بامقصد زندگی اور بہترین کام

مثل مشہور ہے کہ خالی اور بے مقصد دماغ شیطان کا گھر ہوتا ہے۔ بے مقصد زندگی گزارنے والے ہمیشہ شکائیات اور احتجاج کو اپنا وتیرہ بناتے ہیں اور محنت سے بھرپور زندگی گزارنے والے لوگ ہمیشہ ذمہ داری سے کام لیتے ہیں۔ بامقصد انسان کی بنیادی خوبی یہ ہے کہ وہ کائنات کی ہر چیز پر غور کرتا ہے وہ جانتا ہے کہ راستے کی رکاوٹوں اور بدکردار لوگوں کو دنیا سے ختم نہیں کیا جا سکتا بلکل ایسے ہی جیسے درختوں سے کانٹے دار جھاڑیوں کو صاف نہیں کیا جا سکتا ۔ ایسے حالات میں ضروری ہوتا ہے کہ انسان ٹکراﺅ اورالجھاﺅ کی بجائے اعراض کو زندگی کا اصول بنائے اس سے زندگی کا راستہ اور سفر آسان ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ جوکہ کامیابی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسے افراد کی کمی نہیں جو بامقصد زندگی گزار رہے تھے مگر کسی بد کردار انسان کے غلط عمل یا روئیے کی وجہ سے اپنی راہ سے دور ہوگئے ہیں اور زندگی کے نشیب و فراز میں کہیں گم ہوگئے ہیں۔ اب تو یوں لگتا ہے کہ یہ کبھی دنیا میں تھے ہی نہیں ان کا وجود کبھی عمل میں ہی نہیں آیا تھا۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل کو عین مقصد کے مطابق بنائیں اور راستے کی فطری روکاوٹوں سے بھی آگاہ رہیں بے شک مصیبت انسان کا ہر موڑ پر انتظار کر رہی ہوتی ہے لیکن اس سے ڈر کر راستے سے بھٹکنے کی بجائے اس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔
(عائشہ نوید لاہور کالج فار وومین یونیورسٹی)