بچوں کی قبل از وقت پیدائش۔۔۔۔ خوفناک صورت اختیار کر چکی ہے: پروفیسر ڈاکٹر راشد ایوب

بچوں کی قبل از وقت پیدائش۔۔۔۔ خوفناک صورت اختیار کر چکی ہے: پروفیسر ڈاکٹر راشد ایوب

فرزانہ چودھری
چائلڈ سپیشلسٹ پروفیسر ڈاکٹر راشد ایوبفاطمہ میموریل ٹرسٹ ہسپتال میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ فاطمہ میموریل میڈیکل کالج کے سٹوڈنٹس کو پڑھانے ، پرائیویٹ اور جنرل مریضوں کے علاج معالجے کے علاوہ بچوں کے امراض پر ریسرچ آرٹیکل بھی لکھتے ہیں گذشتہ دنوں ان سے ماں اور بچے کی صحت کے بارے میں گفتگو ہوئی جو قارئین کی نذر ہے۔
٭ بچوں کی عام بیماریاں کون کونسی ہیں؟
ج: بچوں کی عام بیماریوں میں ہیضہ، اسہال، پیچش ، صفراوی دست،شدید کھانسی اور نمونیہ ہیں اور آج کل ان بیماریوں کا موسم ہے۔ جب بھی موسم تبدیل ہو رہا ہو الرجی اور وائرل انفیکشن کی بیماریاں بڑھنی شروع ہو جاتی ہیں۔ ڈینگی ، ملیریا ، ڈائریا، ہیپاٹائٹس اے اور ٹائفائیڈ وائرس کاسیزن مارچ سے ستمبر تک ہے۔ عام طور پر بچوں کوڈائریا جراثیم اور متعدی وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے کیونکہ بعض مائیں مختلف وجوہات کی بنا پر بچے کو اپنا دودھ پلانا ترک کر دیتی ہیں جس سے بچے میں قوت مدافعت بہت کم ہو جاتی ہے ۔ ماں کے گندے ہاتھ، گندے برتن کا استعمال اور مجموعی طور پر صفائی کا خیال نہ رکھنے سے بچے کو اسہال کی شکایت ہو جاتی ہے۔ماں کا دودھ بچے کو نمونیہ اور ڈائریا سے بچاتا ہے۔ مختلف عمروں میں حفاظتی ٹیکوں کے کورس کے ذریعے بھی مختلف بیماریوں کے خلاف بچے کی قوت مدافعت کو بڑھایا جا سکتا ہے لیکن ایسا تمام بیماریوں میں ممکن نہیں ہے۔ ابتدائی عمر میں بچے ناک، حلق، سینے اور بعض اوقات کان اور سائینس جیسی تکالیف میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یہ بیماریاں زیادہ تیزی سے اس وقت بچے کو لپیٹ میں لیتی ہیں جب بچے باہر کھیلنا شروع کرتے ہیں ۔ بچوں کو نزلہ، زکام کے ساتھ بخار بھی ہو سکتا ہے بچے کو زیادہ سے زیادہ پانی پلائیں اگر بخار زیادہ ہو تو ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھی جائیں۔ بعض بچوں کو بار بار اس قسم کے انفیکشن ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں ایسے بچوں کے گلے (ٹانسلز) اور حلق کے غدود بڑھ جاتے ہیں۔ پاکستان میں پری میچور پیدا ہونے والے بچوں کی شرح 20 فیصد ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ ماں کی اپنی بیماریاں بھی بچے کے پری میچور ہونے کا باعث بنتی ہے۔ دنیامیں جتنی اموات ٹراما اور زچگی کے دوران ہوتی ہیں پاکستان ان سب میں آگے ہے ۔ دائی ہینڈل کیسز میں اکثر مائوں کی جانیں بھی چلی جاتی ہیں جس میں بچے کو بھی بچانا مشکل ہوتا ہے۔ پری میچور بچہ ہونا بذات خود ایک بہت بڑا مسئلہ ہے ان بچوں کا ہر اعضاء پری میچور ہوتا ہے ان کے پھیپھڑے، ہارٹ بھی پری میچور ہوتے ہیں ان کا جی آئی ٹی کا مسئلہ ہوتا ہے۔ ان کی دیکھ بھال پر جتنا خرچا آتا ہے ، اس کا ایک فیصد بھی خرچ نہ ہو اگر آپ ماں کو وہ کیئر دیں کہ بچے کی پیدائش مکمل دنوں میں ہو جائے۔ پاکستان میں سب سے زیادہ شرح اموات پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی ہیں جو سب سے زیادہ نمونیہ، اوراسہال سے مرتے ہیں۔ اگر اس ملک میں سو بچے پانچ سال سے کم عمر کے مرتے ہیں تو ان میں 20 بچے نمونیہ سے اور 20 بچے ڈائریا سے مر جاتے ہیں۔
٭ نمونیہ اور ڈائریا سے اموات کی وجہ کیا ہوتی ہے؟
ج: نمونیہ اور ڈائریا دونوں قابل علاج بیماریاں ہیں۔ ڈائریا اس طرح قابل علاج ہے کہ ماں بچے کو صرف اپنا دودھ پلائے ۔ بچے کو ہاتھ صاف کرنا سکھا دیں، بچوں کو تازہ کھانا پکا کر کھلائیں اگر باسی کھانا کھلانا ہے تو اس کو کھولنے کی حد تک گرم کریں تاکہ اس میں موجود جراثیم مر جائیں ۔ جب تک لوگوں کو صاف پانی میسر نہیں ہو گا ڈائریا نہیں رک سکتا۔ ڈائریا سے اموات کی وجہ جسم میںپانی اور نمکیات کی کمی ہونا ہے۔ ڈائریا میں جسم کا پانی اسہال اور قے سے ختم ہو جاتا ہے کیونکہ بچے کے جسم میں پانی کی کمی کو نمکول وغیرہ دے کر پورا نہیں کیا جاتا۔ ڈائریا کے بچے وقت پر ہسپتال پر پہنچ نہیں پاتے۔ بچے کا سانس خراب ہو، اس کی جلد کا رنگ نیلا ہونے لگے تو اس کا مطلب ہے پھیپھڑے کام نہیں کر رہے ہیں اس کو نمونیہ ہے ۔ ایسے بچوں کے زندہ بچنے کا امکان بہت کم ہوجاتا ہے۔ ڈائریا میں بچوں میں پانی کی کمی اور نمونیا میں پھیپھڑوں کے انفیکشن سے موت واقع ہوتی ہے۔ گردن توڑ بخار میں سر میں شدید درد، بخار اور قے کے ساتھ دماغ کے اندر دبائو بڑھ جائے تو موت واقع ہو جاتی ہے۔ گردن توڑ بخار نوزائیدہ بچے سے لے کر عمر کے کسی حصے میں بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن وہ بچے جو پری میچور ہیں یا وہ بچے جن کو انفیکشن بار بار ہوتی ہو یا کچھ بچے ایسے ہوتے ہیں جن کی کمر کی ہڈی پہ پھوڑا ہو یا پیدائشی نقص ہو، ان کا دماغ سے رابطہ سکین کے ذریعے ہو جاتا ہے ، یہ گردن توڑ بخار کی وجہ بنتے ہیں۔ نمونیا سے بچنے میں صفائی کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔ آج کل ہم WHO کے ساتھ مل کر بچوں کی سانس کی رفتار لینے کا ایک کورس کرا رہے ہیں۔ اگر دو ماہ سے کم عمر بچے کی سانس کی رفتار 60 یا اس سے زائد ہو تو WHO کہتا ہے کہ آپ اس بچے کو نمونیا ڈیکلیئر کر دیں اور ڈاکٹر کے پاس بھیج دیں تاکہ وہ اپنا علاج کروا لے۔ اگر بچہ دو ماہ سے ایک سال کے درمیان ہے تو اس کی سانس کی رفتار 50 یا اس سے زائد ہوتو اس کو بھی نمونیا ڈیکلیئر کریں۔ ایک سے پانچ سال کے بچے کی سانس کی رفتار ایک منٹ میں 40 یا اس سے زائد ہے تو نمونیا ڈیکلیئر ہے۔ تندرست بالغ کی سانس کی رفتار 10 سے 12 اور بچوں میں 20 سے 25 تک ہوتی ہے۔ اگر بچے کے پھیپھڑے مکمل طور پر انفیکشن سے متاثرہو جائیں تو یہ بیماری لا علاج ہو جاتی ہے۔
٭ ہمارے ملک سے پولیو وائرس ختم نہ ہونے کی وجوہات کیا ہیں؟
ج: دوردراز علاقوں میں رہنے والے لوگ پولیو ویکسین کے قطرے اپنے بچوں کو نہیں پلا رہے۔ جب ان بچوں کو پولیو ہوتا ہے تو وہ اس کاعلاج کرانے شہر آجاتے ہیں اوروہ ڈرین میں پولیو وائرس پیدا کر دیتا ہے اور یہ ڈرین سارے شہر میں پھیلتا ہے یا تو ایسے علاقے میں گورنمنٹ اپنی رٹ قائم کر لے پولیو وائرس سے متاثرہ ان بچوں کا علاج بھی اسی گائوں میں کریں تاکہ شہر تک یہ وائرس نہ پہنچ سکے۔ دوسرا ویکسین تب ہی کار آمد ہو گی جب اس کا ٹمپریچر برقرار رکھا جائے گا۔ گرمیوں کے مہینوں میں واٹرکولر سے ویکسین نکال کر پلانا اور ایک ہی وقت میں کئی ایک بچوں کو ایک ساتھ قطرے پلانے سے بھی اس کا ٹمپریچر برقراررکھنا مشکل ہو تا ہے کیونکہ ہاتھ کی گرمی بھی اس کے کولڈ چین ٹمپریچر کو متاثر کرتی ہے۔
٭ بچوں میں کون کونسی بیماریاں ایک دوسرے سے پھیلتی ہیں؟
ج: کن پیڑے ، ٹائفائیڈ ، خسرہ، چکن پوکس (لاکھڑا کاکڑا) اورہیپاٹائٹس اے کی بیماری ہے۔ اگر ان بیماریوں کی ویکسین کرا لی جائے تو ان سے بچائو سے ممکن ہے ۔
٭پری میچور بچوں کو بچایا جا سکتا ہے؟
ج: بالکل بچایا جا سکتا ہے ۔ پری میچور بچوںکے پھیپھڑے بچانے کیلئے 30 ہزار روپے کا ٹیکہ پیدائش کے فوراً بعدلگانا پڑتا ہے اس کے بعد اس کو وینٹی لیٹر میں رکھنا پڑتا ہے۔ اس کو اینٹی بائیوٹک دی جاتی ہیں۔ ایک ہی دن میں پچاس ہزار روپے لگ جاتے ہیں۔ یہ ساری چیزیں یہاں پر اتنے زیادہ بچوں کیلئے میسر نہیں ہیں اس لئے وہ فوت ہو جاتے ہیں، دوسرا پری میچور بچے انفیکشن کی وجہ سے بھی مر جاتے ہیں۔ آپ جتنی بھی کوشش کر لیں ان کو انفیکشن سے نہیں بچاسکتے۔ پری میچور بچوں کی انفیکشن کو کنٹرول کرنا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
٭ بچے کو یاد کیا سبق بھول جانے کی وجہ کیا ہوتی ہے ؟
ج: یہ دیکھنا ہوگا کہ بچے اور اس کا وراثتی آئی لیول کتنا ہے ۔اگر والدین اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ذہین ہیں تو بچے کس وجہ سے دماغی طور پر کمزورہو رہا ہے تو اس کی وجہ ڈھونڈنے کی ضرورت ہے ۔ سکولوں کا لیکچر 30 یا 35 منٹ کا ہوتا ہے کوئی بھی شخص زیادہ سے زیادہ اتنی دیر تک کسی ایک چیز پر concentratکر سکتا ہے۔ اگر آپ اس مقررہ وقت کے بعد بریک نہیں دے رہے ہیں تو آپ اس concentration کو Lose کر جائیں گے۔ اگر ایک بچہ پڑھائی میں پہلے ٹاپ کرتا تھا پھر وہ بتدریج کم نمبر لینے لگتا ہے تواس کی وجہ آئرن کی کمی ہے۔ پوری دنیا کے بچوں میں آئرن کی کمی عام ہے وہ بچے جن کی خوراک میں آئرن شامل نہیں ہوتا وہ اس کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ آئرن مٹن اور بیف میں ہے بچوں کو آئرن فوڈ سپلیمنٹ کی شکل میں دیں۔
٭ بچوں کے جسم میں آئرن کی مقدار کتنی ہونی چاہیے؟
ج: آئرن جسم میںسٹوریج اور رننگ فام میں ہوتا ہے ۔ اگر جسم میں آئرن کا سٹور ختم ہو جائے اس وقت جسم میں مختلف مسئلے پیدا ہوتے ہیں۔ آئرن کے عام سیرپ میں روٹین کے وٹامن ہوتے ہیں اس کے ایک چمچ میں ایک دن کا آئرن ہے ۔ جسم میں آئرن کی کمی میںآئرن کا سیرپ مدد گار ثابت نہیں ہوگا اس لئے ہائی مقدار آئرن سیرپ استعمال کریں جو روز کی ضرورت بھی پوری کرے گااور جسم میں سٹور بھی ہو گا۔ جسم کا آئرن سٹور پورے کرنے میں تین ماہ لگتے ہیں۔جن بچوںمیں آئرن کی کمی ہوتی ہے ان کا رنگ پیلا ہوتا ، بھوک نہیں لگتی، نیند ٹھیک نہیں آتی اور کوئی بھی کام توجہ سے نہیں کر پاتے۔