ذرا سوچئے!

قتین زہرہ

میں اپنی امی کے ساتھ بازار گئی،وہ تھوڑی دیر کے لیے مجھے گاڑی میں چھوڑ کر کچھ چیزیں لینے گئیں۔ یہ کوئی خاص بات نہ تھی میری امی مجھے اکثر گاڑی میں چھوڑ کر چلی جاتیں اور میں اپنی کھڑکی سے باہر دیکھنا شروع ہو جاتی یا موبائل پر مگن ہو جاتی۔ آج میری نظر ایک سبزی فروش کی ریڑھی پر پڑی جو کچھ فاصلے پر تھا ، اور وہاں آنے والی ہر آواز میر ے کانوں تک پہنچ رہی تھی۔ اس پھل فروش کی ریڑھی کے قریب ایک آدمی آیا جو بظاہر بہت امیر لگ رہا تھا۔اس نے کہا ،''ارے بھائی یہ سیب کتنے کے دے رہے ہو؟''
''صاحب! یہ سو روپے کلو دے رہا ہوں ''پھل فروش نے جواب دیا۔
''ارے بھائی یہ تو بہت مہنگے ہیں ''آدمی نے کہا
'' یہی قیمت ہے اور ویسے بھی میں آپ کو یہ سیب بہت سستے میں دے رہا ہوں ''پھل والے نے جواب دیا۔''اچھا چلیں آپ مجھے پچاس روپے کلو دے دیں ''اس آدمی نے قیمت گھٹانے کی بات کی۔
یہ تو بہت ہی کم قیمت ہے اور ویسے بھی میرا صبح سے کوئی پھل نہیں بکا'' پھل فروش نے اپنی بدنصیبی بتاتے ہوئے کہا۔''صبح سے نہیں بکے ، تو اب بھی نہیں بکیں گے کیونکہ میں جا رہا ہوں''
''ارے ارے رکیے صاحب میرے گھر میں چھوٹے چھوٹے بچے ہیں آپ ایسا کریں کہ آپ یہ سیب ستر روپے میں لے لیں ''پھل فروش نے اس آدمی کو مناتے ہوے کہا۔''چلو ایسا کریں یہ سیب ستر کی بجائے ساٹھ میں دے دو'' آدمی نے قیمت اور کم کرتے ہوئے کہا۔''اچھا چلیں آپ انہیں ساٹھ میں ہی لے لیں۔ ''پھل فروش نے اداس چہرے کے ساتھ آدمی کو سیب دیتے ہوئے اور پیسے لے کر رخصت کیا۔مےں نے دےکھا کہ تھوڑی دےر بعد وہی آدمی ایک بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹور سے نکلا اس کے ہاتھ میں سو روپے والی جوس کی بوتل تھی۔ جب وہ آدمی پھل فروش کی ریڑھی کے پاس سے گزرا تو پھل فروش نے پوچھا: ''کیوں بھائی کتنے پیسے کم کر کے خریدی ہے؟''۔''ارے پاگل ہو کیا یہ برانڈڈ ہے''آدمی نے کہا۔''کیا بات کرتے ہو صاحب دھوپ میں کھڑے ہونے والے غریب سے چالیس روپے کم کرواتے اوربڑی جگہوں پر بولتے نہےں ۔ یہ کہاں کا انصاف ہے بھائی آپ ہی بتا¶''
یہ سن کر اس آدمی کو اپنے اس رویے پر ندامت ہوئی اور اس نے اسے سو روپے اور دیئے اور وہاں سے چلا گیا۔یہ عمل صرف اس آدمی کا ہی نہیں تھا بلکہ ہم سب کا ہے۔ ہم دھوپ میں کھڑے ہوئے غریب لوگوں سے پیسے کم کروا لیتے ہیں جب کہ امیر آدمیوں اور ان کی بڑی بڑی کمپنیوں سے ایک پیسہ کم کروانے کی بات نہیں کرتے۔ بچپن میں بھی مےں نے اےک بار پھل فروش یا سبزی فروش اور آدمی کے درمیان مکال مکالمہ سنا تھا ۔ ہم سب نے کبھی سوچا ہی نہیں کہ ہم غریب کو اور غریب کیوں بنا رہے ہیں اور امیر کو اور امیر کیونکر بنا رہے ہیں۔ہم ان غریبوں کی جیب کاٹ دیتے ہیں جن کے پاس پہلے ہی کچھ نہیں ہوتا اور امیر کو اور دولت دیتے ہیں جن کے دولت کے پاس خزانے ہی خزانے ہوتے ہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کا المےہ نہےں تو اور کےا ہے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں جب ہم ایک برینڈڈ چیز اصل قیمت میں لے سکتے ہیں تو کیا ایک دھوپ میں کھڑے ہوئے غریب کی نہیں۔۔۔