کرکٹ کوچز اور پاکستان

محمد ادریس
آسٹریلیا کے سابق کپتان ،سلیکٹر ، کمنٹیٹر آئن چیپل نے کہا کہ پاکستان میں کوچ اتنی جلدی جلدی بدلے جاتے ہیں جس طرح گھروں میں بیویاں بستر کی چادریں بدلتی ہیں۔ اس بیان کی روشنی میںجب اس کو پرکھا گیا تو وہ غلط نہ تھے۔ ایک عرصہ تک روایت یہ تھی کہ جو ٹیم کا منیجر ہوتا تھا وہ ہی کوچ بھی ہوتا تھا۔ کچھ سیکھنے کے لئے تیار نہ تھے پھر کوئی قد آور کپتان آجائے تو وہ کوچ کو بالکل گنتی میںنہ لیتا تھا۔وہ کہتا تھا کہ میں چونکہ جوابدہ ہوں اس لئے میں ہی سب کچھ ہوں۔ پاکستان کے تمام کوچز پر ایک نظر ڈالی جائے تو انتخاب عالم سب سے زیادہ پاکستان کے لئے اچھی خبر لائے۔ انتخاب عالم دھیرے مزاج کے بااخلاق اور کھلاڑیوں کے ساتھ ترش رویہ نہ رکھنے والے شخص تھے۔ کم و بیش وہ آٹھ دفعہ کوچ رہے ان سے کسی کو شکایت نہیں ہوئی۔ یہ معاملہ کے بھی صاف تھے اور صرف پاکستان کے لئے سوچتے تھے۔ کئی عہدوں پر قائم رہنے کے بعد اب بھی بورڈ سے منسلک ہیں۔ان سے بورڈ کو کوئی نقصان نہیں ہے۔ یہ تمام کام تحمل سے کرتے ہیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ کوچنگ کے فرائض کن لوگوں کے حصہ میں آتی ہیں مدثر نظر، وسیم راجہ، جاوید میاں داد، وقار یونس،محسن حسن خاں۔ یہ طرفہ تماشہ ہے۔ ان سب نے کوچنگ کا کورس پاس نہیں کیا ہے۔ محمد اکرم نے باوئلنگ کوچ کا کورس کیا ہے۔ جلال الدین گزشتہ 25سال سے چیخ رہے ہیں میری طرف دیکھو میں سند یافتہ کوچ ہوں۔ جب پی سی بی پاکستانی کھلاڑیوں سے خاطر خواہ نتائج حاصل نہ کر سکی تو اس نے دنیائے کرکٹ سے منتخب کوچز کی خدمات حاصل کیں۔ جن میںباب ولمر، رچرڈ پائی بس، جیف لاسن، جونٹی روڈز، اینڈی فلاور، یہ بھی طرفہ تماشہ ہے، کہ جب غیر ملکی مستند کوچ لائے گئے توپاکستان کے سابقہ معتبر کھلاڑی ڈانگیں لے کر نکل آئے اور دم جب ہی لیا جب تک وہ کوچ تبدیل نہ ہو گیا۔ دراصل پاکستان کے کھلاڑی کسی کو بڑا ماننے کے لئے تیار ہی نہیں۔ دنیائے کرکٹ میں کسی کوچ کا ان کھلاڑیوں کے ہاتھوں موت کا ایک واحد واقعہ ہے۔ پاکستان کی ٹیم ورلڈکپ کے لئے جب گئی تو دو کھلاڑی یقینی طور پر یہ طے کر کے گئے کہ وہ غیر تسلی بخش کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے تاکہ پاکستان کوئی مقام نہ حاصل کر سکے۔ جب آئر لینڈ کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست پاکستان نے پائی ۔ باب ولمر مر گیا۔ ڈیو واٹمور، ڈیو واٹسن، پائی بس اور جیف لاسن نے اپنی مقدور بھرکوشش کی کوئی خاص نتیجہ نہ نکلا۔ فیلڈنگ کوچ کے لئے جونٹی روڈز کچھ عرصہ کے لئے آئے دل شکستہ گئے کہ پاکستان کی فیلڈنگ کے معیار کو خراب سے بہتر کرنا ان کے بس کی بات نہیں۔ اس وقت بیٹنگ کوچ اینڈی فلاور ہیں اور ہیڈ کوچ وقار یونس ہیں یہ بار بار کوچ بننے سے بد مزہ نہیں ہوتے۔ بدترین مزاج رکھنے والے اور خود سر ہیں۔ گہری سازش کے تحت کوچ بن جاتے ہیں۔ ان کے ذریعے پاکستان کرکٹ کو کوئی خوشی کی خبر نہیں ملی ہے سوائے بنگلہ دیش میں ایک ٹیسٹ سیریز اور زمبابوے کے خلاف2-0 سیون ڈے انٹرنیشنل سیریز جیتنے کے۔ اس سے قبل وقار یونس لگا تار سات سیریز 2013 سے اب تک ہار چکے ہیں، ایشیا کپ سیریز ۔سری لنکا ۔ آسٹریلیا 3-0، نیوزی لینڈ 3-2، دسمبر ,2014 2-0 کے ورلڈ کپ میں ناکامی ۔ بنگلہ دیش 3-0 وقار یونس کے حصہ میں آئی ہے۔ وقار یونس کے مقابلے میں سابقہ کوچ ڈیو واٹمور زیادہ کامیاب تھے۔ ان کی کوچنگ میں پاکستان پہلی ایشیائی ون ڈے ٹیم تھی جو جنوبی افریقہ میںجیتنے میں کامیاب ہوئی۔ ایشیا کپ 2012ء میں حاصل کیا۔ زمبابوے، ویسٹ انڈیز اور سری لنکا کے خلاف سیریز جیتی۔لیکن شائد سب سے اہم کامیابی وہ تھی جب بھارت کے خلاف سیریز 2-1سے ملی۔دنیا کے دیگر ملکوں میں ایک کامیاب تجربہ جاری ہے اس سے ہمیں بھی فائدہ اٹھانا چاہیے۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم نے گزشتہ دو سال میں ناقابلِ یقین معیار حاصل کر لیا ہے۔ ورلڈکپ کا فائنل کھیلی ہے انہوں نے اپنا کوچ مائیک ہینسن کو مقرر کیا ہے جنہوں نے اول درجہ کی کرکٹ بھی نہیں کھیلی ہے اس کے باوجود گریک میکملن اور شان بونڈ ان کے زیر سرپرستی کام کرتے ہیں۔ اسی طرح جنوبی افریقہ نے رسل ڈامنگو جو ہیڈ کوچ ہیں میک ڈونلڈ بولنگ کوچ ہیں۔ شائد پاکستان کو ایسے کوچ کی ضرورت ہے جو کھلاڑیوں کو زیادہ اچھے سلیقے اور تنظیم سے پاکستان کیلئے اچھی خبریں فراہم کرسکے۔2017ء میں انگلینڈ میں چیمپین ٹرافی ہو گی پاکستان کے لئے یہ ضروری ہو گا کہ وہ پہلی آٹھ ٹیموں می سے ایک ہو۔ پاکستان اس وقت9 ویں نمبر پر ہے۔ پاکستان کے لئے یہ ضروری ہے کہ سری لنکا کے خلاف جولائی میں سیریز جیتے اس کے بعد اگست میں زمبابوے کو شکست دے ۔ پاکستان کی ٹیم شماریات میںگھری ہوئی ہے دیکھئے پاسنگ مارکس ملتے ہیں یا نہیں۔