پنجاب یونیورسٹی میں ایلومنائی کے اعزاز میں تقریب

پنجاب یونیورسٹی میں ایلومنائی کے اعزاز میں تقریب

نعیم الحسن
پنجاب یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ آف ایڈمنسٹریٹو سائنسز کے زیراہتمام گزشتہ دنوں ایلومنائی کے اعزاز میں ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں ملک بھر سے اہم شخصیات سمیت ادارے سے تعلق رکھنے والے اس کے سابق طالبعلموں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ڈیپارٹمنٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن اعلیٰ انتظامی تعلیم و تربیت کےلئے پنجاب یونیورسٹی کا وہ منفرد شعبہ ہے جس کے فارغ التحصیل ہزاروں طلبہ اس کے قیام کے بعد سے اب تک ملک کے اہم سرکاری اداروں اور نجی شعبے میں خدمات سرانجام دیتے چلے آرہے ہیں۔ 1962ءسے لے کر اب تک اس ادارے کی ایسی بے شمار شخصیات کا مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کلیدی کردار رہا ہے ۔ مقامی سطح پر ہیومن ریسورس کے شعبے سے لے کر ملٹی نیشنل کارپوریٹ سیکٹر تک ملک اور بیرون ملک جہاں کہیں بھی اس کے گریجوایٹ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ارکان پیشہ ورانہ فرائض ادا کررہے ہیں کسی نہ کسی لحاظ سے ان کے مابین ڈیپارٹمنٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (IAS) کی قدر مشترک ضرور ایک احساس طمانیت کا ذریعہ ہے۔ اسی قدر مشترک کے تحت اس کے سابق طلباءجب کبھی تجدیدرفاقت کیلئے جمع ہوتے ہیں یہ لمحات کسی یادگارسے کم نہیں ہوتے۔ سال گزشتہ ہو یا پھر گزشتہ سے پیوستہ، 50 سالہ خصوصی ایلومنائی کا اہتمام ، ایسی تقریبات ادارے سے وابستہ ارکان کے بچوں اور دیگر اہل خانہ کیلئے بھرپور دلچسپی اور شرکت کا موجب ہوتی ہےں۔ ساٹھ، ستر کی دہائی سے لے کر نئی صدی کے آغاز تک زندگی کے کیسے کیسے تلخ و شیریں ایام نہ گزرے ہوں گے۔ مگر زمانہ طالب علمی سے مادر علمی کی یادوں تک زندگی کے سفر کا یہی حسن ہے کہ برسوں، مہینوں اور دنوں کے بعد دوست احباب کو جب کبھی ایک جگہ جمع ہونے کا موقع ملتا ہے ان یادش بخیر لمحات کوسمیٹنے کیلئے وقت گویا کم پڑجاتا ہے۔ایلومنائی کی تقریب ،بلا شبہ انہی جذبات کا والہانہ اظہار تھی جہاں ادارہ ایڈمنسٹریٹو سائنسز کے دیرینہ ساتھیوں کے درمیان معمول کے پیشہ وارانہ امور اور تجربات پر تبادلہ خیال کے علاوہ زمانہ¿ طالب علمی کے واقعات کی یاد میں تجدید رفاقت اس شام کی نشست و برخاست کا بنیادی محور بنی رہی۔ تقریب کے انعقاد کی کامیابی پر پُرمسرت جذبات کا اظہار کرتے ہوئے انسٹیٹیوٹ کی سربراہ پروفیسر ناصرہ جدون نے برملا اسے ایک ایسی شام سے تشبیہہ دی جس میں محو ملاقات ماضی کے تمام دوست اُسی طرح اُسی مقام پر ایک دوسرے کے ساتھ گزرے ہوئے خوشگوار لمحات کا ذکر کر کے اپنی یادوں کو خوشگوار بنا رہے ہوں۔ تقریب کے دوران ڈاکٹر افضل انڈومنٹ ٹرسٹ کی جانب سے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے شرکاءکرام کو اعزازات سے نوازا گیا۔اس تقریب میں شریک متعدد ارکان میں لکی ڈرا کے ذریعے انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔ ایلومنائی کے ارکان نے ہال میں جہاں پسندیدہ گیت گا کر گزرے ہوئے لمحوں کی کسک پیدا کر دی وہیں اس یادگار شام کے ڈھلتے سایوں میں متعدد ارکان نے اپنی اپنی خوشگوار یادوں کو حاضرین کے ساتھ شیئر کرکے انہیں محظوظ کیا اور تالیوں کی گونج میں داد وصول کرتے ہوئے سٹیج سے رخصت ہوگئے۔
............،،،،،،،،،،،،،
انسٹیٹیوٹ آف ایڈمنسٹریٹو سائنسز
انسٹیٹیوٹ آف ایڈمنسٹریٹو سائنسز کا شمار ملک میں انتظامی امور کی تعلیم و تربیت کے قابل فخر اداروں میں ہوتا ہے۔ اس کی بنیاد اس کے بانی چیئرمین ڈاکٹر افضل نے 1962ءمیں ڈیپارٹمنٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن کے نام سے رکھی۔ جسے بعد میں2000ءمیں ترقی دے کر اعلیٰ سطح کی تعلیم و تربیت کا ایک مرکز بنا دیا گیا۔ پروجیکٹ کے تحت ابتداءمیں یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے اساتذہ نے اس ڈیپارٹمنٹ میں تعلیم و تدریس کے فرائض سرانجام دئیے ۔جس کے بعد میں پی ایچ ڈی پروگرام کے تحت امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے واپس آنیوالے مقامی اساتذہ نے یہ ذمہ داری سنبھالی۔ ملک میں پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم و تدریس کیلئے ابتدائی طور پر کراچی میں قیام کے بعد یہ شعبہ پنجاب یونیورسٹی میں منتقل ہو گیا ۔ جہاں بعد میں 1971ءمیں بزنس ایڈمنسٹریشن میں پوسٹ گریجوایٹ کی تعلیم و تربیت کا بھی اہتمام کیا گیا۔ 15 سال قبل انسٹیٹیوٹ کا درجہ حاصل کرنے کے بعد سے اس ادارے میں 4 سالہ بی ایس آنرز پروگرام کے علاوہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح تک اعلیٰ تعلیم کی تمام تر نصابی ضروریات بہم پہنچائی جارہی ہیں۔ حالیہ برسوں میں انسٹیٹیوٹ کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں اس کی سربراہ پروفیسر ناصرہ جدون کا خصوصی کردار رہا ہے۔ جنہوں نے ڈاکٹر افضل کی اس شعبے میں خدمات کے اعتراف میں انڈوومنٹ ٹرسٹ کی بنیاد رکھی ہے۔ ٹرسٹ کے زیراہتمام ڈاکٹر لبنیٰ افضل سمیت 15 ارکان اس کے انتظامی امور کی نگرانی کررہے اور ہر سال طلبہ کی بڑی تعداد مختلف سکالر شپ سے مستفید ہورہی ہے۔ ٹرسٹ میں ایلومنائی کے ارکان بھی شامل ہیں۔
ایلومنائی تجدید رفاقت کا ایک ایسا روایتی ذریعہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہوسکتا۔ IAS کو بجا طورپر یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس سے وابستہ سابق طلبہ کی بڑی تعداد ہمیشہ کلیدی حیثیت میں مختلف شعبوں میں خدمات سرانجام دیتی رہی ہے۔ جن میں شعبے کے بانی سابق وفاقی وزیرڈاکٹر افضل مرحوم سمیت محترمہ زریں عزیز، احسن اقبال، مجتبیٰ شجاع الرحمن، جاوید اسلم، پروفیسر عبدالطیف ، کامران لاشاری، تیمور عظمت، سعود مرزا، نعیم الحق، شاہین عتیق الرحمن، ناصر جاوید، فضا مظفر، الطاف ایزد خان، قادرالجلیل ، محمد اشفاق خٹک، تنویر احمد، مبارک اطہر اور تسلیم ثناءاللہ کے نام قابل ذکر ہیں۔