پاکستان ٹیم کا دورۂ سری لنکا اہمیت کا حامل

پاکستان ٹیم کا دورۂ سری لنکا اہمیت کا حامل

گزشتہ ماہ پاکستان میں کرکٹ سرگرمیاں اپنے عروج پر تھیں جس کا تمام کریڈٹ زمبابوے کرکٹ ٹیم کو جاتا ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ کی دعوت پر چھ سال بعد ٹیسٹ کا درجہ رکھنے والی ٹیم نے پاکستان میں قدم رکھا تھا، پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام اس تاریخ ساز سیریز کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ زمبابوے کرکٹ ٹیم نے پاکستان کرکٹ پر جو احسان کیا ہے اس پر کروڑوں شائقین کے ساتھ ساتھ حکمران بھی ان کے مشکور ہیں۔ وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں مہمان ٹیم کی پاکستان آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے لاہور میں میچز کے دوران سکیورٹی فراہم کرنے والے اداروں کی حوصلہ افزائی کی جو خوش آئند ہے۔ وزیراعظم پاکستان کی جانب سے ایسے بیانات کا سامنے آنا بھی ضروری تھا جس سے پوری دنیا میں ایک اچھا پیغام جائے کہ پاکستان کی حکومت غیر ملکی کھلاڑیوں کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وزیر اعظم پاکستان نے زمبابوے کے صدر لکھے گئے خط میں ان کا شکریہ ادا کیا۔ بہر کیف ایک کامیاب سیریز کا انعقاد ہوا ہے جو زمبابوے کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی کرکٹ شائقین کو یاد رہے گا۔ لاہور پولیس، ٹریفک پولیس کے ساتھ ضلعی انتظامیہ کے کردار کو کسی طور پر فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ چھ سال بعد پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی ہوئی ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ سے بعض معاملات میں غلطیاں بھی ہوئی ہیں جن کو چیک اینڈ بیلنس میں لایا جانا ضروری ہے۔ کرکٹ بورڈ میں اعلیٰ عہدوں پر کام کرنے والے بعض ’’افسران‘‘ نے اس سیریز کو غنیمت جانتے ہوئے اپنے دوست اور رشتہ داروں کو وی آئی پی انکلورژ میں خوب مزے کرائے۔ آخر کیوں نہ کراتے پتہ نہیں دوبارہ کب انہیں یہ موقع ملنا تھا۔
دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین اور پی سی بی ایگزیکٹو کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی نے بعض ’’وجوہات‘‘ کی بنا پر آئی سی سی صدارت سے اپنا نام واپس لے کر سابق کپتان ایشین بریڈ مین ظہیر عباس کو اس عہدے کے لئے نامزد کر دیا ہے۔ ظہیر عباس کا شمار نجم سیٹھی کے ان قریبی رفقا میں ہوتا ہے جنہیں وہ اپنی چیئرمین شپ کے دور میں سب سے پہلے بورڈ میں لے کر آئے تھے۔ معین خان کو سلیکشن کمیٹی اور ٹیم منیجر کا عہدہ سونپا تھا جبکہ ظہیر عباس کو اپنا ایڈوائزر مقرر کیا تھا۔ موجودہ چیئرمین شہر یار کے آنے کے بعد ظہیر عباس کو ایڈوائزر کے عہدے سے سبکدوش ہونا پڑ گیا تھا تاہم نجم سیٹھی کے قریب ہونے کی بنا پر آئی سی سی کی صدارت کے لئے قرعہ فعال بھی انہی کے نام نکلنا۔ بہر کیف ظہیر عباس اس عہدے کے لئے اچھی چوائس ہیں۔ امید ہے کہ وہ بورڈ اور قوم کی امنگوں پر پورا اترتے ہوئے اس عہدے کے ساتھ انصاف کریں گے۔ یوں تو آئی سی سی صدر کا عہدہ صرف علامتی ہے۔ پھر بھی پاکستان کرکٹ کے لئے یہ ایک اعزاز کی بات ہے کہ آئی سی سی صدر کے عہدہ پر پہلا ٹیسٹ کرکٹر پاکستان سے بنا۔ نجم سیٹھی کا یہ پاکستانی کرکٹرز پر ایک احسان ہے کیونکہ اگر وہ یہ عہدہ خود سنبھال لیتے تو دوبارہ پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر کی باری دس سال بعد آنا تھی پتہ نہیں اس وقت تک آئی سی سی قوانین میں اور کیا نئی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہوتیں۔ کرکٹ حلقوں کی ظہیر عباس کو مکمل سپورٹ حاصل ہے کسی نے ان کے تقرر پر کوئی اعتراض نہیں کیا ہے بلکہ نجم سیٹھی سابق چیئرمین کے فیصلے کو سراہا جا رہا ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم زمبابوے کے خلاف کامیاب ہوم سیریز مکمل ہونے کے بعد ان دنوں سری لنکا کے دورہ پر ہے۔ جہاں اس نے تین ٹیسٹ، پانچ ایک روزہ انٹرنیشنل میچز کے علاوہ دو ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز میں شرکت کرنی ہے۔ پہلا ٹیسٹ 17 جون سے شروع ہو گا ۔ دورہ سری لنکا کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیم میں تجربہ کار کھلاڑیوں کو ہی موقع دیا گیا ہے کسی نئے کھلاڑی کو قسمت آزمائی کا موقع نہیں دیا گیا ہے۔ پاکستان ٹیم کی وننگ ٹریک پر لانے کے لئے کس حد تک ضروری بھی تھا کہ میزبان ٹیم کے خلاف مضبوط سکواڈ کو میدان میں اتارا جائے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں دونوں ممالک کے درمیان 48 ٹیسٹ میچ کھیلے جا چکے ہیں جن میں سے 17 میں پاکستان ٹیم نے کامیابی حاصل کر رکھی ہے جبکہ سری لنکا ٹیم 13 میچز جیت رکھے ہیں۔ دونوں ٹیموں کے درمیان 18 ٹیسٹ میچز ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوئے ہیں۔ آخری کھیلے جانے والے دس ٹیسٹ میچوں میں سری لنکا کا پلڑا بھاری رہا ہے جس نے چار ٹیسٹ میچز میں کامیابی سمیٹی ہے جبکہ پاکستان ٹیم صرف 2 ٹیسٹ میچز میں کامیاب ہو سکی ہے۔ پاکستان ٹیم آخری مرتبہ دورہ سری لنکا میں تین میں سے دو ٹیسٹ میچز ہار گئی تھی لہذا اس مرتبہ اسے ماضی کی تلخ یادوں کو ختم کر کے نئی خوشیاں قوم کو دینا ہوں گی یہ اسی صورت میں ممکن ہو گا جب کھلاڑی کھیل کے تینوں شعبوں میں پرفارم کریںگے۔ ٹیسٹ سیریز میں دونوں ٹیموں کے کپتان پاکستان کے مصباح الحق اور سری لنکا کے اینجلو میتھو کی صلاحیتوں کا امتحان ہوگا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے سلیکشن کمیٹی کی سفارش پر پندرہ رکنی سکواڈ کا اعلان کر رکھا ہے جس میں مصباح الحق کپتان کے علاوہ اظہر علی نائب کپتان، احمد شہزاد، اسد شفیق، احسان عادل، حارث سہیل، عمران خان، جنید خان، ایم حفیظ، سرفراز احمد، شان مسعود، وہاب ریاض، یاسر شاہ، یونس خان اور ذوالفقار بابر شامل ہیں۔ سری لنکن سکواڈ میں اینجلو میتھو کپتان کے علاوہ تھری مانے، چامیرا، چندیمل، پرادیپ، رنگنا ہیراتھ، کارونا رتنے، کوشل، لکمال، جہان مبارک، دلروان پریررا، کوشل پریررا، پرساد، کمار سنگاکارا، کوشل سلوا اور کتھروان ویتھانجی شامل ہیں۔ اب تک ہونے والی سیریز کے اعداد و شمار کے مطابق ٹیسٹ میچز میں اب تک پاکستان کو سری لنکا کے خلاف 6 وکٹوں پر 765 رنز کی بڑی اننگز کھیلنے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ سری لنکا کا پاکستان کے خلاف زیادہ سے زیادہ سکور 644 رنز ہے۔ ٹیسٹ میچز میں پاکستان کا کم سے کم سکور 90 جبکہ سری لنکا کا 71 رنز رہا ہے۔ دونوں ٹیموں کی جانب سے دو کھلاڑیوں کو حریف ٹیموں کے خلاف 2 ہزار اور اس سے زائد رنز بنانے کا اعزاز حاصل ے۔ اس سلسلہ میں سری لنکا کے سابق کپتان سنگاکارا 2 ہزار 809 رنز کے ساتھ سرفہرست ہیں۔ پاکستان کے سابق کپتان یونس خان 2 ہزار 19 رنز کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ مصبا الحق کو ایک ہزار رنز مکمل کرنے کے لئے 83 رنز کی ضرورت ہے۔ جے وردھنے نے 1687، میتھو نے 1040 جبکہ اظہر علی نے 787 رنز بنا رکے ہیں۔ یونس خان کو سری لنکا کے خلاف 313 رنز کی سب سے بڑی اننگز کھیلنے کا اعزاز حاصل ہے، سری لنکا کی طرف سے جے سوریا نے 253 سنگاکارا نے 221 جبکہ پاکستان کے توفیق عمر نے 236 کا مجموعہ سکور کر رکھا ہے۔ سنگاکارا نے 10 سنچریاں سکور کر رکھی ہیں ڈی سلوا نے 8، یونس خان نے 7 انضمام الحق نے 5 جبکہ اظہر علی نے 4 مرتبہ اس سنگ میل کو عبور کر رکھا ہے۔ سری لنکا کے ہیراتھ کو 9 مرتبہ صفر پر آئوٹ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ بائولنگ کے شعبہ میں ہیراتھ نے سب سے زیادہ 88 پاکستانی کھلاڑیوں کو شکار کر رکھا ہے۔ مرلی دھرن 80 وکٹوں کے ساتھ دوسرے، پاکستان کے سعید اجمل 66 وکٹوں کے ساتھ تیسرے وسیم اکرم 63 وکٹوں کے ساتھ پانچویں جبکہ جنید خان کو سری لنکا کے خلاف وکٹوں کی نصف سنچری مکمل کرنے کے لئے صرف ایک شکار کی ضرورت ہے۔ جنید خان اگر مکمل فٹ ہوئے تو لازمی طور پر وہ پاکستان ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔