صدقہ و خیرات کی فضیلت

حضرت بشیر اسلمیؓ فرماتے ہیں۔ جب مہاجرین مدینہ آئے تو ان کو یہاں کا پانی موافق نہ آیا۔ غفار کے ایک آدمی کا کنواں تھا جس کا نام رومہ تھا۔ وہ اس کنویں کے پانی کی ایک مشک ایک مد (تقریباً 14چھٹانک) میں بیچتا تھا۔ حضورؐ نے اس کنویں والے سے فرمایا۔ تم میرے ہاتھ یہ کنواں بیچ دو۔ تمہیں اس کے بدلے میں جنت میں ایک چشمہ ملے گا۔ اس نے کہا یا رسول اللہؐ! میرے اور میرے اہل وعیال کے لئے اس کے علاوہ اور کوئی آمدنی کا ذریعہ نہیں ہے اسلئے میں نہیں دے سکتا۔ یہ بات حضرت عثمانؓ کو پہنچی تو انہوں نے وہ 35ہزار درہم میں خرید لیا۔ پھر حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا۔ یا رسول اللہؐ جیسے آپ نے اس سے جنت کے چشمے کا وعدہ فرمایا۔ تو کیا اگر میں اس کنویں کو خرید لوں تو مجھے بھی جنت میں وہ چشمہ ملے گا؟ ہاں بالکل ملے گا۔ حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا۔ میں نے وہ کنواں خرید کر مسلمانوں کے لئے صدقہ کردیا ہے۔

حضرت طلحہؓ کی بیوی حضرت سعدی ؓ فرماتی ہیں کہ ایک دن حضرت طلحہؓ نے ایک لاکھ درہم صدقہ کئے پھر اس دن ان کو مسجد میں جانے سے صرف اس وجہ سے دیر ہوگئی کہ میں نے ان کے کپڑے کے دونوں کناروں کو ملا کر سیّا (لاکھ درہم سب کو دیئے اور اپنے اوپر کچھ نہ لگایا)۔ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے حضورؐ کے زمانے میں اپنا آدھا مال 4ہزار (درہم) صدقہ کئے پھر چالیس ہزار صدقہ کئے۔ پھر چالیس ہزار دینار صدقہ کئے۔
حضرت ابولہابہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالی نے میری توبہ قبول فرمائی (ان سے غزوہ بنو قریظہ یا غزوہ تبوک کے وقت غلطی سر زد ہوئی تھی) تو میں نے حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا۔ یا رسول اللہؐ میں اپنی قوم کا وہ گھر چھوڑنا چاہتا ہوں جس میں مجھے سے یہ گناہوا ہے اور میں اپنا سارا مال اللہ اسکے رسولؐ کے لئے صدقہ کرنا چاہتا ہوں۔ حضورؐ نے فرمایا۔ ابولہابہ! تہائی مال کا صدقہ ہے۔ چنانچہ میں نے تہائی مال صدقہ کیا۔
حضرت نعمان بن حمیدؓ فرماتے ہیںکہ میں اپنے ماموں کے مدائن شہر میں حضرت سلمانؓ کے پاس گیا۔ وہ کھجور کے پتوں سے کچھ بنا رہے تھے۔ میں نے ان کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں ایک درہم کھجور کے پتے خرید تا ہوں پھر ان کا کچھ بنا کر تین درہم میں بیچ دیتا ہوں اور ایک درہم صدقہ کر دیتا ہوں۔ اگر (امیرالمومنین) حضرت عمر بن خطابؓ بھی مجھے اس سے روکیں گے تو میں رکوع ہوں گا۔ (حضرت سلمانؓ حضرت عمر ؓکی طرف سے مدائن کے گورنر تھے۔ (بحوالہ : حیاۃ الصحابہ جلد  دوم)