قارون کا خزانہ:۔

اس کو قرآن کی زبان سے سنئے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ ہم نے قارون کو اتنے خزانے دیئے تھے کہ ان خزانوں کی کنجیاں ایک مضبوط اور طاقتور جماعت بہ مشکل اٹھا سکتی تھی قرآن میں ہے۔ترجمہ:۔ بیشک قارون حضرت موسیٰؑ کی قوم میں سے تھا۔ پھر اس نے ان پر ظلم کیا اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیئے تھے جن کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت پر بھاری تھیں۔

حضرت موسیٰ ؑ کی نصیحت:۔ حضرت موسیٰ ؑ قارون کو جو نصیحت فرمائی۔ وہ یہ ہے جس کو قرآن مجید نے بیان فرمایا ہے۔ اسی خیر خواہی والی نصیحت کو سن کر قارون حضرت موسیٰ ؑ کا دشمن ہوگیا۔ غور کیجئے کہ کتنی مخلصانہ؟ اور کس قدر پیاری نصیحت ہے؟ جو حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ ساتھ ساری قوم قارون کو سناتی رہی۔ترجمہ:۔ جب قارون سے اس کی قوم نے کہا کہ اترا کر مت چل۔ بیشک اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ اور جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر طلب کر اور دنیا میں اپنا حصہ نہ بھول، اور احسان کر جیسا کہ اللہ نے تجھ پر احسان فرمایا ہے اور زمین میں فساد مت تلاش کر!