تھر میں قحط سالی اور نقل مکانی

خالد یزدانی
تھر پاکستان کے صوبہ سندھ کا وہ صحرا ہے جہاں پانی کی قلت سے انسان و حیوان سالہا سال سے مشکلات کا شکار ہی چلے آرہے ہیں اور جب حالات مزید خراب سے خراب ہوں تو مویشیوں کے ساتھ انسانی اموات بھی اکثر و پیشتر ہوتی رہتی تھیں اور بارشوں کے نہ ہونے سے قحط سالی کی وجہ سے وہاں سے لوگ اپنے مال و اسباب کے ساتھ ان علاقوں کا بھی رخ کرتے رہنے پر مجبور ہو جاتے تھے جہاں وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ کم ازکم زندہ تو رہ سکیں  وہاں کے مکین سالوں سے نا مساعد حالات کا  اپنی ہمت سے  مقابلہ کرتے چلے آرہے ہیں مگر گذشتہ سالوں کی نسبت اس سال شدید سرد موسم نے پہلے ان کے جانوروں کو لپیٹ میں لیا اور پھر ننھے منے پھول سے بچے بھی اس کی زد میں آگئے۔ ایک طرف شدید سردی اور دوسری جانب قحط کی صورت حال نے ان کا جینا محال کردیا اور پھر ایک دن  وطن عزیز بلکہ دنیا  کوصحراء تھر کی خبر نے چونکا دیا تھاکہ تھر میں قحط اور  شدید غذائی قلت کے سبب صرف مٹھی کے ہسپتال میں دو ماہ کے عرصے میں ساٹھ کے قریب بچوں کی اموات ہو چکی ہیں۔ اور چرند پرند کے بعد قحط نے انسانوں کا بھی شکار شروع کردیا ہے۔
اگرچہ اس قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے فوری  طورپر پاک فوج نے وہاں امدادی سرگرمیوںکا  آغاز کردیا اور ان کی ٹیمیں تھر کے علاقے میں ادویات اور راشن لے کر فوری طور پر روانہ ہوگئی تھیں اس کے ساتھ ہی مختلف رفاعی تنظیموں نے بھی امدادی اشیا کے ساتھ تھر پارکر  پہنچ کر قحط سالی کا شکار ہونے والوں کی مشکلات کو کم کرنے کے لئے سرگرم عمل ہوگئے
تھر پارکر میں قحط سالی کے حوالے سے ذرائع کا کہنا تھا کہ اس بارے میں سندھ حکومت نے غفلت کا مظاہرہ کیا اگروہ بروقت اس خطرناک صورت حال کا ادراک کرلیتی تو کئی انسانوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچایا جا سکتا تھا۔ میڈیا میں تھر پار کر میں ہونے والی بچوں کی ہلاکتوں اور مجموعی قحط کی صورت حال کی تصویر دیکھ کر ہر درد دل رکھنے والا غمزدہ ہوگیا یہی وجہ ہے کہ خیبر تا مہران قحط سالی کے شکار تھر پارکر کے رہائشیوں کی مشکلات کو کم کرنے کے لئے ساری قوم دامے، درمے سخنے ان کے ساتھ  ہے
جبکہ سندھ کی حکومت نے تھر پارکر کے حوالے سے ہونے والی صورت حال میں اس مجرمانہ غفلت کا ناصرف اعتراف کیا بلکہ قدرتی طور پر اس کے مرتکب افسران کے تعین کے لئے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی تھی اور سندھ کے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے فوری طورپر تھر کا دورہ کرنے کے بعد ایک پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ اس سال سخت سردی پڑی تھی جس کی وجہ سے بچے نمونیا میں مبتلا ہوگئے اور دوسری وجہ خوراک کی کمی تھی جس کے باعث بچوں کو دودھ نہ مل سکا۔
تھر کی صورت پر سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری نے بھی موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک خط میں تھر کی قحط سالی سے بچوں کی ہلاکتوں پر عوامی مفاد میں ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ میڈیا پر تھر میں بچوں کی ہلاکتوں پر عوامی مفاد میں از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ تھر میں  بچوں کی ہلاکتوں اور   قحط سالی کے بارے میں حالات جان کر ازخود نوٹس لیتے ہوئے دس مارچ کو سماعت پر سندھ کے چیف سیکرٹری سے رپورٹ طلب کی تھی اسی طرح سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مقبول نے بھی تھر میں قحط سالی اور بچوں کی ہلاکتوں کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے 14مارچ کو جواب طلب کیا ہے جس میں متعلقہ حکام سے پوچھا ہے کہ تھر میں قحط سالی کی صورت حال کیوں پیدا ہوئی اور علاقے میں سرکاری گندم کی تقسیم کا نظام کیا ہے جبکہ سندھ کے وزیر اعلیٰ کا اس حوالے سے موقف ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ سرکاری گندم کی درست تقسیم نہیں ہو سکی تھی، جس وجہ سے غذا کی کمی میں اضافہ ہوا۔ گندم کی تقسیم ریلیف کمشنر کے ذریعے ہونی تھی لیکن وہ بیمار پڑ گئے جس وجہ سے تقسیم متاثر ہوئی ۔حکومت نے اس کا نوٹس لے لیا ہے انہوں نے تسلیم کیاکہ صرف تھر کے ضلعی ہسپتال مٹھی میں طبی سہولیات موجود ہیں اور پورے ضلعے کے علاقے دیگر علاقوں سے مریض یہیں لائے جاتے ہیں۔ وہاں گذشتہ دو ماہ میں 41بچے ہلاک ہوئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ مٹھی ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ کا یہ فرض تھا کہ جب بچوں میں غذائی قلت کی تشخیص ہورہی تھی تو ڈائریکٹر اور سیکرٹری کو بتاتے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ان بچوں کو تشخیص کے بعد فوری طور پر حیدرآباد یا کراچی منتقل کیا جانا چاہیے تھا۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ نے متعلقہ محکموں کی مجرمانہ غفلت تسلیم کی اور تحقیقات کے لئے کمیٹی بنانے کا اعلان بھی کیا۔ جس یہ کمیٹی بتائے گی کہ کس نے کتنی غفلت کی ہے جبکہ وزیراعلیٰ نے دس کروڑ مالیت کے خوراک کے پیکیج کا اعلان کیا، جس کی تقیسم میں مقامی رکن اسمبلی اور صحافیوں کو شامل کیے جانیکا بھی عندیہ دیا  اور  مٹھی ہسپتال کو ایک کروڑ کی دوائیں فراہم کی جائیں گی۔ ایک اطلاع کے مطابق ہنگامی حالت سے نمٹنے کے قومی ادارے نے کہا ہے کہ اگلے تین ماہ کے دوران خشک سالی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے این ڈی ایم اے ایک افسر کا کہنا تھا کہ کے ادارے کو بھی اگلے تین ماہ کے حوالے سے خاصی تشویش ہے دریں اثناریلیف کمشنر حکومت سندھ نے ایک نوٹیفکیشن میں تعلیم اور ضلع عمر کوٹ کی  دیہوں کو آفت زدہ قرار بھی  دیا وزیراعظم پاکستان ڈاکٹر نواز شریف نے بھی قحط سالی کا شکار تھر کے لئے ایک ارب کی امداد کا اعلان کیا اور اس موقع پر گندم کی تقسیم میں کوتاہی برتنے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا تھا وزیراعظم نے اس موقع پر کہا جو لوگ تھر پار کر سے با ہر نہیں جا سکتے انہیں گھروں میں علاج فراہم کیا جائے وزیراعظم ڈاکٹر نواز شریف جب تھر پارکر پہنچے تو بلاول بھٹو  نے ان کا استقبال کیا اور دونوں نے ہسپتال کا دورہ کیا اس موقع پر وزیراعظم نے تھر کے لوگوں سے  اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کھانا کھانے سے انکار کردیا تھا وزیراعظم نے کہا کہ حکومت خشک سالی سے متاثرہ افراد کی ہر ممکن مدد کرے گی اور اس سلسلے میں انہوں نے سندھ حکومت کو یقین دلایا کہ وفاق اس بحران پر قابو پانے کے لئے مکمل تعاون کرے گا۔ وزیراعظم کو تھر پارکر میں خشک سالی سے پیدا ہونے والی صورتحال سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے لوگوں کو اشیاء خوردنی اور پینے کا صاف پانی فوری فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ تھر میں بہت جلد خوشحالی آئیگی وہ متاثرین کے لئے بنائے گئے فوج کے امدادی اور میڈیکل کیمپ کے دورہ کے موقع پر متاثرین سے بات چیت کررہے تھے۔ وزیراعظم نے آرمی چیف میڈیکل کمیپ کے دورے کے موقع پر متاثرین میں امدادی سامان بھی تقسیم کیا جبکہ فوجی میڈیکل کیمپ میں موجود مریضوں کی خیریت بھی دریافت کی۔
تادم تحریر تھر پارکر میں قحط سالی کے شکار علاقے میں سرکاری اور نجی سطح پر امدادی سرگرمیاں جاری و ساری ہیں جبکہ اطلاعات کے مطابق علاقہ سے 11لاکھ افراد خشک سالی سے متاثر ہوئے اور ڈیڑھ لاکھ کے قریب نے نقل مکانی کی۔ اگرچہ متاثرہ علاقوں میں  امدادی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں مگر متاثرین کی بڑی تعداد اب بھی امداد کی منتظر ہے اور امید کی جاسکتی ہے کہ اب سب مل کر ان کی مدد کے لئے دن رات ایک کردیں جن کی آنکھیں مشکل کی اس گھڑی میں مدد کی  منتظر ہیں۔