کی محمد سے وفا تو نے ہم تیرے ہیں

محمد ریاض اختر
مسلم لیگ ”ن“ کے سربراہ میاں محمد نوازشریف کی ہدایت پر سینیٹر راجہ ظفر الحق کی قیادت میں قائم بننے والی کمیٹی ان وجوہ اور ان عناصر کو تلاش کرے گی جنہوں نے الیکشن اصلاحات 2017ءبل کی آڑ میں عقیدہ ختم نبوت کی بابت تصدیق کی جگہ اقرار کے لفظ شامل کرالئے۔ بروقت نشاندہی ہوئی ‘ عوامی ودینی حلقوں کے دباو پر حکومت بیدار ہوئی اور پانچ اکتوبرکو قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں پرانا حلف نامہ بحالی کا مرحلہ بھی خوش اسلوبی سے طے ہوگیا ۔راجہ ظفر الحق کی قیادت میں کمیٹی (وزیر داخلہ چوہدری احسن اقبال‘ سینیٹر مشاہد اللہ ) کے ابتدائی اجلاس ہو چکے ہیں امید ہے حقائق جلد قوم کے سامنے لائے جائیں گے۔ عقیدہ ختم نبوت اورتحفظ ناموس رسالت مآب پر مسلمانان عالم یک جان ہیں۔ مولانا ظفر علی خان نے خوب ترجمانی کی
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ بطحہ کی حرمت پر
خدا شاہد ہے میرا ایماں کامل ہو نہیں سکتا
عقیدہ ختم نبوت ہمارے ایمان کا ایسا لازمی جز ہے جس میں رتی برابر بھی تبدیلی‘ کمی و پیشی کا تصور بھی ایمان خطرے میں ڈالنے کے مترادف سمجھا جاتاہے۔ پاکستانی قوم عقیدہ ختم نبوت کی محافظ‘ نگہبان اور پشت بان تھی اور ان شاءاﷲ نبی کریم سے محبت کا چراغ روشن رہے گا۔ حکومت نے عجلت میں انتخابی اصلاحات بل پاس کرایا، حلف نامہ کو اقرارنامہ میں تبدیل کر کے قوم کی دل آزاری کی گئی۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی قوم کو حقائق بیان کریں اور ان عناصر کو سامنے لائیں جو اس سرگرمی میں ملوث رہے۔ ممتاز علماءکرام، مشائخ عظام اور اہل دانش نے پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال جلالی چیئرمین انٹرنیشنل علماءکونسل ،علامہ نزاکت حسین گولڑوی چیئرمین سنی علماءکونسل پاکستان اور پیرزادہ مفتی محمد ریاض الدین چشتی منتظم اعلیٰ ادارہ ریاض القرآن کی قیادت میں صاحبزادہ محمد حسیب احمد نظیری پرنسپل جامعہ نظریہ اسلام آباد، علامہ صاحبزادہ حافظ فتح محمد علوی سیالوی، پرنسپل جامعہ شیر علی انوار القرآن اسلام آباد، پیرزادہ نثار المصطفیٰ باغذری شریف‘ مفتی جی اے چشتی خطیب اسلام آباد، غلام محمد چشتی گولڑی جماعت اہلسنت پاکستان، علامہ اظہر محمود چشتی اور پروفیسر محمود اخترکاکہنا تھاکہ الیکشن اصلاحات کی آڑ میں دراصل عقیدت ختم نبوت کی عالی شان عمارت میں نقب لگانے کی کوشش کی گئی‘ وہ ارکان اسمبلی جنہوں نے ترمیم کے حق میں ووٹ دیئے وہ بھی قوم سے معافی مانگیں۔ بل کو بغیر پڑھے اسکی حمایت اور دستخط کرنا بذات خود بہت بڑی کوتاہی اور غیر ذمہ داری ہے۔ مفتی جی اے حق چشتی نے بتایا کہ قرارداد مقاصد آئین کا لازمی جز ہے جس میں ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قرآن وسنت سے متصادم کوئی بل منظور ہو سکتا ہے نہ اس پر بحث کی جا سکتی ہے حیرت ہے کہ خود کو محمد عربی کا غلام کہنے والوں نے ایسا متنازعہ قدم کیوں اٹھایا؟ پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال جلالی کا کہنا تھا کہ لاہور میں شہباز شریف کی طرف سے وضاحتی بیانات اور تقاریر سے لوگوں کی تشفی نہیں ہوتی میاں نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کو آگے بڑھ کر حقائق سے پردہ اٹھانا پڑے گا۔ اصلاحات بل 2017ءکی آڑ میں آئین دشمن لابی قوم کا مزاج چیک کرنا چاہتی تھی خدا کا شکر ہے کہ علماءکرام‘ مشائخ عظام اور قوم جاگ رہے ہیں اگر آج قوم خاموش رہ جاتی تو قادیانی لابی اس سے بھی آگے بڑھ جاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ حلف کو قرار نامہ میں بدلنے والوں کو بے نقاب کرنا وقت کی ضرورت ہےمغرب دراصل خاص حکمت عملی کے تحت مسلمانوں اور ان کے عقائد پر حملہ آور ہے ہم ان سازشوں کو توڑنے اور ان کا سدباب کرنے کی بجائے ان کے حاشیہ بردار بنے ہوئے ہیں برما میں مسلمانوں کی نسل کشی کا نوٹس کیوں نہیں لیا گیا حالانکہ جب مسلمانوں کو ذبح کیا جارہا تھا عین اسی لمحے او آئی سی کے ہنگامی اجلاس یکے بعد دیگرے ہوتے تو برما حکومت کو ظلم روا رکھنے کی جرات نہ ہوتی کاش مسلمان حکمران بیدار ہو کر اپنے اتحاد سے ظالموں کے ہاتھوں کو روکتے۔ اس صورت حال میں پاکستانی قیادت کا رویہ بھی قابل ذکر نہیں ہم نے ابھی تک خود قراردادوں کی منظوری تک محدود کررکھا ہے ۔ پیرزادہ مفتی محمد ریاض الدین چشتی نے بتایا کہ 1953ءاور 1974ءکی کامیاب دینی تحریکوں سے ایک عالم واقف ہے حکمران یاد رکھیں قوم کے نزدیک ناموس رسالت سے بڑھ کر کوئی بھی چیز مقدم نہیں۔ خود رسول کریم کا ارشاد گرامی ہے کہ ایمان کی سلامتی و مضبوطی کے لئے آپ کو جان سے عزیز درجہ دینا ضروری ہے۔ حکومت نے گزشتہ چار سال میں دانستہ ایسے قدم اٹھائے جس سے عاشقان رسول کی دل شکنی ہوئی۔ مگر اب پانی سر سے اوپر ہو چکا ہے۔ علامہ نزاکت حسین گولڑوی کا کہنا تھا کہ وطن عزیز میں ایک خاص لابی ہے جو سی 295 اور بی 298 سے خوف زدہ ہے ان قوانین سے متاثرہ اقلیت اور ان کے سرپرست چاہتے ہیں کہ انکے نمائندے کسی نہ کسی طرح پارلیمنٹ میں آئیں اور اعلیٰ منصب تک رسائی کا راستہ صاف ہو جائے۔ انہوں نے صدر اور وزیراعظم کی طرح ہر بڑے (منصب) کے حلف میں عقیدہ ختم نبوت کے الفاظ شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔مشائخ عظام اور علماءکرام کو متحد ہو کر ان قوتوں کا مقابلہ کرنا پڑے گا جو بس پردہ مسلمانوں کے عقائد پر حملہ آور ہیں ہم راجہ ظفرالحق سے التماس کرتے ہیں کہ وہ جلد قوم کو حالات سے آگاہ کریں۔پروفیسر محمود اختر نے بتایا کہ اصلاحات بل دراصل ٹریلر ہے اصل فلم کا منظر عام پر آنا باقی ہے مقام شکر ہے کہ علماءکرام نے ملی بیداری کا ثبوت دیا تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ ان عناصر کا بے نقاب ہونا ضروری ہے جو بل سازی اور اسے منظور کرانے میں سرگرم رہے انہوں نے تمام اراکین سے معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا۔ پیرزادہ نثار المصطفیٰ باغذری کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کو ایک خاص حکمت عملی کے تحت کارنر کیا جا رہا ہے۔ برما کے مسلمانوں کے قتل عام میں عالم اسلام کی خاموشی سے بہت سے سوالات نے جنم لیا۔ آخر ہم کب اپنے دین سے دور رہیں گے۔ علامہ پیر ثناءاللہ حسینی،سجادہ نشین خانقاءحسینی خیابان سرسید کا کہنا تھا کی معتمر عالم اسلام کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے راجہ ظفر الحق کی خدمات کا ایک زمانہ معترف ہے ان کی سربراہی میں کمیٹی کام کررہی ہے امید ہے حقائق جلد معلوم ہوجائے گے ہم یہ بھی امید کرتے ہیں کہ ان حقائق کی روشنی میں حکومت قصورواروں کو سزاکی بھٹی سے گزار ے گی ، علم دوست شخصیت چوہدری محمد طیب نے بتایا کہ ہم وزیراعلٰی شہباز شریف کے اس بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں کہ باریک بینی اور خاموشی سے حلف نامے کو اقرار نامہ میں تبدیل کرانے والوں کا محاسبہ ہونا جائے گا۔ پروفیسرابرار احمد خان رہنماءجماعت اہلسنت راولپنڈی نے بتایا کہ ختم نبوت ہمارے ایمان کا حصہ ہے مسلمان عالم ناموس رسالت کے تحفظ کے لےے اپنی جان بھی نچھاور کرتے ہیں۔محب رسول کا تقاضہ ہے کہ ہم ان عناصر پر نظر رکھیں جو مسلمانوں کے عقیدے کو چیک کرتے رہتے ہیں،الیکشن 2017 اصلاحات کی آڑ میں جو واردات کی وہ نا قابل برداشت ہے۔ہم درخواست کرتے ہیں کہ حکومت ان چہروں کو بے نقاب کرے جنہوں نے بل چھیڑ خوانی کی۔ علامہ صاحبزادہ حافظ فتح محمد علوی‘ علامہ محمد چشتی گولڑوی‘ علامہ اظہر محمود چشتی کا کہنا تھاکہ پارلیمنٹ مقدس ادارہ ہے مگر مقدس ادارے کے اراکین نے جو ”کارنامہ“ سرانجام دیا ہے اس پر مسلمانوں کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین اراکین پارلیمنٹ کو صورتحال پر ندامت کا فوراً اظہار کرنا چاہئے حیرت ہے کہ بل قائمہ کمیٹی‘ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں زیر بحث رہا مگر کسی نے اس طرف توجہ نہ دی حالانکہ جماعت اسلامی‘ جمعیت اہلحدیث‘ جے یو آئی جیسی جماعتوں کے سربراہان سراج الحق‘ پروفیسر ساجد میر اور مولانا فضل الرحمن خود پارلیمنٹ کا حصہ ہیں۔