خواجہ عبدالحکیم انصاری

مزین رسول ہاشمی
حضرت خواجہ عبدالحکیم انصاری ایک عدیم المثال بزرگ اور عصر حاضر کی نابغہ روزگار شخصیت تھے۔ بے پناہ روحانی قوت اور کشف و کرامات کے حامل ہونے کے ساتھ ساتھ محبت و صداقت، عفو و درگزر، حلم و بردباری، ایثار قربانی، صبرو تحمل، خدمت انسانی اور اخلاص کا پیکر تھے۔ خاص و عام جو بھی آپ سے ملا۔ پہلی ہی ملاقات میں گرویدہ ہو گیا۔ آپ شریعت کے سخت پابند بلکہ مجسم شریعت تھے، جاہ حشم کی طمع سے ہمیشہ بے نیاز رہے ۔ سادگی اور صاف گوئی آپ کی تعلیم کا خاصہ رہا۔ چنانچہ فرماتے ہیں’’مجھے حلقہ کی تعداد بڑھانا ہرگز منظور و پسند نہیں میں تو چاہتا ہوں کہ حلقہ میں کم سے کم آدمی ہوں۔ لیکن وہ سب کے سب اعمال و اخلاق کے لحاظ سے اعلیٰ درجے کے مومن ہوں۔
قبلہ انصاری صاحب 29 جولائی 1893ء میں دہلی کے قریب قصبہ فرید آباد میں پیدا ہوئے۔ آپ کی والدہ ماجدہ امتہ العائشہ سادات خاندان کی ایک نہایت مطہر، پاکباز اور نیک خاتون تھیں۔ والد حافظ عبدالرحیم اور دادا مولانا عبدالعزیز جید عالم دین اور متشرع صوفی ہونے کے ساتھ سینئر سب جج کے عہدے پر فائز تھے۔ پر دادا حضور بھی عابد و زاہد بزرگ تھے ، جن کا زیادہ وقت ایبٹ آباد میں گزرا اور وہ کرنال میں سرکاری عہدہ سے ریٹائر ہو کر فرید آباد چلے گئے۔آپ نے اپنے خطبات میں اپنے بچپن سے لے کرروحانی اور ذاتی زندگی کی تفصیل بیان کی ہے۔ آپ کے خاندان عالیہ کا شجرہ نسب حضرت ابوایوب انصاری سے جا ملتا ہے۔
آپ کا بچپن اپنے داد حضور کی شفقت میں گزرا۔ پانچ برس کی عمر میں ہی آپ کو نماز، درودشریف اور کئی سورتیں اور دعائیں ازبر تھیں۔ 1902ء میں دادا کی وفات کے بعد ان کی طرف سے آپ کے دل میں لگایا ہوا عشق الہیٰ کا چراغ، دوسروں تک روشنی پھیلاتا رہا۔
قریبی عزیز شیخ عبدالرحمٰن کے توسل سے حضرت مولانا کریم الدین کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ جہاں تین برس کی قلیل مدت میں سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کا سلوک طے کر لیا اور یوں محض اکیس برس کی عمر میں آپ کے مرشد نے آپ کوبیعت لینے کی اجازت مرحمت فرمادی۔ مرشد معظم کے وصال شریف کے بعد آپ مراد آباد میں سلسلہ عالیہ چشتیہ کے ایک بلند پایہ بزرگ حضرت سید علی کلیمی کے دست شفقت پر بیعت ہوئے اور سلسلہ چشتیہ کا سلوک طے کیا۔ اپنے مرشد ثانی حضرت سید قاسم علی رحلت کے بعد آپ نے سلسہ عالیہ قادریہ اور سلسہ عالیہ سہروردیہ کا مطالعہ کیا۔ ایک خواب کی تعبیر کی جستجو میں آٹھ برس لوگوں سے ملتے رہے جب بھی کسی محمد حنیف نامی شخص کا پتہ چلتا حاضری دیتے مگر مطلوبہ بزرگ نہ ملتے۔ آخر رحمت خداوندی جوش میں آئی اور اکتوبر 1928ء کی ایک شام بلگام کے مقام پر آپ کی ملاقات مطلوبہ اویسی بزرگ رسالدار محمد حنیف خاں صاحب سے ہو گئی۔ آپ رسالدار محمد حنیف خاں کی صحبت میں 1947ء تک رہے۔ پھرقیام پاکستان پر قبلہ رسالدار صاحب اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کے دوران شہید ہو گئے جب کہ قبلہ انصاری کراچی تشریف لے گئے۔
آپ دسمبر 1947ء میں پاکستان ائیرفورس ڈرگ روڈ کی ٹریڈ ٹریننگ سنٹر کے لائبریرین مقرر ہوئے۔ بعد میں آپ 1954ء تک ملیر کینٹ میںرہے جہاں سے آپ بنوں تشریف لے گئے۔ یہاں آپ کے معتقدین کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔ جس کے لئے دعا فرماتے اللہ ان کے کام کر دیتا۔ آپ کے عقیدت مندوں میں محمد ابراہیم نامی ایک پروفیسر صاحب بھی تھے جن کی ایک بیٹی کے بارے میں مشہور تھا کہ اسے روحیں نظر آتی ہیں۔ پروفیسر صاحب کا کراچی سے بنوں تبادلہ ہی قبلہ انصاری صاحب کی بنوں تشریف آوری کا سبب بنا۔ 1954ء میں یہاں آپ کی ملاقات گوہر نایاب قبلہ عبدالستار خاں، ان کے اہل خانہ اور والد ماجد حاجی علی محمد سے ہو گئی۔ آپ نے قبلہ عبدالستار خاں اور ان کے قریبی دوست مسیح الظفر کی درخواست پر بنوں میں مستقل قیام کا ارادہ فرمالیا۔ بنوں قیام کے دوران ہی آپ نے تصوف کے موضوع پر لکھی گئی کتاب ’’تعمیر ملت‘‘ تصنیف کرنا شروع کی۔ پانچ اگست 1955ء بروز جمعتہ المبارک شام 5 بجے قبلہ عبدالستار خاں صاحب نے آپ کے دست شفقت پر باقاعدہ بیعت کر لی اور یہی مبارک لمحہ سلسلہ عالیہ توحیدیہ کے قیام کا آغاز بنا۔
اپنے وصال سے قبل خواجہ عبدالحکیم انصاری نے سلسلہ کے تمام معاملات کے لئے قبلہ عبدالستار خان کو اپنا وصی اور مختار مقرر فرمایا یوں آسمان روحانیت کا یہ درخشندہ ستارہ انسانی اصلاح و تربیت اور تعمیر ملت کا یہ مشن قبلہ عبدالستار خان صاحب کے سپرد کر کے 23 جنوری 1977ء کی شام 5 بجے انے محبوب حقیقی سے جا ملا۔ آپ کی رحلت کے بعد آپ کے واحد خلیفہ و جانشین قبلہ عبدالستار خان دسمبر 1990ء تک متلاشیان حق کی رہبری فرماتے رہے۔ انہوں نے اپنی حیات مبارکہ ہی میں قبلہ غلام رسول شاہد کو اپنا واحد خلیفہ جانشین مقرر فرمایا۔ آپ کا سالانہ عرس مارچ کے تیسرے ہفتہ آستانہ عالیہ توحیدیہ ماڈل ٹاؤن میں زیرسرپرستی غلام رسول شاہد منعقد ہو رہا ہے۔