انٹرنیشنل قرات کانفرنس

جاوید اختر چوہدری

آستانہ عالیہ عرفانیہ چشتیہ سندر شریف، لاہور میں گزشتہ دنوں انٹرنیشنل قرأت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس میں سید بلال چشتی، سجادہ نشین درگاہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ، دیوان احمد مسعود چشتی سجادہ نشین پاکپتن شریف، خواجہ نصر المحمود، پیر رشید احمد، پیر معین الحق، پیر معین الدین کوریجہ اور دیگر مشائخ نے شرکت کی۔ صاحبزادہ سید اخیار حبیب عرفانی نے مہمانوں کا استقبال کیا۔
کانفرنس میں پاکستان سے قاری سید صداقت علی ، قاری محمد عثمان الازہری ، قاری ظفر سیالوی ، مصر سے قاری الشیخ مہدی نجاتی طہ اسماعیل ، ایران سے قاری الشیخ گندم نژاد طوسی نے قرأت کے علاوہ حضرت سید محمد وجیہ السیما عرفانی ؒ کا فارسی ، عربی اور اردو نعتیہ کلام بھی پیش کیا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سید محمد حبیب عرفانی نے کہا انٹرنیشنل قرأت کانفرنس اللہ تعالیٰ کی نازل کر دہ کتاب قرآن مجید کی عظمت کا اعلان ہے، وہیں رسول اکرمؐ کی کائنات میں آمد اور آپ ؐ سے محبت تاقیامت مسلمانوں کے ایمان کی بنیاد ہے۔ اقتدا ر کا نشہ ہمارے حکمرانوں کے اندر اس طرح سرائیت کر چکا ہے کہ وہ اپنا اقتدار بچانے کے لیے آئین و قانون کو بھی اپنے تابع کرنے سے نہیں ہچکچاتے، اس نشے نے موجودہ حکمرانوں کو اس حد تک اندھا کر دیا ہے کہ وہ ختم نبوت جیسی شق کو بھی روئی کے گالوں کی طرح ہوامیں اُڑا رہے ہیں۔
اس کا عملی نمونہ ہمارے سامنے اس وقت آیا جب 2 اکتوبر 2017؁ء کو ہماری پارلیمنٹ میںمشرف دور میں این آر او کے اجراء کی شہرت رکھنے والے وزیر ِقانون نے انتخابی اصطلاحات سے متعلق ایک ترمیم شدہ بل پیش کیا جس میں سیاسی ترمیم کی آڑ میں ناموس رسالت کو پامال کرتے ہو ئے عقیدہ ختم نبوت کی شقوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔
اس ساز ش کا مقصد صرف اور صرف قادیانیوں کو فائدہ پہنچانا ہے، اس قرارداد کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اب اگر کو ئی مرزائی بھی ختم نبوت کا جھوٹا اقرار کر کے اسمبلی میں پہنچ گیا اور بعدمیں پتا چلا کہ یہ مرزائی ہے تو نئی ترمیم کی وجہ سے صرف جھوٹ بولنے پر وہ نااہل قرار نہیں پائے گا۔اب یہ بات روزِ روشن کی طرح عیا ں ہو چکی ہے کہ موجود ہ حکومت آرٹیکل 62/63کی آڑ میں ناموس رسالت اور توہین رسالتؐ کے بارے میں خطرناک عزائم رکھتی ہے۔
موجود ہ حکومت نے سیاست کی آڑ میں جو توہین رسالت کی سازش کی ہے جس کی اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا اور اس گستاخی پر سخت سزا کی تلقین کی گئی ہے۔ حکمرانوں نے اقتدار کے نشے میں ختم نبوت کی شق تبدیل کرنے کی سازش کی جو کسی صورت میں قبول نہیں۔ اس سازش کا مقصد صرف قادیانیوں کو فائدہ پہنچانا ہے ناموس رسالت کی خاطر ہم کٹ مریں گے لیکن اس پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ توہین رسالت کے مرتکب وفاقی وزراء فارغ کئے جائیں۔
کانفرنس کے اختتام پر اس میں شریک مشائخ اور ہزاروں شرکاء نے متفقہ قرارداد میں مطالبہ کیا کہ توہین رسالت میں ملوث وفاقی وزراء کی قومی اسمبلی کی رکنیت ختم کی جائے اور دیگر حکومتی عہدیداروں سمیت ان کے خلاف مقدمہ درج کر کے سخت سزا دی جائے۔ بلوچستان میںدرگاہ فتح پور جھل مگسی میں ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔ درگاہوں کی سیکورٹی کا خصوصی انتظام کیا جائے۔
قرارد دار میں تعلیمی نصاب میں تبدیلی کی خبروں کی بھی شدید مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ آج کے تمام مطالبات فوری تسلیم کئے جائیں ورنہ قوم کے پاس احتجاج کا راستہ موجود ہے۔