معاملات اور اخلاق وآداب

پیر غلام رسول شاہد
انسان صبح سے شام تک کچھ نہ کچھ کرتا رہتا ہے۔ اس کے یہ تمام افعال تین حصّوں میں تقسیم کئے جا سکتے ہیں ۔ وہ فعل جن میں اس کا واسطہ صرف خدا سے ہوتا ہے۔ یہ حقوق اللہ کہلاتے ہیں ۔ وہ فعل جو صرف اس کی اپنی ذات تک محدود ہوتے ہیں ان کو حقوق ذاتی یا حقوق نفسی کہتے ہیں ۔ وہ فعل جو اس کی ذات اور مخلوق کے کسی دوسرے فرد یا افراد سے متعلق ہوتے ہیں۔ ان کو معاملات کہا جاتا ہے۔ ان حقوق کو انسان جس طریقے اور نہج سے ادا کرتا ہے اس کا نام اخلاق ہے۔ مثلاً اگر کوئی آدمی اپنے کسی حق کو نرمی، خوش اسلوبی اور بخوشی خاطر ادا کر دے تو یہ اخلاق حسنہ یا خوش خُلقی کہلائے گا اور اس آدمی کو خوش خُلق کہیں گے۔ لیکن اگر کوئی آدمی اپنے حقوق ادا تو کرے لیکن سختی ودرشتی، بدسلوکی، کراہت یا لیت ولعل سے ادا کرے تو اس طریقہ کو بداخلاقی اور ایسے آدمی کو بداخلاق کہا جائے گا۔
ہر قوم اور مذہب میں ان حقوق سہ گانہ کو بجا لانے کا ایک دستور ہوتا ہے۔ جس قوم کی اکثریت اپنے دستور پر جس قدر ہم آہنگی، یکسانیّت اور سرگرمی سے عمل کرتی ہے اُسی قدر وہ قوم آرام وآسائش اور راحت وعزّت سے زندگی گزار سکتی ہے۔ ہر قوم کی طاقت و قوت اس دستور کی ساخت پر بھی منحصر ہوتی ہے۔ یعنی جس قدر یہ دستور کسی قوم کے تقاضوں اور ذہنی وجسمانی کے مطابق ہوتا ہے اسی قدر وہ قوم طاقتور اور خوشحال ہوتی ہے۔ ملّت اسلامیہ کا دستور قرآن ہے جو الہامی کتاب ہے۔ ظاہر ہے کہ انسان کی فطرت و طبیعت اور مقتضیات کو جس قدر انسان کا بنانے والا سمجھ سکتا ہے خود انسان بھی ہرگز نہیں سمجھ سکتا۔ اس لئے ہمارا دعویٰ ہے کہ ہمارا یہ دستور دنیا کا سب سے مکمل اور بے نقص دستور ہے۔ خصوصاً اس لئے کہ یہ دنیا کا آخری اور مکمل ترین دستور ہے۔ جو لوگ اس دستور کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں اگر وہ اس پر پوری طرح عمل کریں تو ناممکن ہے کہ انفراداً یا اجتماعاً کسی لحاظ سے بھی گھاٹے میں رہیں۔ ہماری ناکامیوں کی بڑی وجہ اس دستور پر پوری ہم آہنگی اور دلجمعی سے عمل نہ کرنا ہے۔ اس ضمن میں حقوق اللہ، حقوق نفسی اور حقوق العباد سب بتا دیئے گئے ہیں۔
حقوق اللہ : اگر ہم مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہمیں اس بات پر یقینِ محکم ہونا چاہئے کہ جس اللہ نے پیدا کیا ہے، وہی ہمیں رزق دیتا ہے۔ وہ جو کچھ کرتا ہے تمہاری بہتری اور بہبودی کے لئے کرتا ہے، وہی تم کو مارے گا اور تمہاری موت کے بعد وہ مختار ہے کہ تمہیں سزا دے یا بخش دے۔ اگر تم کو یہ یقین محکم حاصل ہے تو تم پر فرض ہے کہ اللہ کی محبت، اطاعت، شکر اور خوف ورجا کے جذبات سے ہروقت اپنے دل کو معمور رکھو، نعمتوں اور راحتوں کے لئے اس کا شکر بجا لائو اور مصائب و تکالیف کے وقت اسی کی طرف رجوع کرو اور اسی کی عبادت کرو۔ یعنی وہ تمام احکام بجا لائو جو قرآن میں موجود ہیں۔
حقوق نفسی : اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ میں حکم دیا ہے کہ اپنی جان کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ یعنی اس کی حفاظت کرو۔ اور سورۂ مائدہ میں ارشاد فرمایا ہے ’’اے ایمان والو تم پر اپنی جان کی فکر لازم ہے۔‘‘ رسول اللہ ؐ فرماتے ہیں وَلِنَفْسِکَ عَلَیْکَ حَقّ’‘ یعنی تیرے نفس کا تجھ پر حق ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان کو سب سے پہلے اپنے نفس کی بقا اور درستی کی کوشش کرنی چاہئے۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد بھی اس کے بعد ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر آدمی کا نفس ہی ہلاک ہو جائے یعنی آدمی مر جائے تو وہ نہ حقوق اللہ ادا کر سکتا ہے نہ حقوق العباد۔ اسی طرح یہ بھی ظاہر ہے کہ آدمی جتنا بیمار، کمزور، کم عقل، کم علم اور ناتجربہ کار ہوگا اتنا ہی اللہ اور مخلوق کے متعلق اپنے فرائض اچھی طرح انجام دینے میں قاصر رہے گا۔ اس لئے انسان کو چاہئے کہ اس کی اپنی ذات کے متعلق جو حقوق وفرائض اس پر عائد ہوتے ہیں سب سے پہلے ان کو پوری طرح انجام دے وہ فرائض یہ ہیں۔
-1 صحت -2 علم وتجربہ -3 عزّت نفسی -4 خود اعتمادی اور عمل کے ہیں ۔ صحت کیلئے ضروری ہے
جسم ، لباس اور خیالات کی پاکیزگی کو ایمان کامل کا حصہ بنایا جائے ۔ نماز کے ساتھ دل میں اللہ کا خوف رہے ۔ غذا ایسی کھانی چاہئے جو زود ہضم اور زیادہ خون پیدا کرنے والی ہو۔ کھانا اس وقت کھانا چاہئے جب خوب بھوک لگے اور دو نوالے کی اشتہا باقی رہ جائے تو ہاتھ روک لینا چاہئے۔ غذا آہستہ آہستہ اور خوب چبا کر کھائی جائے۔ کھاتے وقت طبیعت خوب خوش اور بشاش ہونی چاہئے۔ تفکّر اور غصّہ کی حالت میں کھایا ہوا کھانا اچھی طرح جزو بدن نہیں بنتا۔ گوشت جہاں تک ہو کم کھایا جائے کیونکہ اس سے غصّہ اور مزاج میں تلخی زیادہ پیدا ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے گوشت کو جائز قرار دیا ہے اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس کے بغیر لقمہ ہی نہ ٹوٹے۔ لباس گرمی، سردی وغیرہ کے لحاظ سے موسم کے مطابق آرام دہ سادہ اور کم قیمت پہننا چاہئے۔ قیمتی اور بھڑکیلے لباس سے غرور ونخوت پیدا ہوتی ہے۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ لباس پاک صاف ستھرا اور وضع قطع کے لحاظ سے دیدہ زیب اور حدود شرعی کے مطابق ہو۔ مکان پکا ہو یا کچا، محل ہو یا جھونپڑی آئینہ کی طرح صاف ستھرا ہونا چاہئے۔ گندگی کا مزاج اور ذہن پر ہمیشہ بُرا اثر ہوتا ہے۔ پابندیٔ اوقات اچھی صحت کی ضمانت ہے۔ دن رات کے چوبیس گھنٹوں کو اس طرح بانٹا جائے کہ کام ،عبادات اور تفریحات سب کے لئے مناسب وقت مل جائے۔ قیام صحت اور پابندیٔ اوقات کے لئے سب سے پہلی اور سب سے ضروری بات یہ ہے کہ رات کو انسان جلد از جلد سو جائے اور صبح سورج نکلنے سے کم از کم ایک گھنٹہ قبل ضرور ہی اٹھ بیٹھے۔ صبح سویرے اٹھنے کے فوائد کون نہیں جانتا۔
غسل روزانہ کرنا چاہئے۔ پانی موسم کے لحاظ سے گرم یا سرد ہونا چاہئے۔
اچھی صحت کے ساتھ ساتھ عبادت بھی بہت ضروری ہے۔ اس سے دماغ کو سکون اور دل کو طاقت اور راحت حاصل ہوتی ہے اور تفکّرات کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے۔ یہی اہمیت ورزش اور کھیل کُود کی ہے۔ ورزش کا بہترین وقت قبل از طلوع آفتاب اور کھیلوں کا بہترین وقت عصر اور مغرب کے درمیان ہے۔ جو لوگ ورزش نہ کر سکیں ان کو صبح سورج نکلنے سے پہلے اور شام کو مغرب کے بعد یا ذرا پہلے چہل قدمی ہی کرلینی چاہئے ۔دماغی اور تحریری کام کرنے والوں کو کھانا کھانے کے کم از کم ڈیڑھ گھنٹہ بعد کام شروع کرنا چاہئے۔ ایسے لوگوں کو صبح کا ناشتہ اور دوپہر کا کھانا ہلکا اور کسی قدر کم کھانا چاہئے۔ کام میں لگے رہنے سے صرف صحت ہی اچھی نہیں رہتی بلکہ رنج وغم اور تفکّرات بھی پاس نہیں پھٹکنے پاتے۔ کام ختم کرنے اور رات کا کھانا کھانے کے بعد کچھ دیر تفریح کرنا بھی ضروری ہے۔ بہترین تفریح یہ ہے کہ دوستوں یا اپنے بال بچوں میں بیٹھ کر خوب ہنسو اور ہنسائو۔
جب کھانا تحلیل ہو جائے تو عشاء کی نماز پڑھتے ہی سو جائو۔ یہ ہیں وہ باتیں جو صحت کے لئے ضروری ہیں۔ لیکن ایک مسلمان کے لئے صرف صحت کا تحفظ ہی کافی نہیں بلکہ ہر مسلمان کو اتنی جسمانی طاقت بھی پیدا کرنی چاہئے کہ وہ ایمان کے ساتھ زندگی اور اپنی عزّت و ناموس کی حفاظت کر سکے ۔ علم و تجربہ ایک صاحب ایمان کی زندگی کا لازمی جزو ہے ، کسب معاش میں سہولت ہوتی ہے اور دنیا میں عزّت ملتی ہے۔ سفر اور لوگوں کے ساتھ میل جول سے تجربہ حاصل کرنے میں بے حد مدد ملتی ہے ممکن ہو تو ہر سال بھر میں لمبا سفر بھی کیا جائے۔ گویا ایک باعمل شخص کیلئے دنیا اور دین میں کامیابی کا راستہ عمل کرنے میں ہے۔