پنجاب حکومت کا فری ایمبولینس سروس کا آغاز

پنجاب حکومت کا فری ایمبولینس سروس کا آغاز

خالد یزدانی

آج دنیا بھر میں آبادی میں اضافہ کے ساتھ ٹریفک بھی بڑھتی چلی جا رہی ہے ،مگر وطن عزیز میں سڑکوں کی کشادگی کے باوجود آئے دن ٹریفک حادثات کے واقعات بھی رونما ہوتے رہتے ہیں۔ اگرچہ ریسکیو 1122 کی سروس بھی جاری ہے اور حال ہی میں پنجاب میں موٹرسائیکل پر بھی اس ایمبولینس سروس کا آغاز کر دیا ہے جس کا افتتاح گذشتہ دنوں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کیا تھا۔ اس سروس سے یقیناً جس جگہ کوئی حادثہ ہوا ہو جلد پہنچنا ممکن ہو گا بلکہ گنجان علاقوں میں بھی بآسانی پہنچا جا سکتا ہے۔ یہ سہولت اپنی جگہ مگر ہم اگر ٹریفک قوانین پر عمل کریں تو ایسے حادثات سے بچا جا سکتا ہے۔آج بڑی شاہراہوں پر ٹریفک قوانین سے آگاہی کے لئے بینرز بھی آویزاں کر دیئے گئے ہیں ،تاکی حادثات کی روک تھام ہو۔جب سے ٹریفک میں اضافہ ہوا سڑکوں کی حالت بھی بہتر بنانے کا آغاز ہو گیا تھا، تاکہ ٹریفک کے بڑھتے دباؤ کو کم کیا جاسکے ۔ یکطرفہ ٹریفک (ون وے ) کا آغاز بھی اسی سلسلے میں تھا ۔ آج بھی لاہور سمیت ملک کے بڑے شہروں میں کئی اہم سڑکوں پر ون وے کی وجہ سے ٹریفک میں روانی ہے۔ اس کے باوجود صبح دوپہراور شام کے اوقات میں اکثر ٹریفک جام ہو جاتی ہے اور ہر کوئی آگے نکلنے کی کوشش میں نظر آتا ہے، لیکن چند وارڈنز کا ایسی صورتحال میں بے ہنگم ٹریفک کو کنٹرول کرنا سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ جب تک لوگ قانون کی پاسداری نہیں کریں گے مسئلہ حل نہیں ہوگا اور اسی طرح حادثات بھی رونما ہوتے ہیں ۔ جبکہ ٹریفک وارڈنز سوائے چالان کے اور کچھ کر بھی کیا سکتے ہیں ۔ ٹریفک رولز کی خلاف ورزی اب معمول کی بات بن کر رہ گئی ہے۔
کیونکہ جلدی اور شارٹ کٹ کی وجہ سے کئی ناخوشگوار واقعات پیش آ چکے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قانون کو بالائے طاق رکھ کر جو کام کیا جائے اس کا انجام بھی اچھا نہیں ہوتا۔ حادثہ کسی بھی وقت ہو سکتا ہے اگرچہ ٹریفک پولیس اور دیگر عملہ ٹریفک کو رواں رکھنے کے لئے اقدامات بھی کرتے ہیں۔ شہریوں کو ٹریفک رولز سے آگاہی کی مہم بھی اسی لئے چلائی جاتی ہے ۔ اسی طرح کار‘ موٹرسائیکل سوار کو سڑک میں لگائی گئی سفید لائن اور لین کا فرق بتایا جاتا ہے اور ڈرائیونگ لائسنس اس وقت تک جاری نہیں کیا جاتا تب تک ڈرائیور ٹریفک قوانین سے واقف نہ ہو۔
گاڑی چلانے والے کئی منچلے ٹریفک نشانات جو اہم شاہراہوں پر نصب ہوتے ہیں سے آگاہ ہوتا ہے۔ اس کے باوجود وہ دیکھا دیکھی ٹریفک قوانین کی پابندی نہیں کرتے ۔ ڈرائیونگ میں بھی ’’مہارت‘‘ رکھنے والے رکشہ ڈرائیور کمال پھرتی سے آگے بڑھتے ہیں جیسے وہ رکشہ نہیں چلا رہے ،بلکہ کسی سرکس میںہوں ‘ آج ترقیاتی کام بھی جاری ہیں ، نئی سڑکیں بن رہی ہیں فاصلے سمٹ رہے ہیں ایسے میں ٹریفک قوانین کی پاسداری کی جائے تو اس میں بہتری آ سکتی ہے، مگر صورت حال اس کے برعکس ہے۔ ہیوی ٹریفک ہو یا لائٹ آج شہر کے کسی بھی بلند مقام پر کھڑے ہو کر دیکھ لیں تو یہ جاننے میں مشکل پیش نہ آئے گی کہ ہر ایک کو آگے نکلنے کی جلدی ہے ایسے میں حادثے نہ ہوں گے تو کیا ہو گا۔ حادثات کے نتیجہ میں کسی چیز کے ٹوٹنے کی تلافی تو ہو سکتی ہے مگر انسانی زندگی جو سب سے قیمتی ہے وہ اگر اس روڈ ایکسیڈنٹ کی نذر ہو جائے تو اس کا پورا خاندان متاثر ہو سکتا ہے جس کی تلافی نہیں ۔
حادثے کس کی غلطی سے سرزد ہوتے ہیں ؟ مگر اس کے نتیجہ میں کوئی بھی ساری زندگی معذوری میں گزرنے کا بھی خدشہ رہتا ہے۔ اپنے اردگرد نگاہ دوڑائیں تو ایسے لاتعداد واقعات سُننے اور دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں سختی سے ٹریفک قوانین کی پابندی کی جاتی ہے، اسی طرح یورپی ممالک کو دیکھ لیں وہاں کوئی کتنی جلدی میں ہو اور راستہ بھی نہ ملے مگر ہارن نہیں بجاتا مگر ہمارے ہاں کار ،ویگن ڈرائیور خالی سڑک پر بھی ہارن سے ہایھ نہیں اٹھاتے ۔جبکہ پاکستان میں قانون کو کسی خاطر میں نہ لانے والے بھی بیرونی ممالک میں بڑی محتاط ڈرائیونگ کرتے ہیں اور ساتھ بیٹھنے والا بھی حفاظتی بیلٹ نہ باندھ لے اس وقت تک گاڑی نہیں چلاتے ۔ اسی طرح موٹر سائیکل سوار کے لئے ہیلمٹ کی پابندی لازمی ہوتی ہے اس سے مقصود انسان کی حفاظت ہے مگر ہمارے ہاں آج کتنے فیصد موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ پہنتے ہیں؟ دنیا بھر میں ٹریفک رولز انسانوں کی حفاظت کے لئے ہی بنائے جاتے ہیں تاکہ ان پر عمل کر کے سفر کرنے والوں کی زندگی کی حفاظت کو لازمی بنایا جائے۔ مگر آج صورت حال یہ ہے کہ ہمیں کوئی بھی کام ہو اسے جلد از جلد کرنے کیلئے گھر کے کسی بھی نوعمر کو گاڑی یا موٹر سائیکل کی چابی تھما دیتے ہیں اور یہ نوجوان جب سڑکوں پر تیز رفتاری کا مظاہرہ کرے یا ون ویلنگ کرے تو نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی زندگی کو بھی خطرے میں ڈالنے کا باعث بنتے ہیں ، لمحہ فکریہ ہے کہ کسی بھی جگہ جلدی پہنچنے کے لئے ’’تیز رفتاری‘‘ دوسروں کے ساتھ اپنے لئے بھی خطرات کا باعث بن سکتی ہے اسی لئے ٹریفک پولیس نے بڑی بڑی شاہراہوں پر نمایاں طور پر ڈرائیونگ کرنے والوں کو انتباہ کرنے کے لئے بورڈ بھی نصب کر رکھے ہیں ۔ اور حالیہ بائیک ایمبولینس سروس اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔۔ ٹریفک رولز لوگوں کی بھلائی کے لئے ہی بنائے جاتے ہیں اور ٹریفک کا عملہ ڈرائیونگ کرنے والوں کو اسی لئے گاہے بگاہے ’’آگاہی مہم‘‘ چلا کر ان کو احساس دلاتا رہتا ہے کہ تیز رفتاری اور ٹریفک رولز کی خلاف ورزی جرم ہے۔ ہم سب بھی اس پر عمل پیرا ہوں تو سنگین حا دثات سے بچا جاسکتا ہے ۔۔