تھر کے بلکتے بچے اور سندھ فیسٹیول

چوہدری فرحان شوکت ہنجرا
نیشنل ڈیزا سٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)نے صوبہ سندھ کی حکومت کو تھر میں بارشیں نہ ہونے کے پیش نظر خشک سالی کی صورت میںقحط کی صوتحال سے 3 ماہ قبل وزیر اعلیٰ سندھ سائیں قائم علی شاہ کو رپورٹ بجھوا دی تھی لیکن شاہ جی نے یہ رپورٹ پڑھنا گوارا اس لیے نہ کی کہ یہ رپورٹ سندھ فیسٹول کی تقریبات کے رنگ میں بھنگ ڈالنے کی مترادف بن سکتی تھی ۔سندھ فیسٹول کے پیروکاروں نے حقیقت میں صوبہ سندھ اور سندھی عوام کی اخلاقی ،سماجی اقدار کا قتل کر دیا۔ایک طرف تھر میں بھوک سے ماووں کی چھاتیوں کے خشک ہونے سے نو مولود اور شیر خوار بچے بلک بلک کر جاں بحق ہو رہے تھے تو دوسری جانب سندھ کے وارث تھر کتے جسموں کے ساتھ رقص و سرور کی محفلوں میں مد ہوش تھے  این ڈی ایم اے اور میڈیا  نے تھر کے عوام کو سسک سسک کر موت کے اغوش میں جاتے دکھا کر حکمرانوں کے اقتدار کا مزہ خراب کر دیا بیچارے مجبوری کے عالم میں سرخ قالینوں کو چھوڑ کر تپتی ریت میں اپنی لینڈ کروزوں پر مٹھی ،تھر پارکر پہنچ گئے ۔سائیں قائم علی شاہ پورے جاہ و جلال کے ساتھ صحرا تھر پر براجمان ہو ئے تو ان کے لیے اور ان کے عوامی خا دموں یعنی وزرا ،مشیروں اور سیاسی قیادت کے لیے بیورو کریسی نے انواع اقسام کے کھانے کی ڈشوں کا اہتمام کیا جس میں شرط یہ رکھی گئی کہ بھوک اور دودھ سے بلکتے بچے اور ان کے لواحقین 25 کلو گندم کے حقدار ہیں اور سائیں کے قافلے میں شامل رہبر فش قورمہ،مٹن قورمہ،بریانی ،ملائی بوٹی تکہ اور دیگر کھانوں کے اصل حقدار ہیں وہ اس لیے کہ وہ کراچی سے طویل سفر اور تھر کے کھٹن راستے سے شدید تھکاوٹ کے بعد متاثرین تک پہنچے ہیں واہ سبحان اللہ وزیر اعلیٰ سندھ کا کیا خوب موقف سامنے آیا ہے کہ بابا تھر میں قحط تو ہر سال آتا ہے اس بار میڈیا نے معاملہ بڑھا چڑھا کر پیش کر دیا بڑے میاں سو بڑے میاں چھوٹے میاں بھی سبحان اللہ سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کیا خوب کہا ہے کہ تھر میں اتنے بچوںکی اموات تو معمول کی بات ہے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اس صورتحال کے ادراک کا اعادہ کرتے ہوئے تھر کا دورہ کیا تو مفا ہمت کی پالیسی کو تقویت دیتے ہوئے بلاول صاحب کو بھی تھر کے مجبور ،مفلوک الحال عوام یاد آگئے ۔وزیر اعظم کے ساتھ صوبائی حکومت کی میٹنگ ہوئی تو سابق وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم نے انکشاف کیا کہ آپ کے آنے سے ایک روز قبل گندم کی بوریاں قحط زدہ عوام میں تقسیم ہوئی ہیں اس سے قبل یہ بوریاں گودام میں پڑی رہیں لیکن انتظامیہ نے عوام میں تقسیم نہیں کیں جس پر وزیر اعلیٰ سندھ نے معذرت کی اور وزیر اعظم نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا وزیر اعظم صاحب نے اپنے لیے ظہرانے کے اہتمام کو مسترد کر دیا ان کا کہنا تھا کہ میرا ضمیر کیسے گوارہ کر سکتا ہے کہ عوام بھوک سے مر رہے ہوں اور ہم ضیافتیں کھاتے پھریں ویلڈن وزیر اعظم صاحب ،چیف جسٹس آف پاکستان تصدق حسین جیلانی نے تھر میں قحط سے انسانی ہلاکتوں اور سہولتوں کے فقدان پر از خود نوٹس کی سماعت میں ریمارکس دئیے ہیں کہ تھر میں قحط کی ذمہ دار سندھ حکومت ہے جس پر سر شرم سے جھک جانے چاہیں یہ بیچارے تو لاشوں پر سیاست کر کے اقتدار کی منزل حاصل کرتے ہیں
وفاقی وزرا خواجہ سعد رفیق ،احسن اقبال نے اس موقف کا اظہار کیا ہے کہ اگر کالا باغ ڈیم تعمیر ہو جاتا تو تھر میں قحط نہ آتا میری دونوں معزز وزرا سے درخواست ہے کہ مسلم لیگ ،پیپلز پارٹی ماسوائے ایک دور ق لیگ کے حکومتیں تو آپکی جماعت کے حصے میں آتی رہی ہیں تھر کول منصوبے اور تھر میں مفاہمتی سیاست کے زریعے آپ یک آواز ہو سکتے ہیں تو کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر کیوں نہیںذرا سوچیے ملک میں جب بھی کوئی قدرتی آفت آئی ہے سب سے پہلے دینی جماعتیں اور ان کی رفاعی تنظیمیں اور ان کے رضا کار مصیبت ذدہ عوام کی مدد کو آئی ہیں۔یہ دینی جماعتوں کے ورکرز اپنا تن من دھن دکھی بہن بھائیوں کی خدمت کرنے کو اپنا دینی ،اخلاقی،سماجی،فرض سمجھتے ہیں جو کہ لائق تحسین ہے۔جماعت اسلامی  کی رفاحی تنظیمپاکستان اسلامک میڈیکل ایوسی ایشن اسی طرح فلاح انسانیت فائونڈیشن کے رضاکار تھر میں ہمہ تن عوام الناس کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔عوام دل کھول کر ان تنظیموں کی مالی امداد فراہم کریں کیونکہ عوام کو پہلے ہی سے یقین ہے کہ انشااللہ ان کی پائی پائی کا رخیرمیں صرف ہو گی۔حکومت  سید منورحسن کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کرے جس میں انہوں نے تھر اور چولستان میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)کے مستقل طور پر دفاتر قائم کرنے کو کہا ہے کیونکہ ان اداروں کے قیام سے ہر طرح کے حالات و واقعات سے حکومت مکمل آگاہ ہو کر صوبائی حکومتوں اور انتظامیہ کو الرٹ کر دے گی جس سے تھر ا ور چولستان میں بسنے والے بنی نوح انسان ،چرند اور پرند اپنی زندگی کے سانس سکھ سے لے سکیں گے۔