عوامی مسائل اور حکومتی و عدے

ڈاکٹر سید نعیم حیدر نقوی
اسلامی جموریہ پاکستان عوامی مسائل اور حکومتی نعرے اسلام ہمیں انسانی حقوق اور بنیادی مسائل حل کیے جانے کا درس دیتا ہے حقوق اللہ تو معاف ہو جائےں گے حقوق العباد معاف نہیں ہو سکتے آج کے دورے حاضر میں مظلوم عوام کے بنیادی مسائل زندہ رہنے کیلئے ضروریات زندگی بجلی گیس پینے کا صاف پانی روزگار روٹی کپڑامکان صحت و تعلیم کسی بھی ترقی یا فتہ ممالک کا دارو مدار ملک کی حکمران جما عت پر عائد ہوتا ہے وہ اپنی عوام کو مسائل جیسے خطرات سے دو چار عوام کی مشکلات کو حل کرے اور ضروریات زندگی کی تمام تر مشکلات دور کرنے میں حکومتی مشنری کو بر وقت استعمال کرتے ہوئے مظلوم عوام کے مسائل حل کریں ہر آنے والی حکمران جماعت عوامی مسائل حل کرنے کے سیاسی دعوے اور وعدے عوام سے کرتی ہے مگر وعدے وفا نہیں کرتی پاکستانی عوام کے مسائل پیدا کرنے کی زمہ داری حکمران جماعتوں پر عائد ہوتی ہے آج تک نہ ہی سول حکمرانوں نے اور نہ ہی فوجی حکمرانوںنے عوامی مسائل حل کرنے کی کوشش کی ہے جسکی بنا پر عوامی بنیادی مسائل میں دن بدن اضافہ چلا آ رہا ہے عوامی مسائل کو جنم دینے والی حکمرانوں کی وجہ کرپشن اور سیاسی اختلافات اور اختیارات و ا قتدار کی جنگ کی وجہ سے عوامی مسائل سُست روی کا شکار چلے آرہے ہیں حکمران واپوزیشن جماعتیں خواب غفلت سے بیدار ہونے کو تیار نہیں ،جس کی وجہ سے عوام مشکلات کا شکار ہےں ۔ آزادی کے بعد سے لے کر آج تک کسی بھی منتخب حکومت نے عوامی بنیادی مسائل حل کرنے کو اپنی اولین ترجہات کی بنیاد پر حل کر نے کو اہمیت نہیں دی، حکمران جماعتوں نے عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے کے لیے ادارے بنائے جانے کے عملی اقدامات نہ کئے جارہے ہےں ۔منہ جمع زبانی خرچ پر اتفاق کیا جارہا ہے یہ حکمران اپوزیشن کرپٹ مافیا اپنے اثاثہ جات بنانے اور ایک دوسرے کی پگڑیاں اُچھالنے اور الزمات لگانے میںمصروف عمل ہیں جسکی وجہ سے عوامی مسائل جوں کے توں چلے آرہے ہیں ایک دوسرے پر عدالتی مقدمات بنائے جانے میں مصروف عمل ہو کر عوام اور حکومت کا وقت ضائع کررہے ہیں یہ محب وطن اپوزیشن پارٹیاں پاکستانی عوام کیلئے ایک بڑا خطرہ ہیں جن کے دل و دماغ بیرونی اشاروںکی طرف ہوں وہ حکمران عوام کے کبھی خیر خواہ ہوسکتے ہےں ؟اورلمحہ فکرےہ ہے کہ پاکستانی یہ اپو زیشن پارٹیاں عوام کے بنیادی مسائل حکومت وقت کو نہیں کرنے دے رہیںاور ترقی کی راہ میں روڑے اٹکانے میں مصروف عمل ہوتی ہیں جبکہ حکومت وقت ملکی مسائل حل کرنے کی کوششوں مےں مگن ہوتی ہے ،موجودہ قیادت نے اپنے دور اقتدار میں کسی حد تک ملک کی ترقی میں اہم کردارادا کرتے ہوئے عوام کے بنیادی مسائل اور ملکی ترقی کے میگا پروجیکٹ مکمل کرنے میں کوشاں ہے۔ اور کئی جماعتےں ایک دوسرے کے خلاف باتےں کر رہی ہےں ۔ تاکہ موجودہ حکومت ترقیاتی کام نہ کرا سکے مو جودہ حکمران جماعت کے نا اہل سابقہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کرپشن کیس میں نا اہل ہو چکے ہیں جس پر ان کو اور ان کے خاندان کو نیب عدالتوں کا سامنا ہے جبکہ سابق حکمرانوں نے بھی ملکی دولت کو لوٹا اور اثاثہ جات بنائے ۔ ملکی دولت بےرونی ممالک سے واپس آجائے تو ملک سے بیروز گاری اورمہنگائی کا خا تمہ ہو سکتا ہے جس سے غربت کا بھی خاتمہ ہوسکے گا ملک قرضوں مےں جکڑا ہواہے ا جس کیوجہ سے مہنگائی بھی بڑھ رہی ہے جبکہ ٹیکسوں کی بھر مار ہے مرنے والے پر ٹیکس اور جینے والے پر بھی ٹیکس موجودہ حکمرانوں نے اپنے دور حکومت میں کوئی معیاری ہسپتال نہیں بنایا ، حکمران اور اپوزیشن اپنا اور اپنے عزیز و اقارب کا علاج یورپ کے مہنگے ترین ہسپتالوں میں حکومتی اخراجات پر کرواتے ہیں اور ان کے بچے تعلیم بھی یورپ کے مہنگے ترین سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں میں دلواتے ہیں۔ افسوس یہ حکمران اپنے مفادات کی خاطر اقتدار کی خاطر مظلوم عوام کے بنیادی حقوق بھول جاتے ہیں ۔ جبکہ مملکت پاکستان اسلام کے نام پر قربانیاں دیکر حاصل کیا گیا تھا ۔ اس کے لئے اہم اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں عدل وانصاف قائم ہو سکے اسی میں پاکستان کی بقاءہے