قدرتی آفات کا معمولات زندگی پر اثر

محمد ناظم الدین

دنیا بھر میں 8 اکتوبر کا دن قدرتی آفات کے حوالے سے لوگوں میں شعور و آگاہی بیدار کرنے کے حوالے سے منایا جاتا ہے تاکہ لوگ قدرتی آفات جو کہ سیلاب زلزلوں و دیگر مصائب کی شکل میں آنے کی صورت میں اس کا مردانہ وار مقابلہ کر سکیں اور جدید تقاضوں کے مطابق حکمت عملیاں اپنا کر زیادہ سے زیادہ جان و مال کو محفوظ کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں دینا بھر میں قدرتی آفات کے حوالے سے معلوماتی پروگرام الیکٹرانک و پرنٹ میڈ یا پرآگاہی کے لئے پیش کئے جاتے ہیں۔ پاکستان بھر میں انٹر نیشنل ڈیزاسٹر ڈے کے حوالے سے ملک خصوصا صوبہ پنجاب میں اس سلسلے میں شعور و آگاہی کے لئے واک، سیمینار، تبصرے اور مباحثے منعقد کئے جاتے ہیں۔ اس بار بھی پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے عوام میں شعور بھر میں تمام حکومتی اداروں کے باہمی تعاون سے واک اور سیمینار کے انعقاد کا اہتمام کیا ہے۔ پی ڈی ایم اے نے اس بار ڈیزاسٹر ڈے کا موٹو'' تیار پاکستان ' ' رکھا ہے تاکہ تیار پاکستان کے حوالے سے اس کے اصل مقاصد عوام میں روشناس ہو سکیں۔ ڈیزاسٹر کے حوالے کو اجاگر کرنے کے لئے 8 اکتوبر کو ملک بھر خصوصا پنجاب بھرکے سکول وکالج اور سرکاری اداروں میں اس بارے آگاہی لیکچرز کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ ہمارا ملک پاکستان دنیا کے ایک ایسے خطے میں واقع ہے جو جغرافیائی طور پرہمالیہ کی بلندی سے بحیرہ عرب کے ساحلوں تک دریاﺅں کو رواں رکھتا ہے ا ور پھر خلیج فارس،بحیرہ عرب اور بحیرہ ہند سے اٹھنے والے بادل اس کی دستار کے بلوں کو مضبوط کرتے ہیں۔ مگر اب ہمالیہ کی سفیر دستار بھی ڈھیلی پڑ رہی ہے تو بحیرہ عرب کی لہریں بھی طوفانی موجوں میں تبدیل ہو رہی ہیںاور ان کے اثرات پاکستان، نیپال،مالدیپ، سری لنکا، افغانستان اور دیگر ممالک اربوں نفوس پر مشتمل آبادیوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ما حولیاتی آلودگی کے باعث ہونے والی موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے زلزلوں و سیلاب کے خطرات بہت بڑہتے جا رہے ہیں۔ دنیا میں پھیلتی ہوئی آبادی کے نتیجہ میںزمین سے درختوں کا وجود تقریبا ختم ہوتا جا رہا ہے جس کی بنا پر قدرت کی طرف سے قائم توازن کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے۔ زمین کے تیزی سے بڑھتے ہوئے درجہ حرار ت کی بنا پر قدیم گلیشئرز کا تیزی سے پگھلاﺅ ہونے سے سطح سمندر میں بلندی ہو نا، نشیبی علاقوں میںپانی کی آمد سے نئی جھیلوں اورآبی گزر گاہوں کا وجود میں آناکسی بھی مستقبل کی خطرناک نشاندہی سے کم نہیں ہے۔ مگر ہم اپنی اس بے حسی پر کیوں نہ روئیں کہ سب کچھ جانتے ہوئے اس کا کوئی سد باب نہ کر پا رہے ہیں۔ ایندھن اور دیگرگیسوں کی حرارت کی بنا پر زمین کے درجہ حرارت میں جو چند سالوں میں اضافہ ہوا وہ انتہائی تشویش کا باعث بناہے۔ اگر ہم اپنے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ پاکستان میںگزشتہ سال2015ءمیں بارشوں نے راولپنڈی اور اٹھارہ ہزاری میںسخت تباہی مچائی جس کے نتیجہ میں18 افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوئے او ر ہزاروںمکانات کو بھی نقصان پہنچا۔ اسی طرح 25 اپریل 2015ءکو7.8 درجے کی شدت کا زلزلہ آیا جس کی وجہ سے ما ﺅنٹ ایورسٹ سر کرنے والی متعدد ٹیمیں برفانی طوفان کا شکار ہوئیں۔ ان میں سے 19افراد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے اوردیگر کو فوری ریسکیو آپریشن کر کے ہیلی کاپٹر کی مدد سے بچا لیا گیا۔ اگر چہ2015ءکے بارے میںموسمیاتی تبدیلیوں کی پیشن گوئی عالمی سطح پر موسم سرما کے آغاز پر ہی کر دی گئی تھی مگر اس سلسلے میںکسی قسم کی کوئی منصوبہ بندی نہ کی گئی۔ 26 اکتوبر کوصوبہ خیبر پختونخواہ سمیت کئی علاقوں میںشدید زلزلہ آیاجس کی شدت پاکستان کے موسمیاتی مرکز نے ریکٹر سکیل پر8.1ریکارڈ کی۔ اس زلزلہ کے جھٹکے لاہور ،کراچی، فیصل آباد، اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت ملک بھر میں محسوس کئے گئے زلزلے کے باعث ہزاروںمکانات ،عمارات اور کارخا نوں میںدراڑیں پڑ گئیںاور ناران ،کاغان میں لینڈ سلائیڈنگ میں تیزی آ گئی۔ 26 اکتوبر کو آنے والے زلزلے میںمجموعی طور پر300 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس زلزلے کا مرکز کوہ ہندو کش تھااور گہرائی212.5کلو میٹرتھی۔ واضع رہے کہ 2005ءکے بعد آنے والے زلزلوں کی شدت میں بتدریج اضافہ ہی ہوتا گیا۔ 24نومبر کو لاہور کے انڈسٹریل زون میں چار منزلہ فیکٹری منہدم ہو نے کی بنیادی وجہ بھی یہی دراڑیں تھیں۔ 21 ویں عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں سابق وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف نے بھی شرکت کی اور دنیا کو آگاہ کیاکہ پاکستان بھی عالمی کاحولیاتی کا شکار ہونے والا ایک بڑا ملک ہے۔ ہمارے ملک کی چاروں طرفین زلزلے کے اعتبار سے اہم فالٹ لائنز سے گزرتی ہیں اور دنیا کا سب سے بڑا مٹی کادلدل،آتش فشاںبھی ضلع لسبیلہ میں واقع ہے۔ بارشیں ہمارے لئے قدرت کاتحفہ ہیںتاہم بعض اوقات زیادہ بارشوں کی وجہ سے ندی نالوں میں طغیانی آ جاتی ہے اور کچے مکانات گر جاتے ہیںاسی طرح سیلاب بھی قدرتی آفات میں سے ایک آفت ہے۔ اس آفت میںپانی کا ایک زور دار بہاﺅیا ریلا جو اپنے ساتھ سب کچھ بہا کر لے جاتا ہے جہاں سے بھی سیلاب کاگزر ہوتا ہے وہاں تباہی یقینی ہوتی ہے۔ سیلاب کا جس ملک کو بھی سامنا کرنا پڑا ہے وہاںہزاروں کی تعداد میں لو گ لقمہ اجل بن گئے۔ کئی افراد بے گھرہو جاتے ہیں اورمالی نقصان کا اندازہ فوری طور پر لگانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ سیلاب معاشی طور پر ملک کو بہت نقصان پہنچا کرپستی کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وسیع پیمانے پر متاثرین میں کئی وبائی بیماریاں بھی پھوٹ پڑتی ہیں۔ ہمارا ملک پاکستان خصوصا©پنجاب جغرافیائی طور پرایسے خطے میں واقع ہے جہاں پرمون سون موسم معمول کی زندگی پر بہت زیادہ اثرانداز ہوتا ہے۔ پاکستان میںقدرتی آفات کی شدتوں اور تعداد میں ماضی کی نسبت بہت زیادہ اضافہ ہوا اور 2015ءمیں جو بنیادی تبدیلی سامنے آئی وہ موسمیاتی تبدیلی کے واضع اثرات ہی تھے۔ جس کے سبب تواتر کے سا تھ پا کستان اور بھارت میں گرمی کی لہریں اٹھیںاس گرمی کے اثرات سے گلگت، بلتستان اور چترال وغیرہ کے علاقوں میں سیلاب اور شدید بارشیںہوئیں۔ واضع رہے کہ پاکستان کے ان علاقوں میںقطبین کے علاوہ د نیا کے سب سے بڑے گلیشیئربھی موجود ہیں۔ جو دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ جہاں تک ملک میں رونما ہونے والی قدرتی آفات میںفوری امدادی کاروائیوںکی بحالی کا تعلق ہے تو صوبہ پنجاب میں بھی پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، پاک فوج اور مقامی انتظامیہ کی طرف سے بھر پور انداز میں امدادی سرگرمیوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا۔ پی ڈی ایم اے ادارہ جدید و سائنسی بنیادوں عمل پیرا ہو کر ہر آنے والی قدرتی آفات کا مقا بلہ کرنے بارے ماہرین کے باہمی مشوروں سے حکمت عملی بنا کر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتا ہے۔ حکومت پنجاب نے کسی بھی قسم کی قدرتی آفات سے برقت نمٹنے اور اقداما ت کے لئے پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کو تشکیل دیا اور اس کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لئے اس کی صلاحیتیںکو جدید انداز میںڈھالا۔ حکومت پنجاب ہر سال پی ڈی ایم اے کو ہر طرح کی قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے اربوں روپے کی خطیر رقم مختص کرتی ہے۔ سیلاب کی ممکنہ تباہ کاریوں سے بچاﺅ کے لئے جامع روڈ میپ تشکیل دئیے جانے کے بعد ہر صوبائی محکمہ حکومتی ہدایت کے مطابق عملی اقدامات شروع کر دیتا ہے۔ چیف سیکرٹری کی نگرانی میں فلڈسے قبل ہر سال 15 جون سے 15 اکتوبر تک محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے میںماسٹر کنٹرول رومز کا قیا م عمل میں آ جاتا ہے۔ جبکہ اضلاع کی سطح پر فلڈ سنٹرز کا قیام ڈی سی اوز کی نگرانی میں کام کا آغاز کر دیتا ہے۔ ان کنٹرول رومز سے عوام اور میڈیا کو دریاﺅں ، ندی ،نالوں اوررود کوہیوں میں پانی کے بہاﺅ بارے قوم کو صورت حال سے 24 گھنٹے با خبر رکھا جاتا ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے آنے والے سیلابوں میںاربوں روپے سے ریسکیو و ریلیف سرگرمیاں سر انجام دی گئیںجن میں کئی میٹرک ٹن وزنی سامان ہزاروںٹرکوں کے ذریعے متاثرین میں تقسیم کیا گیا۔ حکومتی ہدایت پر سیلاب متاثرین کو صاف پینے کے پانی کی فراہمی کے لئے کروڑوں پانی مصفا گولیاں،فلٹریشن پلانٹس بھی فوری طور پر فراہم کئے۔ جبکہ صوبہ بھر کی انتظامیہ کو کروڑوں روپے ا یمر جنسی فنڈز کے لئے فراہم کئے گئے تاکہ مقامی سطح پرریلیف و ریسکیو کی سرگرمیاں انجام دے جا سکیں۔ بہترین حکمت عملی کی بنا پر صوبہ بھر میں12 جدید وئیر ہا ﺅس کی تعمیر عمل میں لائی گئی ہے۔ یہ وئیر ہاﺅسز ان اضلاع میںبنائے گئے ہیں جہاںسیلاب کا ہمیشہ خطرہ رہا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں امدادی سامان متاثرین کو فور ی طور پر مہیا کر دیا جائے ان وئیر ہاﺅسز میں ہر قسم کی اشیاءضروریہ و خورد و نوش کا ذخیرہ وافر مقدار میں رکھا گیا ہے جبکہ لاہور اور مظفر گڑھ کے وئر ہاﺅسز جو کہ 7 ایکڑ رقبہ پر مشتمل ہیں جن میں 7500میٹرک ٹن سامان رکھنے کی گنجائش موجود ہے۔ یہ دونوں وئیر ہاﺅسز جدید انداز میں تعمیر کئے گئے ہیں جہاں پر کھانے پینے کی خشک خوراک اور اشیاءضروریہ کے علاوہ بڑی و چھوٹی کشتیاں و موٹر بوٹس کا ذخیرہ،جدیدپانی نکالنے کی مشینری کے ساتھ ساتھ دیگر امدادی سامان کا وسیع ذخیرہ رکھا جاتا ہے۔ کسی بھی سیلاب کے بعد سروے کے دوران غلط معلومات فراہم کرنے پر این ڈی ایم ایکٹ2010ءکی دفعہ 34 کے تحت دو سال قید یا جرمانہ کی سز ا رکھی گئی ہے تاکہ کوئی بھی غیر متعلقہ شخص مفاد حاصل نہ کر سکے۔ ضلعی سطح پر ڈیزاسٹر منیجمنٹ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں تاکہ مقامی سطح پر سیلاب کے دوران دریاﺅں میںپانی کے اتار چڑھاﺅ پر نظر رکھتے ہوئے حکمت عملی طے کی جا سکے۔ سیلاب کے دنوں میں تمام دریاﺅں میں پانی کے بہاﺅ کی قبل از وقت آمد پر خلائی رصد گاہ سپارکے سٹیلائیٹ کے ذریعے مدد حا صل کی گئی جس کے خاطر خواہ نتائج نکلے اور تیزی کے ساتھ سیلابی پانی سے ارد گرد کے ماحول کو بچانے بارے حکمت عملی تیار کیا گیا۔ اس سلسلے میں ایک سافٹ وئیر تیار کیا گیا جس کی مدد سے سیٹلائٹ سے حاصل تصاویر کے ذریعے پانی کی آمد اور اس کے اثرات جن علاقوں پر ہو سکتے ہیںکے بارے میںقبل از وقت لائحہ عمل تیار کر کے انتظامیہ کو حکمت عملی طے کرنے بارے ہدایت دی گئی جس پر عمل پیرا ہو کر جان و مال کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ پی ڈی ایم اے نے ورلڈ بنک کے تعاون سے 4سالہ تعلیمی پروگرام کا آغاز کیا۔ جس کے تحت انٹرنیشنل لیول پر ڈیزاسٹر کے حوالے سے ابتدائی اور جدید تعلیم و ٹریننگ سمیت دیگر پروگرام شامل تھے۔ اسی طرح ایشین ڈویلپمنٹ بنک کے تعاون سے 3سالہ پروگرام شروع کیا۔ جس کے تحت زلزلے کے حوالے سے ہونے والے اثرات، بچاﺅ اور حکمت عملیاں بھی طے کی گئیں۔ ماضی میں پی ڈی ایم اے نے تاریخی خدمات انجام دیں جس سے اس محکمے کا امیج بلند ہوا۔ حکومت پنجاب کی ہدایت پر سیلاب متاثرین کو کسی قسم کی سہولت نہ ملنے، سندر حادثہ ہو یا منی© ©حادثہ ان میں زخمی اور ہلاک ہونے والوں کے وارثین کو فوری اپ ڈیٹ معلومات کے لئے ہیلپ لائن 1129 کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جہاں پرpitbکا تربیت یافتہ عملہ دئے گئے ٹاسک کے مطابق ہر قسم کی متعلقہ اطلاع ڈیش بورڈ پر آن لائن کر دیتا ہے۔ گزشتہ سا ل صوبے کے مختلف اضلاع میں مون سون سے قبل اچانک شدید بارشوں کے نتیجہ میںمرنے والوں کے لواحقین کو پانچ پانچ لاکھ روپے کی مالی امداد دی گئی۔ اسی طرح گزشتہ سال ہولناک زلزلہ کے نتیجہ میں پنجاب میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین میں بھی پانچ پانچ لاکھ روپے کی مالی امداددی گئی۔ صوبے کے دریاﺅں کے حفاظتی بندوں کے پاس ہر قسم کی تجا وزات کے خاتمہ کے لئے صوبے کے تمام کمشنرز کی سربراہی میں کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ ڈی سی او،ڈی پی او اور چیف انجینئرز اس کمیٹی کے ممبرز ہیں۔ جو اپنی نگرانی میں تجاوزات کا خاتمہ عمل میں لاتے ہیں۔ ہر ڈویژن کا کمشنر ا پنے اپنے ڈویژن میں ہونے والی پراگرس پر رپورٹ فلڈ کیبنٹ کمیٹی کو پیش کرتا ہے۔ پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبے میں ڈینگی وبا کا مقا بلہ کرنے اور اس کے خاتمہ بارے جا مع حکمت عملی تیار کی جس پر فوری طور پرلائحہ عمل تیار کیا گیا۔ اس پر عمل ہو تے ہی ڈینگی پر کسی حد تک قابو پا نے بارے کامیابی حاصل ہوئی۔ یورپی یونین، ورلڈ بنک، ایشین ڈویلپمنٹ بنک کے مشن نے اپنے اپنے دوروں کے دوران پی ڈی ایم اے کو برصغیر کا جدید انداز کا ادارہ قرار دیا۔ اس ادارے میں صوبہ میں آئی کسی بھی آفت کا مقابلہ کرنے کی ہر قسم کی صلاحیت موجو دہے۔ ہر سال مون سون موسم شروع ہونے سے قبل فلڈ سے نمٹنے کے لئے روڈ میپ دنیا بھر میں جس تیزی سے درختوں کا کٹاﺅ عمل میں لایا جا رہا ہے کوئی بعید نہیں کہ پھول، پودے اور درخت ماضی کا حصہ نہ بن جائیں۔


قدرتی آفات کا معمولات زندگی پر اثر
محمد ناظم الدین

دنیا بھر میں 8 اکتوبر کا دن قدرتی آفات کے حوالے سے لوگوں میں شعور و آگاہی بیدار کرنے کے حوالے سے منایا جاتا ہے تاکہ لوگ قدرتی آفات جو کہ سیلاب زلزلوں و دیگر مصائب کی شکل میں آنے کی صورت میں اس کا مردانہ وار مقابلہ کر سکیں اور جدید تقاضوں کے مطابق حکمت عملیاں اپنا کر زیادہ سے زیادہ جان و مال کو محفوظ کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں دینا بھر میں قدرتی آفات کے حوالے سے معلوماتی پروگرام الیکٹرانک و پرنٹ میڈ یا پرآگاہی کے لئے پیش کئے جاتے ہیں۔ پاکستان بھر میں انٹر نیشنل ڈیزاسٹر ڈے کے حوالے سے ملک خصوصا صوبہ پنجاب میں اس سلسلے میں شعور و آگاہی کے لئے واک، سیمینار، تبصرے اور مباحثے منعقد کئے جاتے ہیں۔ اس بار بھی پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے عوام میں شعور بھر میں تمام حکومتی اداروں کے باہمی تعاون سے واک اور سیمینار کے انعقاد کا اہتمام کیا ہے۔ پی ڈی ایم اے نے اس بار ڈیزاسٹر ڈے کا موٹو'' تیار پاکستان ' ' رکھا ہے تاکہ تیار پاکستان کے حوالے سے اس کے اصل مقاصد عوام میں روشناس ہو سکیں۔ ڈیزاسٹر کے حوالے کو اجاگر کرنے کے لئے 8 اکتوبر کو ملک بھر خصوصا پنجاب بھرکے سکول وکالج اور سرکاری اداروں میں اس بارے آگاہی لیکچرز کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ ہمارا ملک پاکستان دنیا کے ایک ایسے خطے میں واقع ہے جو جغرافیائی طور پرہمالیہ کی بلندی سے بحیرہ عرب کے ساحلوں تک دریاﺅں کو رواں رکھتا ہے ا ور پھر خلیج فارس،بحیرہ عرب اور بحیرہ ہند سے اٹھنے والے بادل اس کی دستار کے بلوں کو مضبوط کرتے ہیں۔ مگر اب ہمالیہ کی سفیر دستار بھی ڈھیلی پڑ رہی ہے تو بحیرہ عرب کی لہریں بھی طوفانی موجوں میں تبدیل ہو رہی ہیںاور ان کے اثرات پاکستان، نیپال،مالدیپ، سری لنکا، افغانستان اور دیگر ممالک اربوں نفوس پر مشتمل آبادیوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ما حولیاتی آلودگی کے باعث ہونے والی موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے زلزلوں و سیلاب کے خطرات بہت بڑہتے جا رہے ہیں۔ دنیا میں پھیلتی ہوئی آبادی کے نتیجہ میںزمین سے درختوں کا وجود تقریبا ختم ہوتا جا رہا ہے جس کی بنا پر قدرت کی طرف سے قائم توازن کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے۔ زمین کے تیزی سے بڑھتے ہوئے درجہ حرار ت کی بنا پر قدیم گلیشئرز کا تیزی سے پگھلاﺅ ہونے سے سطح سمندر میں بلندی ہو نا، نشیبی علاقوں میںپانی کی آمد سے نئی جھیلوں اورآبی گزر گاہوں کا وجود میں آناکسی بھی مستقبل کی خطرناک نشاندہی سے کم نہیں ہے۔ مگر ہم اپنی اس بے حسی پر کیوں نہ روئیں کہ سب کچھ جانتے ہوئے اس کا کوئی سد باب نہ کر پا رہے ہیں۔ ایندھن اور دیگرگیسوں کی حرارت کی بنا پر زمین کے درجہ حرارت میں جو چند سالوں میں اضافہ ہوا وہ انتہائی تشویش کا باعث بناہے۔ اگر ہم اپنے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ پاکستان میںگزشتہ سال2015ءمیں بارشوں نے راولپنڈی اور اٹھارہ ہزاری میںسخت تباہی مچائی جس کے نتیجہ میں18 افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوئے او ر ہزاروںمکانات کو بھی نقصان پہنچا۔ اسی طرح 25 اپریل 2015ءکو7.8 درجے کی شدت کا زلزلہ آیا جس کی وجہ سے ما ﺅنٹ ایورسٹ سر کرنے والی متعدد ٹیمیں برفانی طوفان کا شکار ہوئیں۔ ان میں سے 19افراد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے اوردیگر کو فوری ریسکیو آپریشن کر کے ہیلی کاپٹر کی مدد سے بچا لیا گیا۔ اگر چہ2015ءکے بارے میںموسمیاتی تبدیلیوں کی پیشن گوئی عالمی سطح پر موسم سرما کے آغاز پر ہی کر دی گئی تھی مگر اس سلسلے میںکسی قسم کی کوئی منصوبہ بندی نہ کی گئی۔ 26 اکتوبر کوصوبہ خیبر پختونخواہ سمیت کئی علاقوں میںشدید زلزلہ آیاجس کی شدت پاکستان کے موسمیاتی مرکز نے ریکٹر سکیل پر8.1ریکارڈ کی۔ اس زلزلہ کے جھٹکے لاہور ،کراچی، فیصل آباد، اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت ملک بھر میں محسوس کئے گئے زلزلے کے باعث ہزاروںمکانات ،عمارات اور کارخا نوں میںدراڑیں پڑ گئیںاور ناران ،کاغان میں لینڈ سلائیڈنگ میں تیزی آ گئی۔ 26 اکتوبر کو آنے والے زلزلے میںمجموعی طور پر300 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس زلزلے کا مرکز کوہ ہندو کش تھااور گہرائی212.5کلو میٹرتھی۔ واضع رہے کہ 2005ءکے بعد آنے والے زلزلوں کی شدت میں بتدریج اضافہ ہی ہوتا گیا۔ 24نومبر کو لاہور کے انڈسٹریل زون میں چار منزلہ فیکٹری منہدم ہو نے کی بنیادی وجہ بھی یہی دراڑیں تھیں۔ 21 ویں عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں سابق وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف نے بھی شرکت کی اور دنیا کو آگاہ کیاکہ پاکستان بھی عالمی کاحولیاتی کا شکار ہونے والا ایک بڑا ملک ہے۔ ہمارے ملک کی چاروں طرفین زلزلے کے اعتبار سے اہم فالٹ لائنز سے گزرتی ہیں اور دنیا کا سب سے بڑا مٹی کادلدل،آتش فشاںبھی ضلع لسبیلہ میں واقع ہے۔ بارشیں ہمارے لئے قدرت کاتحفہ ہیںتاہم بعض اوقات زیادہ بارشوں کی وجہ سے ندی نالوں میں طغیانی آ جاتی ہے اور کچے مکانات گر جاتے ہیںاسی طرح سیلاب بھی قدرتی آفات میں سے ایک آفت ہے۔ اس آفت میںپانی کا ایک زور دار بہاﺅیا ریلا جو اپنے ساتھ سب کچھ بہا کر لے جاتا ہے جہاں سے بھی سیلاب کاگزر ہوتا ہے وہاں تباہی یقینی ہوتی ہے۔ سیلاب کا جس ملک کو بھی سامنا کرنا پڑا ہے وہاںہزاروں کی تعداد میں لو گ لقمہ اجل بن گئے۔ کئی افراد بے گھرہو جاتے ہیں اورمالی نقصان کا اندازہ فوری طور پر لگانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ سیلاب معاشی طور پر ملک کو بہت نقصان پہنچا کرپستی کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وسیع پیمانے پر متاثرین میں کئی وبائی بیماریاں بھی پھوٹ پڑتی ہیں۔ ہمارا ملک پاکستان خصوصا©پنجاب جغرافیائی طور پرایسے خطے میں واقع ہے جہاں پرمون سون موسم معمول کی زندگی پر بہت زیادہ اثرانداز ہوتا ہے۔ پاکستان میںقدرتی آفات کی شدتوں اور تعداد میں ماضی کی نسبت بہت زیادہ اضافہ ہوا اور 2015ءمیں جو بنیادی تبدیلی سامنے آئی وہ موسمیاتی تبدیلی کے واضع اثرات ہی تھے۔ جس کے سبب تواتر کے سا تھ پا کستان اور بھارت میں گرمی کی لہریں اٹھیںاس گرمی کے اثرات سے گلگت، بلتستان اور چترال وغیرہ کے علاقوں میں سیلاب اور شدید بارشیںہوئیں۔ واضع رہے کہ پاکستان کے ان علاقوں میںقطبین کے علاوہ د نیا کے سب سے بڑے گلیشیئربھی موجود ہیں۔ جو دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ جہاں تک ملک میں رونما ہونے والی قدرتی آفات میںفوری امدادی کاروائیوںکی بحالی کا تعلق ہے تو صوبہ پنجاب میں بھی پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، پاک فوج اور مقامی انتظامیہ کی طرف سے بھر پور انداز میں امدادی سرگرمیوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا۔ پی ڈی ایم اے ادارہ جدید و سائنسی بنیادوں عمل پیرا ہو کر ہر آنے والی قدرتی آفات کا مقا بلہ کرنے بارے ماہرین کے باہمی مشوروں سے حکمت عملی بنا کر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتا ہے۔ حکومت پنجاب نے کسی بھی قسم کی قدرتی آفات سے برقت نمٹنے اور اقداما ت کے لئے پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کو تشکیل دیا اور اس کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لئے اس کی صلاحیتیںکو جدید انداز میںڈھالا۔ حکومت پنجاب ہر سال پی ڈی ایم اے کو ہر طرح کی قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے اربوں روپے کی خطیر رقم مختص کرتی ہے۔ سیلاب کی ممکنہ تباہ کاریوں سے بچاﺅ کے لئے جامع روڈ میپ تشکیل دئیے جانے کے بعد ہر صوبائی محکمہ حکومتی ہدایت کے مطابق عملی اقدامات شروع کر دیتا ہے۔ چیف سیکرٹری کی نگرانی میں فلڈسے قبل ہر سال 15 جون سے 15 اکتوبر تک محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے میںماسٹر کنٹرول رومز کا قیا م عمل میں آ جاتا ہے۔ جبکہ اضلاع کی سطح پر فلڈ سنٹرز کا قیام ڈی سی اوز کی نگرانی میں کام کا آغاز کر دیتا ہے۔ ان کنٹرول رومز سے عوام اور میڈیا کو دریاﺅں ، ندی ،نالوں اوررود کوہیوں میں پانی کے بہاﺅ بارے قوم کو صورت حال سے 24 گھنٹے با خبر رکھا جاتا ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے آنے والے سیلابوں میںاربوں روپے سے ریسکیو و ریلیف سرگرمیاں سر انجام دی گئیںجن میں کئی میٹرک ٹن وزنی سامان ہزاروںٹرکوں کے ذریعے متاثرین میں تقسیم کیا گیا۔ حکومتی ہدایت پر سیلاب متاثرین کو صاف پینے کے پانی کی فراہمی کے لئے کروڑوں پانی مصفا گولیاں،فلٹریشن پلانٹس بھی فوری طور پر فراہم کئے۔ جبکہ صوبہ بھر کی انتظامیہ کو کروڑوں روپے ا یمر جنسی فنڈز کے لئے فراہم کئے گئے تاکہ مقامی سطح پرریلیف و ریسکیو کی سرگرمیاں انجام دے جا سکیں۔ بہترین حکمت عملی کی بنا پر صوبہ بھر میں12 جدید وئیر ہا ﺅس کی تعمیر عمل میں لائی گئی ہے۔ یہ وئیر ہاﺅسز ان اضلاع میںبنائے گئے ہیں جہاںسیلاب کا ہمیشہ خطرہ رہا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں امدادی سامان متاثرین کو فور ی طور پر مہیا کر دیا جائے ان وئیر ہاﺅسز میں ہر قسم کی اشیاءضروریہ و خورد و نوش کا ذخیرہ وافر مقدار میں رکھا گیا ہے جبکہ لاہور اور مظفر گڑھ کے وئر ہاﺅسز جو کہ 7 ایکڑ رقبہ پر مشتمل ہیں جن میں 7500میٹرک ٹن سامان رکھنے کی گنجائش موجود ہے۔ یہ دونوں وئیر ہاﺅسز جدید انداز میں تعمیر کئے گئے ہیں جہاں پر کھانے پینے کی خشک خوراک اور اشیاءضروریہ کے علاوہ بڑی و چھوٹی کشتیاں و موٹر بوٹس کا ذخیرہ،جدیدپانی نکالنے کی مشینری کے ساتھ ساتھ دیگر امدادی سامان کا وسیع ذخیرہ رکھا جاتا ہے۔ کسی بھی سیلاب کے بعد سروے کے دوران غلط معلومات فراہم کرنے پر این ڈی ایم ایکٹ2010ءکی دفعہ 34 کے تحت دو سال قید یا جرمانہ کی سز ا رکھی گئی ہے تاکہ کوئی بھی غیر متعلقہ شخص مفاد حاصل نہ کر سکے۔ ضلعی سطح پر ڈیزاسٹر منیجمنٹ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں تاکہ مقامی سطح پر سیلاب کے دوران دریاﺅں میںپانی کے اتار چڑھاﺅ پر نظر رکھتے ہوئے حکمت عملی طے کی جا سکے۔ سیلاب کے دنوں میں تمام دریاﺅں میں پانی کے بہاﺅ کی قبل از وقت آمد پر خلائی رصد گاہ سپارکے سٹیلائیٹ کے ذریعے مدد حا صل کی گئی جس کے خاطر خواہ نتائج نکلے اور تیزی کے ساتھ سیلابی پانی سے ارد گرد کے ماحول کو بچانے بارے حکمت عملی تیار کیا گیا۔ اس سلسلے میں ایک سافٹ وئیر تیار کیا گیا جس کی مدد سے سیٹلائٹ سے حاصل تصاویر کے ذریعے پانی کی آمد اور اس کے اثرات جن علاقوں پر ہو سکتے ہیںکے بارے میںقبل از وقت لائحہ عمل تیار کر کے انتظامیہ کو حکمت عملی طے کرنے بارے ہدایت دی گئی جس پر عمل پیرا ہو کر جان و مال کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ پی ڈی ایم اے نے ورلڈ بنک کے تعاون سے 4سالہ تعلیمی پروگرام کا آغاز کیا۔ جس کے تحت انٹرنیشنل لیول پر ڈیزاسٹر کے حوالے سے ابتدائی اور جدید تعلیم و ٹریننگ سمیت دیگر پروگرام شامل تھے۔ اسی طرح ایشین ڈویلپمنٹ بنک کے تعاون سے 3سالہ پروگرام شروع کیا۔ جس کے تحت زلزلے کے حوالے سے ہونے والے اثرات، بچاﺅ اور حکمت عملیاں بھی طے کی گئیں۔ ماضی میں پی ڈی ایم اے نے تاریخی خدمات انجام دیں جس سے اس محکمے کا امیج بلند ہوا۔ حکومت پنجاب کی ہدایت پر سیلاب متاثرین کو کسی قسم کی سہولت نہ ملنے، سندر حادثہ ہو یا منی© ©حادثہ ان میں زخمی اور ہلاک ہونے والوں کے وارثین کو فوری اپ ڈیٹ معلومات کے لئے ہیلپ لائن 1129 کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جہاں پرpitbکا تربیت یافتہ عملہ دئے گئے ٹاسک کے مطابق ہر قسم کی متعلقہ اطلاع ڈیش بورڈ پر آن لائن کر دیتا ہے۔ گزشتہ سا ل صوبے کے مختلف اضلاع میں مون سون سے قبل اچانک شدید بارشوں کے نتیجہ میںمرنے والوں کے لواحقین کو پانچ پانچ لاکھ روپے کی مالی امداد دی گئی۔ اسی طرح گزشتہ سال ہولناک زلزلہ کے نتیجہ میں پنجاب میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین میں بھی پانچ پانچ لاکھ روپے کی مالی امداددی گئی۔ صوبے کے دریاﺅں کے حفاظتی بندوں کے پاس ہر قسم کی تجا وزات کے خاتمہ کے لئے صوبے کے تمام کمشنرز کی سربراہی میں کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ ڈی سی او،ڈی پی او اور چیف انجینئرز اس کمیٹی کے ممبرز ہیں۔ جو اپنی نگرانی میں تجاوزات کا خاتمہ عمل میں لاتے ہیں۔ ہر ڈویژن کا کمشنر ا پنے اپنے ڈویژن میں ہونے والی پراگرس پر رپورٹ فلڈ کیبنٹ کمیٹی کو پیش کرتا ہے۔ پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبے میں ڈینگی وبا کا مقا بلہ کرنے اور اس کے خاتمہ بارے جا مع حکمت عملی تیار کی جس پر فوری طور پرلائحہ عمل تیار کیا گیا۔ اس پر عمل ہو تے ہی ڈینگی پر کسی حد تک قابو پا نے بارے کامیابی حاصل ہوئی۔ یورپی یونین، ورلڈ بنک، ایشین ڈویلپمنٹ بنک کے مشن نے اپنے اپنے دوروں کے دوران پی ڈی ایم اے کو برصغیر کا جدید انداز کا ادارہ قرار دیا۔ اس ادارے میں صوبہ میں آئی کسی بھی آفت کا مقابلہ کرنے کی ہر قسم کی صلاحیت موجو دہے۔ ہر سال مون سون موسم شروع ہونے سے قبل فلڈ سے نمٹنے کے لئے روڈ میپ دنیا بھر میں جس تیزی سے درختوں کا کٹاﺅ عمل میں لایا جا رہا ہے کوئی بعید نہیں کہ پھول، پودے اور درخت ماضی کا حصہ نہ بن جائیں۔