اساتذہ اور تحقیق کاروں کی تنخواہ ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دی جائے

پرنسپل ڈاکٹر مبشر خان
پاکستان میں تدریس کے شعبہ کو ایک پیشے سے زیادہ ایک جذبے کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ملک بھر میں یہ ایک انتہائی کم آمدن والا شعبہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شعبہ آج تک زیادہ لائق اور قابل شخصیات کو اس نظام کا حصہ نہیں بنا سکا۔ البتہ جو لوگ اس شعبے میں کام کر رہے ہیںوہ اپنے شوق کی وجہ سے ہیں۔
عوامی اداروں میں حالات اور زیادہ مشکل ہیں، جن کا نجی اداروں کے ساتھ سخت مقابلہ ہے، گو کہ قابل لوگوں کو بھرتی کرنے کے لئے تین گناہ سے زیادہ تنخواﺅں کی پیشکش کر رہے ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر عوامی ادارے خوف ناک افرادی قوت کی قلت کا شکار ہیں۔ نوجوان معلمین کی کثیر تعداد اپنی ڈاکٹریٹ کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد نجی اداروں میں تدریسی خدمات سر انجام دینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہاں تک کے عوامی اداروں کے بعض تجربہ کار پروفیسران بھی بہتر ذرائع آمدن کے لئے نجی اداروں کا رخ کر رہے ہیں۔ ان حالات میں عوامی اداروں کے لئے لائق اور قابل اساتذہ اور تخلیق کاروں کا حصول اور مستقل قیام دشوار ہو گیا ہے۔ اگر تدریس سے منسلک افراد کے معاوضے اور دوسرے فوائد کا موازنہ کاروباری افراد کی آمدن سے کیا جائے تو ایک واضع فرق نظر آئے گا۔ بہت سے تعلیمی شعبہ جات، جیسے کہ بزنس سٹڈیز، میں مشاہدہ کیا گیا ہے کہ اکثر فارغ التحصیل طلبہ جلد ہی اپنے تجربہ کار اساتذہ سے زیادہ تنخواہ لینا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ امر یقینا ایسے اساتذہ کے لئے مایوس کن ہے ۔ ہمارے تعلیمی اور تحقیقی شعبہ جات کی ابتر حالت اس مایوسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان عناصر کو مد نظر رکھتے ہوئے اور اساتذہ پر مہنگائی کا دباﺅ کم کرنے کے لئے حکومت پاکستان نے ۲۰۰۱ میں اےک مثبت قدم اٹھایا۔
انکم ٹیکس آرڈیننس ۲۰۰۱ کے جدول (۲) کے حصہ (۳) کی شق (۲) کے مطابق:
’ایک معلم یا تحقیق کار، جو کہ ایک غیر منافع بخش تعلیمی یا تحقیقی ادارہ، بشمول حکومتی تربیتی اور تحقیقی اداروں، جو کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کی طرف سے مکمل طور پر منظور شدہ ہوں، میں مستقل ملازمت رکھتا ہو، کی تنخواہ سے حاصل کردہ آمدن پر ادا کردہ ٹیکس کی مد میں %۷۵ کمی کی گئی ہے۔‘
لیکن بد قسمتی سے۱۴-۲۰۱۳ کے بجٹ میں اس رعایت کو گھٹا کر %۴۰ فیصد کی قلیل حد پر کر دیا گیا۔ تعلیم دوست حکومت کا یہ قدم حکومتی خزانے میں خاطر خواہ اضافہ کی بجائے اساتذہ کی مزید بے اطمینانی اور مایوسی کا سبب بنا۔
اب جبکہ حکومتی سطح پر اگلے بجٹ کی تیاری کے لئے مشاورت کا آغاز ہو چکا ہے، اس موقع پر یہ تجویز پیش کی جاتی ہے کہ یا تو اساتذہ اور تحقیق کاروں کی تنخواہوں کو مکمل طور پر ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے دیا جائے، یا ٹیکس میں %75 کمی کی سابقہ شق بحال کی جائے۔
مندرجہ بالا تجویز کردہ اقدام ہمارے ملک عزیزکی اساتذہ برادری کی مالی مشکلات کو دور کرنے ، تحقیق کی روایت کو فروغ دینے اور حکومت کو اپنے آپ کو بطور ایک تعلیم و تحقیق کو ترویج دینے والی حکومت ثابت کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔