پی آئی اے کی مالی و انتظامی مشکلات

پی آئی اے کی مالی و انتظامی مشکلات

 پاکستان کا قیام ابھی عمل میں نہیں آیا تھا کہ 23 اکتوبر 1946کو کلکتہ میں  ایک نئی ایئرلائن ’’اورینٹ ایئرویز‘‘ قائم ہوئی۔  فروری 1947ء میں اس ایئرلائن نے تین DC-3 طیارے ٹکساس کمپنی کی طرف سے حاصل کئے اور اس ایئرلائن کو لائسنس ملا۔ جبکہ ایئرلائن نے جون میں اپنے کام کا آغاز کیا۔ 1947ء  میں جب پاکستان معرض وجود میں آیا اس وقت یہ پہلی ایئرلائن تھی جو مسلمانوں کی سرپرستی میں  قائم  کی گئی تھی ۔ بعد ازاں اس ایئرلائن نے نئے روٹ متعارف کرائے جو کراچی ، لاہور، پشاور اور کراچی، کوئٹہ، لاہورتک تھے۔ گورنمنٹ آف پاکستان نے فیصلہ  کیا کہ اس ایئرلائن کو وسیع کیا جائے چنانچہ اس ایئرلائن کا نام ’’اورنیٹ ایئرویز‘‘ سے بدل کر ’’پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز ‘‘ رکھ دیا گیا۔  ایئرلائن نے اپنا پہلا بیرون  ملک سفر کراچی، لندن ، ہیتھرو کا کیا، 1959ء  میں ایئرمارشل نور خان کی بحیثیت منیجنگ ڈائریکٹر آف پی آئی اے تقرری اس ایئرلائن کے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہوئی۔ 1961ء میں ایئرلائن نے مزید نئے لوگ بھرتی کئے جو کراچی، نیویارک اور پھر لندن تک جاتے تھے۔ 1962ء  میں اس ایئرلائن  نے ہیلی کوپٹرز کے علاوہ  اپنے ہوائی بیڑے میں بوئنگ 720، اور  فوکر F27 جہازوں کا بھی اضافہ کر لیا۔ جسے کیپٹن عبداللہ بیگ نے  لندن سے کراچی تک  لے جا کران جہازوں کا ورلڈ ریکارڈ قائم کیا اس طرح 1972ء میں پی آئی اے نے ایک نیا روٹ بنا لیا جو ٹری پولی تک جاتا تھا۔
1974ء میں پی آئی اے نے پاکستان انٹرنیشنل کارگو سروس متعارف کروائی 1975ء میں پی آئی اے نے اپنی ایئرہوسٹس  کے لئے نئے یونیفارم متعارف کروائے یہ یونیفارم سر ہارڈی ایمینر نے ڈیزائن  کئے۔ 1980ء  میں پی آئی اے نے ڈیوٹی فری  شاپس بنائیں اور دوسری طرف ایئرلائن کا پہلا ایئربس A300B4 متعارف کروایا، 1984ء  میں پی آئی اے نے نائٹ کوچ کا اجراء کیا جس کاکرایہ دن کے وقت سفر کرنے والوں سے خاصا کم تھا۔ 1989ء  میں شکریہ خانم پہلی خاتون پائلٹ متعارف ہوئیں۔ فرسٹ آفیسر ملیحہ سمیع جو کہ پی آئی اے کی پہلی خاتون پائلٹ تھیں  انہوں نے پہلا روٹ کراچی، پنج گڑھ ، تربت اور گوادر تک پرواز کیا۔
2002ء  میں پی آئی اے نے چھ بوئنگ 747-300 ایئرکرافٹ لئے جن میں پانچ اس وقت بھی لیز پر تھے۔ پی آئی اے  نے مزید چھ لیز ایئر بس جہاز ایئربس کمپنی سے لے لئے۔
 6 دسمبر 2005ء  کو پی آئی اے نے نئے بوئنگ 777 دس سالہ لیز پر انٹرنیشنل لیز فائیننس کارپوریشن سے لے  کر  اپنے ہوائی بیڑے میںشامل  کرلئے۔
گذشتہ کئی برسوں سے پی آئی اے  کو بہت سی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پی آئی اے  کی مالی مشکلات کا  ذکر کیا جائے تو پچھلے  دنوں میں یہ خبر بھی سننے میں آئی کہ پی آئی اے میانمار سول ایوی ایشن کی بھی نادہندہ ہے۔  اب یہاں یہ بات بھی وضاحت سے پیش ہو جائے تو زیادہ بہتر  ہے کہ میانمار سول ایوی ایشن نے پی آئی اے سے 52 ہزار یورو کی ادائیگی کا مطالبہ کیا تھا ۔  کیونکہ قومی ایئرلائن نے میانمار کی فضائی حدود استعمال کرنے کے واجبات ادا نہیں کئے۔
کچھ دن پہلے یہ بات سننے میں آئی کہ پی آئی اے نے 4 براعظموں میں مسافروں کو لے جانے سے انکار کر دیا ہے  یہ ایئرلائن 67 پرائم روٹس بھی بند کر دے گی۔ پی آئی اے  کے پاس اپنے طیارے موجود ہی نہیں ہیں یہ طیارے جو استعمال میں لائے جا رہے ہیں یہ سب کے سب لیز پر لئے گئے ہیں۔
پی آئی اے نے دس برس سے نئے طیارے نہیں  لئے اب اس ائرلائن کا واحد ذریعہ  صرف اور صرف حج اور عمرہ ہی رہ گیا ہے۔ بڑے طیاروں کی بجائے اب ایسے چھوٹے طیارے استعمال ہو رہے ہیں جو مسافروں کو دبئی، ابوظہبی، قطر، شارجہ، پہنچائیں گے جہاں وہ امارات، قطر ایئرلائنز، اتحاد ایئرلائنز اور دیگر بڑی فضائی کمپنیوں سے اگلی منزل کی طرف روانہ ہوں گے۔ 2000ء  میں پی آئی اے  کے پاس 48 طیارے تھے۔ آج 34 جہازوں کا فلیٹ  ہے۔ اس میں پی آئی اے  کے 9 بوئنگ 777 ہیں۔ کبھی پی آئی اے  کے پاس 9 جمبو 747 تھے۔ اس کا سب سے بڑا  مسئلہ گذشتہ 10 سالوں میں نئے طیاروں کی خریداری نہ کرنا ہے۔ 19 ہزار ملازمین رکھنے والی پی آئی اے بہت بڑے خسارے کے کنوئیں میں گرتی چلی جا رہی ہے۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ یہ خسارہ 200ارب روپے سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔
 بھارت نے پی آئی اے  کو دہلی میں دفتر بند کر کے عملے کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ بھارتی حکام نے نئی دہلی میں پاکستان انٹرنیشنل کا دفتر فوری طور پر بندکر دیا ہے اور منیجر سعید احمد اور عملے کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق پی آئی اے  کو غیر قانونی طور پر فلیٹس خریدنے کے الزام میں حکم دیا گیا ہے۔ پی آئی اے  نے 2005ء  میں نئی دہلی میں کھمبا روڈ پر چار فلیٹس خریدے تھے جن میں پی آئی اے   کا دفتر بھی شامل تھا۔ پی آئی اے   کے  منیجر سعید احمد کو ہراساں بھی کیا گیا اور عملے کے ساتھ زیادتی بھی کی گئی۔
پی آئی اے کے حالات کی بات کی جائے تو اس ایئرلائن کے حالات نجکاری کے لئے خراب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ قائمہ کمیٹی اس حوالے سے شدید غصے کی حالت میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بوئنگ 747  اور 737 کباڑ میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ جلد ہی سکریپ فروخت کر دئیے جائیں گے۔ دس نئے جہاز لیز پر لئے جا رہے ہیں۔ قائمہ کمیٹی نے کہا ہے کہ پی آئی اے کے حالات اس لئے خراب کئے جا رہے ہیں تاکہ نجکاری کی جا سکے کمپنی کے اقلیتی رکن عمران احمد شاہ نے کہا ہے کہ کیبن کریو اور گرائونڈ سٹاف کو احساس ذمہ داری نہیں۔ اب تو جس نے بددعا دینی ہو وہ یہی کہتا ہے کہ پی آئی اے میں سفر کر لو۔ ان کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ پر پیسے بٹورنے کا دھندہ چل رہا ہے ایم  ڈی فون کال اٹھاتے ہیں نہ ہی ان  کی طرف سے کوئی جواب موصول ہوتا ہے۔
امید  ہے کہ پی آئی اے آنے والے وقت میں اپنی سروسز کو مزید بہتری کی طرف گامزن کرے گی۔ لوگوں کو میسر سہولتوں کو بہتر بنانے کی مزید کوششیں کرے گی پی آئی اے  کو اپنا معیار بہتر کرنا ہو گا تاکہ لوگوں پر اس کا اچھا تاثر پڑے۔ لیز پر جہاز لینے کی بجائے اپنے جہاز خریدے تاکہ مسافروں کو سفر کے دوران اپنائیت کا احساس ہو۔