وفاقی حکومت کی طرف سے صحت کے لئے 21 ارب ....ہیلتھ بجٹ میں اضافہ کا معمہ؟

وفاقی حکومت کی طرف سے صحت کے لئے 21 ارب ....ہیلتھ بجٹ میں اضافہ کا معمہ؟

محمد ریاض اختر

43 کھرب کا وفاقی میزانیہ پیش کر دیا گیا ہے 11 فیصد اضافہ کے ساتھ دفاع کے لئے 781 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں 260 ارب پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبہ پرخرچ ہوں گے 5 جون کو قومی اسمبلی میں بجٹ 2015-16 پیش کر کے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اسے عوام دوست قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ نئے بجٹ سے دگرگوں اقتصادی صورتحال بہتربنانے میں مدد ملے گی نئے وفاقی میزانیہ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7.5 فیصد اضافہ کی تجویز پیش کی گئی ہے میڈیکل الا¶نس میں 25 فیصد اضافہ کی خوش خبری کےساتھ وزیراعظم ہیلتھ انشورنس سکیم کے اجراءکا بھی اعلان کیا گیا۔ سب سے اہم بات 43 کھرب کے بجٹ میں سے شعبہ صحت کو 21 ارب کا حصہ دینے کا اعلان تھا گو اٹھارہویں ترمیم کی منظوری کے بعد تعلیم و صحت کے ساتھ سماجی بہبود کے کئی شعبے صوبائی مسئلہ قرار پا گئے ہیں۔ اب چاروں صوبے تعلیم و صحت کےلئے وسائل پیدا کریں گے اور پھر تعلیم و صحت کے شعبوں میں بہتری کے اقدامات ہوں گے؟ وفاق کے زیر اہتمام ہیلتھ انسٹی ٹیویشنز اور وزارت سے منسلک ہیلتھ اداروں کے لئے 21 ارب مختص اونٹ کے منہ میں زیرا سمجھا جا رہا ہے۔ جب وفاقی حکومت نے شعبہ صحت سے اپنی ”محبت“ کا اظہار کردیا ہے تو صوبے کہاں مرکزی حکومت سے آگے بڑھیں گے خیال یہ کےا جا رہا ہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے صوبائی بجٹ میں تعلیم و صحت کو شاید اہمیت مل جائے لیکن وہ اہمیت نہیں ملے گی جس کا تقاضا قوم اور حالات کر رہے ہیں۔ غالب امکان یہی ہے کہ صوبائی بجٹ میں بھی تعلیم و صحت کے لئے روائتی فنڈز مختص ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ جب تک ہم تعلیم و صحت کو اہمیت اور ترجیح نہیں دیںگے ہم سماجی انقلاب کے دعویدار کیوں کربن سکیں گے۔ دعو¶ں اور عملی اقدام کے مابین گہری ہوتی ہوئی خلیج نے مسائل کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔ معلوم نہیں یہ کرب و مصائب کی داستان کب اور کیسے ختم ہو گی؟ گذشتہ دنوں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پڑوسی شہر راولپنڈی سے یہ خبر سامنے آئی کہ بینظیر بھٹو ہسپتال کی ایمرجنسی میں سہولتیں میسر نہیں۔ سوال یہ ہے کہ راولپنڈی کے تینوں بڑے ہسپتال ہولی فیملی‘ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال اور بینظیر بھٹو ہسپتال میں کب اور کس دور میں سہولتیں میسر تھیں۔ جب شعبہ ایمرجنسی میں بھی لوگوں کی امیدیں ٹوٹتی ہیںتو دوسرے شعبوں کی حالت کیا ہو گی۔سرکاری ملازمین کے میڈیکل الا¶نس میں 25 فیصد اضافہ خوش آئند ہے وزیراعظم کی ہیلتھ انشورنس سکیم کے خدوخال ابھی تک واضح نہیں ہو سکے۔ صحت و تعلیم سے منسلک ماہرین کا خیال ہے کہ وفاقی حکومت کی طرف سے ہیلتھ بجٹ کی مد میں رکھے گئے ۔21 ارب روپے گورنمنٹ پولیو‘ ڈینگی اور اس قسم کی دیگر مہم پر خرچ کرے گی۔ قومی صحت کا کوئی نیا پروگرام شروع ہو گا نہ اس حوالے سے کوئی سرگرمی نظر آ نے والی ہے۔ ہیلتھ بجٹ اور حکومتی ترجیح کے حوالے سے ماہرین طب و صحت نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ان کا کہنا تھا کہ اس بار بھی مرکزی و صوبائی حکومتیں شعبہ تعلیم و صحت کو اپنی ترجیحات میں شامل نہ کر سکیں۔ٹرانسپلاٹ سرجن سی ای او ویگز ڈاکٹر محمد عرفان رانا نے بتایا کہ دنیا بھر میں حکومتیں صحت مند معاشرے کے لئے تعمیری سرگرمیاں شروع کرتی ہیں جن میں ہیلتھ بجٹ میں اضافہ سرفہرست ہے ہمارے یہاں حکومتی سطح پر ایسی سرگرمی نہ ہونے کے برابر ہے۔حکومت میٹرو بس منصوبے بنا رہی ہے‘ پاک چین اقتصادی تجارتی راہداری بن رہی ہے یہ منصوبے معاشی سرگرمیوں کے لئے ناگزیر ہیں لیکن ہسپتال اور تعلیمی ادارے نظر انداز کرنا دانش مندی نہیں۔ ممتاز معالج ڈاکٹر محمد ہمایوں مہمند نے بتایا کہ جب تک اہل اقتدار صحت دوست اقدامات نہیں کریں گے حالات جوں کے توں رہیں گے۔ آج پچیس ہزار آبادی کے لئے ایک ڈاکٹر میسر ہے اندازہ لگائیں کہ ہمارے یہاں ڈاکٹرز کی کس قدر کمی ہے۔ مرکزی و صوبائی حکومتوں کو اس حوالہ سے اہم ترین اقدام اٹھانا چاہیئے۔ بے نظیر ہسپتال راولپنڈی کے ڈاکٹر بشیر ملک نے بتایا کہ ہمارے یہاں صحت کی سہولتیں ناکافی ہیں‘ کچھ لوگ ہسپتالوں کی تعداد میں اضافہ کو مسائل کا حل سمجھتے ہیں۔ ہسپتالوں کی تعداد بڑھانے کی بجائے اگر ہم ایسی مضافاتی علاقوں میں بنیادی ہیلتھ مراکزکو سہولتوں سے مزین کر دیں تو ہمارے مسائل ختم ہو سکتے ہیں۔ بنیادی ہیلتھ مراکز میں مریض زیرعلاج رہنے کے بعد شہروں کے ہسپتال میں آئیں تو بڑے بڑے ہسپتالوں کا بوجھ کسی حد تک کم ہو سکتا ہے۔ پوٹھوار کے نامورحکیم عبدالر¶ف کیانی کا کہنا تھا کہ 21 ارب سے 20 کروڑ عوام کی خدمت کیا ہو گی؟ گویا حکومت کی طرف سے ایک آدمی کو 100 روپے دیئے جا رہے ہیں۔ ایک سو روپے سے عام آدمی کی حالت کیا بدلے گی؟ ہماری تجویز ہے کہ حکومت ہربل صنعت کو فروغ دے اس سے زرمبادلہ کی بچت بھی ہو سکتی ہے۔ کوہسار ہومیوپیتھک میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر طاہر اقبال چودھری نے بتایا کہ اٹھارویں ترمیم کی منظوری کے بعد یہ امید تھی کہ صوبے تعلیم و صحت کو بہت زیادہ اہمیت دیں گے لیکن یہ خواب ابھی تک تشنہ تکمیل ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اگر مشترکہ طور پر صحت دوست اقدام اٹھائیں تو صورت حال بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے راولپنڈی کی سطح پر تو ہیلتھ سیکٹر میں قابل ذکر کام ہوا ہے جس کا کریڈٹ خادم اعلیٰ اور حنیف عباسی کے سر ہے۔