فتنہ دجال

مولانا قاری ظفر اقبال
(۹) اس حدیث میں یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ دجال کے حکم پر آسمان سے بارش اور زمین سے پیداوار حاصل ہو گی، اس کے ایک حکم پر ویرانے اپنے خزانے نکال دیں گے، زمینیں اپنے دفینے اگل دیں گی، اور وہ خزانے اس کے پیچھے یوں چلیں گے جیسے شہد کی مکھیاں اپنی ملکہ مکھی کے پیچھے چلتی ہیں یا جیسے لوہا مقناطیس کیطرف کھنچا چلا آتا ہے ، اس کے ایک اشارے پر اس کے پیروکار مصیبتوں اور پریشانیوں سے نجات پا جائیں گے اور ان کے جانور صحت مند ہو جائیں گے، اور اس کے ایک اشارے پر اس کی خدائی کو تسلیم نہ کرنے والے معاشی بدحالی کا شکار ہو جائیں گے، اب یہاں ایک عام آدمی کے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سارے کام تو اللہ تعالیٰ کرتا ہے اور اس کے علاوہ کسی میں اتنے اہم کام کرنے کی قدرت نہیں ہے، دجال تو اللہ تعالیٰ کا دشمن ہو گا، وہ خدائی کا دعویدار بھی ہو گا، وہ جھوٹا اور کذاب بھی ہو گا، اس کے باوجود وہ یہ سارے کام بھی کرے گا، کیا ان دونوں چیزوں میں تضاد نہیں ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سارے کام بظاہر دجال کے کہنے سے ہوں گے لیکن حقیقت میں اللہ تعالیٰ کا حکم کارفرما ہو گا، اللہ کے حکم اور اس کی اجازت سے ہی یہ سارے کام ہوں گے اور جہاں اللہ تعالیٰ کا حکم اور اجازت نہ ہو گی، وہاں دجال بالکل بے بس ہو گا، چنانچہ وہ آدمی جسے دجال قتل کر کے دوبارہ زندہ کرے گا، جب دجال اسے دوبارہ قتل کرنا چاہے گا تو اس پر قادر نہ ہو سکے گا، حالانکہ دیکھا جائے تو دجال بھی وہی مقتول بھی وہی، دن اور جگہ بھی وہی، کسی چیز میں کوئی تبدیلی نہیں، تبدیلی صرف حکم خداوندی میں ہے، البتہ ان کاموں کو دجال کے ہاتھوں پر ظاہر کرنا استدراجاً ہو گا، اور اس سے لوگوں کا امتحان مقصود ہو گا کہ وہ کچھ ظاہری چیزوں کو دیکھ کر اپنے ایمان سے دستبردار تو نہیں ہوتے ؟ اور بعض اوقات اللہ تعالیٰ امتحان کی غرض سے کچھ لوگوں کو ڈھیل دے دیا کرتا ہے، دجال کے یہ سارے شعبدے بھی اللہ تعالیٰ کی اسی ڈھیل کیوجہ سے ہوں گے۔
(۱۰)دجال کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ڈھیل عطا کی جائے گی، اس کا ایک حصہ یہ بھی ہو گا کہ وہ ایک آدمی کو قتل کر کے دوبارہ زندہ کرے گا، ظاہر ہے کہ دوبارہ زندہ کرنا تو اللہ تعالیٰ کی خاص صفت ہے ، کسی انسان میں یہ طاقت نہیں ’’سوائے معجزے کے جیسے حضرت عیسی علیہ السلام کو یہ معجزہ عطا کیا گیا تھا‘‘ کہ کسی مرے ہوئے کو دوبارہ زندہ کر سکے، چنانچہ جب دجال ایک زندہ آدمی کو اس طرح قتل کرے گا کہ اس کے جسم کے دو ٹکڑے کر دے گا، اور ہر ٹکڑے کو ایک دوسرے سے اتنے فاصلہ پر رکھے گا جتنی دور تیر جا سکتا ہے، پھر ان دونوں کے درمیان چل کر دکھائے گا ، اور اس کے بعد اس نوجوان کو آواز دے گا تو اس کے جسم کے دونوں ٹکڑے آپس میں مل جائیں گے اور وہ دوبارہ زندہ ہو جائے گا تو اچھے خاصے لوگ شبہات کا شکار ہو جائیں گے، اور اسے اپنا خدا مان لیں گے اور جس شخص کا ایمان مضبوط ہو گا اللہ تعالیٰ اسے اسی وقت اپنی قدرت کا نمونہ دکھا دے گا، چنانچہ سب سے پہلے تو وہ آدمی جسے دجال نے قتل کر کے دوبارہ زندہ کیا ہو گا، دجال اس سے پوچھے گا کہ کیا اب بھی تو مجھے اپنا رب مانتا ہے؟ تو وہ کہے گا کہ اب تو مجھے پختہ یقین ہو گیا ہے کہ تو وہی دجال ہے جس کے متعلق ہمیں نبیﷺ نے پہلے ہی مطلع فرما دیا تھا، پھر اس کے بعد جب دجال اس شخص کو دوبارہ قتل کرنا چاہے گا تو اپنے ارادے میں کامیاب نہ ہو سکے گا، سو اس موقع پر جن لوگوں کا شعور بیدار ہو گا اور ان لوگوں کی عقل کام کر رہی ہو گی، وہ فوراً سمجھ جائیں گے کہ اگر یہ واقعی خدا ہے تو پھر دوبارہ اس شخص کو دسترس اور قدرت کے باوجود قتل کیوں نہیں کر پا رہا؟اور جن لوگوں کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہو گی ، وہ پہلی مرتبہ کے واقعے پر ہی سر دھنتے رہیں گے۔
(۱۱)دجال اسی طرح خلق خدا کو گمراہ کر رہا ہو گا، مسلمان اس کے ہاتھوں آزمائشوں کا شکار ہوں گے، امام مہدیؓ اپنے جانبازوں کو لیکر اس سے لڑنے کی تیاری کر رہے ہوں گے، کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسی علیہ السلام کو نازل فرما دے گا، چونکہ دجال کا قتل حضرت عیسی علیہ السلام کے ہاتھوں لکھا گیا ہے، لہٰذا حضرت عیسیؑ ہی اسے قتل فرمائیں گے اور خدا کی مخلوق کو اس فتنے سے نجات دلائیں گے، نزولِ عیسیؑ سے متعلق ہمیں تین چیزوں پر کلام کرنا ہے۔
(۱) کیا حضرت عیسی علیہ السلام حیات ہیں؟
(۲) نزول کے وقت ان کی کیا کیفیت ہو گی اور ان کا نزول کہاں ہو گا؟
(۳) دجال کو قتل کرنے کیلئے نزول عیسیؑ کی حکمت اور یہ کہ حضرت عیسیؑ ہی کا دجال کو قتل کرنے کیلئے آنا کیوں ضروری ہے؟ اختصار کے ساتھ ذیل میں ان تینوں سوالوں کا جواب دیا گیا ہے، تفصیل کیلئے نزولِ عیسیؑ پر لکھی جانے والی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
حیاتِ عیسی علیہ السلام
حضرت عیسی علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے اپنی آسمانی کتاب انجیل نازل فرمائی اور انہیں بہت سے معجزات عطا کیے، یہودیوں نے شروع ہی سے حضرت عیسی علیہ السلام کی نبوت کو دل سے تسلیم نہ کیا اور ان کے خلاف سازشیں کرتے رہے، جیسا کہ ہمارے نبیﷺکے موقع پر انہوں نے کیا، بالآخر ایک دن انہوں نے یہ سازش کی کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو گرفتار کر کے سولی پر چڑھا دیا جائے، چنانچہ انہوں نے ایک جاسوس کی مخبری پر اس مکان کا محاصرہ کرلیا جس میں حضرت عیسیٰؑ اپنے حواریوں یعنی مخصوص ساتھیوں کے ساتھ جمع تھے، اس موقع پر بعض حضرات کے مطابق حضرت عیسیؑ کے کسی حواری پر اور بعض حضرات کے مطابق اسی جاسوس پر حضرت عیسیؑ کی شباہت ڈال دی گئی ، اور اس کی شکل و صورت بالکل حضرت عیسیؑ جیسی ہو گئی، یہ انتظام ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام کو ان کے جسم اور روح کے ساتھ آسمانوں پر زندہ اُٹھا لیا اور ان کے دشمنوں نے اس شخص کو ’’جس پر حضرت عیسیؑ کی شباہت ڈال دی گئی تھی‘‘ عیسیؑ سمجھ کر سولی پر چڑھا دیا، وہ یہی سمجھتے رہے کہ انہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کے حوالے سے اپنا ارادہ پورا کر لیا ہے، چنانچہ ایک تدبیر انہوں نے کی اور ایک تدبیر اللہ نے کی، اللہ کی تدبیر غالب رہی اور حضرت عیسیؑ کو آسمانوں پر اُٹھا لیا گیا، قرآن کریم نے اسی بات کو بیان کرتے ہوئے کہا ہے۔
{وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَاصَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ} [النسائ: ۱۵۷]
’’انہوں نے حضرت عیسی ؑ کو قتل کیا اور نہ ہی انہیں سولی پر چڑھا سکے، بلکہ ان پر اس معاملے کو مشتبہ کر دیا گیا ‘‘
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا ہے
{وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْناً بَلْ رَفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْماً } [النسائ: ۱۵۷۔۱۵۸]
’’یقینی بات ہے کہ وہ لوگ حضرت عیسیؑ کو قتل نہیں کر سکے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے پاس اوپر اُٹھا لیا، اور اللہ بہت غالب حکمت والا ہے‘‘
یہ دونوں آیتیں اپنے مفہوم میں اس قدر واضح ہیں کہ ان پر کوئی دلیل قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوا
(جاری ہے)