمانوں کو مربوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اردو زبان نے ہماری قومی جدوجہد میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ ہم آزادی کے حصول کے بعد استحکام پاکستان کی خاطر اردو زبان کے نفاذ کیلئے ہرممکنہ قدم اٹھائے مگر اپنی قومی زندگی میں قومی ترقی میں ہی نہیں بلکہ ملکی سالمیت کیلئے رائج کرتے‘ لیکن محض اطراف سے یہ اعتراض کیا جاتا تھا اور آج بھی کیا جاتا ہے کہ اردو زبان ملکی امور کیلئے نامکمل ہے اور اسے قومی زبان قرار نہیں دیا جا سکتا جبکہ ملک میں بیشتر دوسری زبانیں بھی رائج ہیں۔ علاقائی زبانوں اور ان کی ثقافتی حیثیت کو یقیناً نظرانداز نہیں کیا جا سکتا‘ لیکن ان کا دائرہ کار صرف علاقائی حد تک محدود ہوتا ہے۔
اردو آج قدرتی طور پر پاکستان کے استحکام میں موثر کردار ادا کر رہی ہے۔ قائداعظم نے ڈھاکہ میں 21 مارچ 1948ء کو خطاب کرتے ہوئے قوم کے نام پیغام دیا تھا۔
’’میں واضح الفاظ میں بتا دینا چاہتا ہوںکہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو اور صرف اردو ہوگی۔ ایک مشترک زبان کے بغیر کوئی قوم نہ تو پوری طرح متحد ہو سکتی ہے اور نہ کوئی کام بطریق احسن انجام دے سکتی ہے۔‘‘
فرمان قائداعظم کا بنظر عمیق جائزہ لیں تو اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں۔ اگر اردو کو آغاز ہی سے رائج کر دیا جاتا اور اس کی سرپرستی میں خلوص نیت سے کام لیا جاتا تو پاکستان کا شمار بھی دنیا کی ترقی یافتہ اقوام میں ہوتا ۔
ہمارے ہاں ملکی ایوانوں میں انگریز کی میراث کو چھوڑنے اور اپنی ملکی شناخت کو اپنانے میں کوئی اہم قدم نہ اٹھایا گیا۔ نتیجہ یہ نکلاکہ اردو زبان سے بے اعتنائی حد درجہ بڑھتی چلی گئی اور ملک عدم استحکام کا شکار ہوا۔ قوم میں باہمی رابطہ نہ رہا۔ چنانچہ سندھی‘ پشتو‘ پنجابی اور بلوچی کے پرچار ہونے لگے۔ اجتماعی سوچ ختم ہوتی چلی گئی۔ غرض انفرادیت کو اپنا کر قوم نے اجتماعیت اور اس کی اہمیت کو پس پشت ڈال دیا۔ قومی یکجہتی‘ جس کی بنیاد پر پاکستان قائم ہوا‘ دم توڑ گئی اور پاکستان 1971ء میں دولخت ہو گیا۔
آج بھی ہمیں اپنے ماضی سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنے مستقبل کو روشن اور تابناک بنانے کیلئے سرکاری اور نجی سطح پر اردو زبان کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر اس کی ترویج و ترقی کیلئے کوشاں ہونا چاہئے تاکہ ہماری قومی اقدار صحیح بنیادوں پر قائم ہو اور ملک میں صحیح معنوں میں ملی جذبہ ممکن ہو سکے۔