مذہب کی آڑ میں ذاتی افکار و نظریات

رانا زاہد اقبال

ترمذی میں روایت ہے کہ جب حضرت عدی ابنِ حاتم عیسائیت کو خیر آباد کہہ کر حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے تو آپ نے بارگاہِ رسالتؐ میں مختلف سوالات پیش کئے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ عیسائیوں کے بارے میں قرآن مجید کا جو ارشاد ہے کہ انہوں نے علماء اور مشائخ کو اپنا ربّ بنا لیا۔ اس کی حقیقت کیا ہے۔ حضورؐ نے فرمایا کہ یہ جس چیز کو حلال کہہ دیتے تم اسے حلال جان لیتے اور جس کے بارے میں حرمت کا فیصلہ صادر کر دیتے اسے حرام مان لیتے بس یہی ان کو اپنا ربّ بنا لینا ہے یعنی حلال و حرام کا حکم دینا باری تعالیٰ کا کام ہے اور ان لوگوں نے اللہ کے اس حق کو مخلوق کے ایک طبقہ کو سونپ دیا۔ بالکل ایسا ہی اب ہو رہا ہے ایسے ہی علماء کے کئی گروپ ہیں جو دین میں مرضی کی تحریف کرتے ہوئے لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں اور بڑی آسانی کے ساتھ سادہ لوح عوام کے ذہنوں میں گمراہی کے جراثیم داخل کر دیتے ہیں۔ یہ طبقہ عام طور پر نیکی اور تقدیس کی آڑ میں اپنے ذاتی افکار اور پسندیدہ نظریات کو ہدایتِ الٰہی کی حیثیت سے لوگوں کے سامنے پیش کر کے انہیں ان کی پیروی کی دعوت دیتا ہے اور جو لوگ صدقِ سے قبول کر لیں انہیں جنت کی بشارتیں دیتا ہے اور انکار کرنے والوں کو دوزخ کے عذاب سے ڈراتا ہے ۔
انسانی ذہن کے پس منظر میں اصول، نظریہ و ضابطہ یا نصب العین کی ایک عملی صورت بھی ہوتی ہے مثلاً آپ نیکی کا تصور نیکی کے چند ٹھوس واقعات یا چند نیک انسانوں کی عملی زندگی کو نظروں کے سامنے لائے بغیر کبھی نہیں کر سکتے ، بالکل اسی طرح مذہبی احکام اور اس کی تعلیمات بھی اس بات کی محتاج ہیں کہ ان کی مکمل مثالی اور صحیح عملی تصویر نہ صرف انسان کے ذہن میں ہو بلکہ وہ مستند کتابوں اور مقدس روایات میں بھی محفوظ ہو تا کہ ہر نسل کی تربیت کرتے ہوئے اس کی تصویر کا نقش اس کے دل و دماغ میں بڑی آسانی کے ساتھ بٹھایا جا سکے، اب اگر ایک گروہ اس تصویر کو مٹا دیتا ہے تو وہ در حقیقت کسی فرد یا قوم کو اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ وہ مذہب کی عملی توجیہ کے لئے کچھ دوسری تصاویر اپنے ذہن میں رکھے، یہ تصویریں بالعموم کسی رائج الوقت نظام کے چربے ہوتے ہیں، تاریخ شاہد ہے کہ کسی مذہب کے اندر جب بھی کسی نے ایسا کیا تو مذہب اپنا امتیاز کھو کر وقت کے غالب رجحانات کا تابع مہمل بن کر رہ گیا اور وہ فیصلہ کن حیثیت جو کبھی اسے حاصل تھی وہ ان لوگوں کو حاصل ہو گئی جو مذہب کو توڑ مروڑ کر کسی طرح عصری تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے درپے تھی۔
عہدِ نبوی اور خلفائے راشدین کے بعد جب مسلمانوں کے فکر میں انتشار پیدا ہوا تو امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام مالک، امام حنبل اور ایک فرقے کے نزدیک امام جعفر صادق نے فکرِ اسلامی کی تدوین کی اور قرآن حکیم کے عظیم قانون کی ترجمانی اور تشریح کی۔ ان کے فیضانِ فکر سے مسلمانوں میں علم و حکمت کے چراغ روشن ہوئے۔ اسلامی فقہ دراصل ایک ہی تھی لیکن اس کی تشریح میں فرق تھا اور ہونا بھی چاہئے تھا کیونکہ تاریخ میں کوئی قانون ایسا نہیں جس کی ایک سے زیادہ تشریحات نہ کی گئی ہوں۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ ان عظیم فقہائے اسلام کی تشریحات کو ایک دوسرے سے علیحدہ اور ایک دوسری سے متصادم تصور کر لیا گیا اور ہر امام کے علیحدہ علیحدہ مقلد پیدا ہو گئے، ہر مقلد اپنے امام کے علاوہ دوسرے آئمہ کی فقہ کو غلط تصور کرتا اور بعض دوسرے اماموں کے مقلدین کو کافر قرار دیتے تھے۔ تاریخ شاہد ہے کہ امام ابو حنیفہ اور امام مالک امام جعفر صادق سے اکثر ملتے رہتے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فقہ کی شرحوں میں اختلافات بنیادی نہیں بلکہ فروعی تھے۔
یہ تمام امام کبھی حکومت کے قریب نہیں رہے بلکہ اکثر حکومت کے معتوب رہے، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ علماء کا جو طبقہ خلفا کے دور میں اقتدار کے قریب رہا وہ زیادہ تر ان علماء پر مشتمل تھا جن کے پیشِ نظر دینی مسائل سے زیادہ سیاسی مصلحتیں تھیں۔ وہ اقتدار کے قریب رہ کر عموماً صرف یہ چاہتے تھے کہ حکمرانِ وقت کا اقتدار قائم رہے۔ اکثر اوقات اقتدار قائم رکھنے کے لئے یہ ضروری سمجھا جاتا ہے کہ عوام میں باہمی اختلافات پیدا کئے جائیں، ایک فرقے کو دوسرے فرقے کے خلاف ابھارا جائے، یہ کام سیاسی سطح پر بھی کیا جاتا ہے اور دینی سطح پر بھی۔ چنانچہ یہ دونوں ذرائع استعمال کئے گئے اور ملت میں اختلافات اور خونریزی کا بازار گرم ہو گیا۔ آج پوری دنیا انقلابات، تبدیلیوں، گروہی، نسلی، لسانی، مذہبی فتنوں اور ہمہ نو خانہ جنگیوں کی لپیٹ میں ہے ، انسانیت کے دشمن اس فتنہ فساد کی آگ کو مزید ہَوا دے رہے ہیں اور اس سارے فساد کے پیچھے عالمی خفیہ اداروں کے ہاتھ ہیں۔ دہشت گردوں کے کئی ایسے گروپ ہیں جو دین اسلام میں مرضی کی تحریف کرتے ہوئے خود کو دینِ اسلام اور مسلمانوں کے کھلے دشمن ثابت کر رہے ہیں یہ ایسے اسلام دشمن مسلمان ہیں جو مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والوں کو کافرقرار دیتے ہیں اور اسلام کی غلط تشریح کے تحت اپنے ہی معصوم ہم مذہبوں کے قتل کو مباح سمجھتے ہیں۔ ان کے تربیت یافتہ جہادی اپنی جہالت اور خود ساختہ پیروں کے مسلکوں سے منسلک ہونے کے سبب اسلام کے قطعی غیر اسلامی رخ اور غیر عقلی توہمات کا شکار ہیں مذہب کی آڑ میں مختلف مسلکوں کے علماء نے ان کا استعمال اپنے ذاتی فروغ کے لئے کرنا شروع کر دیا۔ اس چیز نے عالم اسلام کی اعتدال پسندانہ ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ایسے بھی شواہد ملے ہیں کہ اس بات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلام دشمن عناصر فرضی عالم تیار کر کے ہمارے درمیان بھیج رہے ہیں تاکہ ہمارے بچوں کو گمراہ کر کے اپنا گرویدہ بنا سکیں۔ایسا ہی سلطان صلاح الدین ایوبی کے دور میں بھی ہوا تھا جب بھولے بھالے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے یہودیوں نے مساجد میں امامت کے لئے اپنے گرگے چھوڑ کھے تھے ہمیں ان لوگوں پر نظر رکھنی چاہئے کہ کوئی جہاد کی معرفت جنت کی بات تو نہیں کر رہا ہے، اسلام میں کوئی بدت تو نہیں پھیلا رہا ہے، کوئی نئی روایت تو ترتیب نہیں دے رہا ہے کیونکہ اسلام اور قرآن نے انسان کو ہدایت کی کہ ذہنی جمود اور تنگ نظری کو ختم کیا جائے اور ذہن کو آمادہ کیا جائے کہ وہ قدیم تعصبات سے آزاد ہو کر ذہن کو نئے افکار، نئے تقاضوں اور نئے مسائل کو سمجھنے کے لئے تیار کرے۔ اس کوشش میں عقیدے سے بھی کام لے اور عقل سے بھی کیونکہ یہ دونوں ایک ہی نظامِ فکر یعنی دینِ اسلام کے دو پہلو ہیں۔